آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ فقیہ اسفندیاری نے بارگاہ رضوی میں غیرملکی زائرین کے لئے خدماتی مراکز اور منظم سسٹم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’وقف و نذر‘‘ کے ذریعہ بین الاقوامی سطح پر رضوی بارگاہ کی شناخت کی راہ ہموار ہو رہی ہے ،غیرملکی زائرین کی فلاحی منصوبوں میں شرکت سے حرم امام رضا(ع) کے ساتھ ان کے جذباتی اورعقیدتی رشتے اورتعلق بہت ہی مضبوط ہورہے ہیں اور یہ زائرین اب مہمان کے درجے سے بالاتر ہوکر اہلبیت(ع) کے معارف اور تعلیمات کو فروغ دینے کے امرمیں برابر کے شریک ہوچکے ہیں ۔
دنیا بھر کے زائرین کے لئے بامقصد خدمات میں توسیع
آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے کہا کہ آج حرم امام رضا(ع) صرف ایرانی زائرین تک محدود نہیں ہے بلکہ مغربی ایشیاء برصغیر پاک و ہند، قفقاز،خلیج فارس کے ممالک، افریقہ، یورپ اور دنیا کے کئی دیگر مقامات سے عقیدت مندوں اور زائرین کا ایک سیلاب ہے جو ہر سال مشہد مقدس زیارت سے مشرف ہونے کے لئے آتا ہے ۔ آستان قدس رضوی نے ان عالمی تبدیلیوں کے پیش نظر داخلی زائرین کی میزبانی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زائرین کو خدمات فراہم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے ۔
غیرملکی زائرین کو درپیش مشکلات کے حل میں ادارہ وقف و نذر کا کردار
حجت الاسلام فقیہ اسفندیاری نے غیرملکی زائرین کو درپیش مشکلات منجملہ زبان اور شہری راستوں سے ناواقفیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی رضا(ع) کی موقوفات نے ان زائرین کی آمد کے لئے آسان بنیادی خدماتی مراکز اور ڈھانچے فراہم کئے ہیں جن میں سستے گیسٹ ہاؤسز مہمان خانوں کا قیام، کثیر لسانی رہنمائی کے مراکز کا قیام جن میں گائيڈ کی بھی خدمات ہوتی ہیں اور مختلف زبانوں میں ڈیجیٹل مواد کی تیاری وغیرہ شامل ہیں یہ تمام خدمات ادارہ موقوفات کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
زائرین کی میزبانی سے مشارکت تک کا سفر
حجت الاسلام اسفندیاری نے کہا کہ غیرملکی زائر آغاز میں اپنے آپ کو ایک عارضی مہمان سمجھتا ہے لیکن جب وہ کسی رواق کی توسیع میں اپنا حصہ ڈالتا ہے یا حرم کے اندر ضرورت مندوں کے لئے کوئی نذر متعین کرتا ہے تو اس کا احساس بدل جاتا ہے اب وہ خود کو مہمان نہیں سمجھتا بلکہ اس روحانی سلسلے کی تعمیر و تسلسل میں اپنے اپ کو شریک جانتا ہے اور ایک مہمان سے ایک فعال شریک میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔
مشترکہ خدماتی منصوبوں کے سائے میں امت رضوی کی تشکیل
آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کے معاون نے اس شراکت کے احساس کو ’’امت رضوی‘‘ کی تشکیل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نقطہ نظر میں قومیت،زبان اور نسل دوسرے درجے پر آجاتے ہیں اور جو چیزاولین اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ امام رضا(ع) سے قلبی تعلق ہے
ان کا کہنا تھا کہ وقف و نذر نے ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے جس میں افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان، یورپ اور افریقہ سے آنے والے زائرین نہ صرف نماز کی صفوں میں بلکہ انسانیت کی خدمت کے بڑے بڑے مشترکہ منصوبوں میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں اور یہی چیز آستان قدس رضوی میں بین الاقوامی سطح پر رضوی شناخت کا حقیقی مظہر ہے ۔