آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی نے گیارہ ہزار دو سو پچیس ارب ریال مالیت کے بارہ قومی منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے عشرہ کرامت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور امام رضا(ع) کی روایت پڑھتے ہوئے کہا کہ ’’جو شخص کسی مؤمن کی پریشانی دور کرے یا اس کے حالات میں آسانی پیدا کرے گا خداوند متعال قیامت کے دن اس کی مشکلات کو آسان فرمائے گا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن سب سے بہترین اجر یہی ہے کہ انسان کی پریشانیوں کو خدا آسان کرے، جتنا ہم اس دنیا میں کسی کی مشکل کو حل کریں گے قیامت میں خدا اتنی ہی ہمارے لئے بھی آسانی پیدا کرے گا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ پیغمبر گرامی اسلام(ص) سے سوال ہوا کہ بہترین لوگ کون ہیں؟ حضرت(ص) نے فرمایا کہ وہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچائیں اور لوگوں کی خدمت کریں ، ایسے افراد رسول مکرم اسلام(ص) کی نظر میں سب سے بہترین ہیں۔
آیت اللہ مروی نے سورہ رعد کی آیت نمبر117 کی تلاوت کرتے ہوئے کہاکہ خداوند متعال نے ان نیک کاموں کو جو لوگوں کی خدمت میں انجام دیئے جائیں پانی سے تشبیہ دی ہے پانی پر جو جھاگ بنتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے لیکن وہ پانی جو زمین کے اندر چلا جاتا ہے وہ باعث برکت ہوتا ہے حیات و زراعت کو جنم دیتا ہے عوامی خدمت بھی اسی طرح سے برکت و پائیداری رکھتی ہے ۔
آيت اللہ احمد مروی نے کہا کہ خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : «وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ»؛ ہم نے بنی آدم کو عزت و کرامت عطا کی، انسان کریم اور باعظمت پیدا کیا گیا اور اللہ نے انسان کو عزت و عظمت سے نوازا ہے ، حضرت امام علی رضا(ع) اللہ کی کرامت کا اعلیٰ ترین مظہر ہیں اور کرامت رضوی فاؤنڈیشن بھی آپ کے نام سے منسوب ہے ، یہ ایک ایسی فاؤنڈیشن ہے جو استطاعت کے مطابق لوگوں کی مشکلات کو حل کرتی ہے ۔
انہوں نے آئمہ معصومین (ع) کے طرز زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت امام رضا(ع) ظاہری طور پر موجود ہوتے تو وہ یقینا لوگوں کی مشکلات کو ہروقت حل فرماتےرہتے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھتے کیونکہ لوگوں کے مسائل حل کرنا اوران کی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارے آئمہ معصومین(ع) کے روزہ مرّہ کے کاموں میں شامل تھا ، ہم ایسے ادارے میں کام کرتے ہیں جو امام رضا(ع) سے منسوب ہے اس لئے ہم پر فرض ہے کہ ان کی پیروی کرتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی مشکلات کو آسان کریں اور ان کی خدمت کریں۔
آیت اللہ مروی نے آستان قدس رضوی کی جانب سے شادی کے رشتے میں منسلک ہونے والی لڑکیوں کے لئے جہیزکی فراہمی اور کئی دیگر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ اور امام رضا(ع) کے احسان مند ہیں کہ انہوں نے ہمیں لوگوں کی تھوڑی بہت خدمت کرنے کی توفیق دی ہے ہم کسی پر کوئی احسان نہیں جتاتے ہم نے اپنا فرض انجام دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہید رہبر(رح) ہمیشہ لوگوں پر توجہ دینے پر تاکید فرماتے تھے حتی وہ اپنے دفتری عملے سے فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص خط بھیجتا ہے اور کوئی درخواست کرتا ہے جسے پورا کرنا آپ کے لئے ممکن نہ ہو تو کم از کم اسے فون کر کے بتا دیجئے کہ آپ کا خط موصول ہوا ہے لیکن اسے پورا کرنا ممکن نہیں ہے ،لوگوں کے خطوط کو بغیر جواب نہیں چھوڑنا چاہئے اور جن درخواستوں کو پورا کرنا ممکن ہو ان کو فوری طور پر پورا کیا جائے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے حضرت امام خمینی(رح) کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی ایک بڑی نعمت اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے اس کام سے انسان کو ترقی ملتی ہے کمال اور قرب الہیٰ حاصل ہوتا ہے اس لئے لوگوں اور خاص طور پر کمزور و پسماندہ افراد کی امداد کے لئے ہر اقدام عمل صالح شمار ہوتا ہے ۔
آیت اللہ احمد مروی نے آستان قدس رضوی کی خدمت کرنے کے حوالے سے طے شدہ پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خدمت فقط حرم تک محدود نہیں ہے ہم جہاں بھی لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں اس جگہ کو حرم امام رضا(ع) سمجھتے ہیں اگر کوئی شخص بندر عباس، نہبندان یا دنیا کے کسی بھی کونے میں اللہ کی رضا کے لئے اور امام رضا(ع) کی جانب سے لوگوں کے لئے تھوڑا سا بھی کام انجام دیتا ہے تو وہ امام رضا(ع) کا خادم ہے ،خادم ہونے کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد لوگوں کو خود مختار بنانا ہے لوگ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کریں اور خود کام کے میدان میں اتریں ایک یا دو بار کی مدد اچھی ہے لیکن اس سے بھی اہم بات مستحقین کو خود مختاربنانا اور ان کو ان کے پیروں پرکھڑا کرنا ہے ۔
امریکی بالادستی ختم ہوچکی ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ ہم امریکہ کی اس مسلط کردہ جنگ کو فتح کے ساتھ ختم کریں گے ، اب تک بھی ایران ہی فاتح رہا ہے ،امریکہ اور اس کے بے رحم و سنگ دل اتحادی نے ایران پر حملہ کیا لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اورنہ ہی ہوگا۔
دشمن کو بری طرح نقصان ہوا ہے اس کی عزت و آبرو خاک میں مل چکی ہے امریکی بالادستی اور سپرپاور کا بھرم ٹوٹ گیا ہے ۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ اب وہ دن گزر گئے جب امریکہ جب چاہتا کسی بھی ملک پر فوج کشی کر کے اس ملک کو اپنے تسلط میں لے لیتا، امریکہ ایران میں پھنس چکا ہے اور ناکام ہوا ہے کیونکہ وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر آیت اللہ مروی نے جنگ کے بعد تعمیر نو میں عوامی کردارپر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے ، جیسا کہ ایرانی عوام اس وقت راتوں کو سڑکوں ، اسکوائرز اور چوراہوں پر موجود ہیں اور اس موجودگی کو حتمی نتیجے تک جاری رہنی چاہئے ، فتح کے بعد بھی انشاء اللہ ہم پوری طاقت تعمیرنو اور نقصان کو پورا کرنے پر لگائیں گے ، جیسا کہ ہمارے شہید رہبر(رح) نے فرمایا کہ اللہ نے اس قوم کے لئے مدد و نصرت کو مقدر کیا ہے انشاء اللہ اس عظیم، مہذب،بابصیرت اوراستقامت کرنے والی قوم کی طاقت، عظمت، عزت اور قوت میں روز بروز اضافہ ہوگا۔