آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ جہاں مغربی میڈیا کا ایک طبقہ ایران کے خلاف جارحیت سے متعلق حقائق کو چھپانے کی کوشش میں مصروف ہے وہیں عالمی دانشوروں میں یکجہتی اور بیداری دیکھنے کو مل رہی ہے ،اس بار یورپ اورامریکہ کے متعدد علمی مراکز اور دانشور حلقوں نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے موجودہ حالات پر تجزیاتی اور تنقیدی موقف اختیار کیا ہے ۔
حقائق بیان کرنے میں دانشوروں کی ذمہ داریاں
Soas لندن یونیورسٹی میں عالمی تفکر اور تطبیقی فلسفہ کے پروفیسراورکیمبرج یونیورسٹی میں ہیوز ہال کے رکن پروفیسر آرشین ادیب مقدم نے محمد جواد استادی کے جواب میں کہا کہ مفکرین کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ طاقت کے سامنے حقائق اور سچائی بیان کریں۔
انہوں نے حالیہ حملوں کو غیرقانونی اور مجرمانہ قرار دیتے ہوئے انہیں امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا،جناب ادیب مقدم نے ایرانی عوام کی مزاحمت و استقامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو یونیورسٹیوں کی جانب سے درج کر کے بیان کیا جائے تاکہ یہ تجربہ ایک تاریخی دستاویز بن سکے۔
حملوں کے نتائج کا اسٹریٹجک تجزیہ
مؤرخ اورتری کونٹینینٹل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ویجے پرشاد نے اپنے تجزیے میں ان پالیسیوں کے اسٹریٹجک پہلوؤں کا جائزہ لیا اور امریکا کے فوجی مقاصد میں پائے جانے والے ابہامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان اقدامات کے ممکنہ اسٹریٹجک نتائج کی بابت خبر دار کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمت سفارت کاری، بین الاقوامی سیاست کے میدان میں ایران کے مقام کو مضبوط بنانے کا باعث بن سکتی ہے ۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت حملوں کے غیرقانونی ہونے پر تاکید
معروف ماہر عمرانیات اور اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر آرلی رسل ہوکشیاد نے اپنے جواب میں قانونی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوجی حملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کسی بھی منظوری کے بغیر انجام پایا، لہذا بین الاقوامی قانون کی رو سے یہ حملہ غیرقانونی سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے کئی علمی و عوامی حلقوں میں امریکہ کے اس حملے پر وسیع پیمانے پر مخالفت پائی جاتی ہے اور بہت سارے عالمی مفکرین ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی دانشوروں کی جانب سے یہ رد عمل ایک نئی فکری ہم آہنگی کی علامت ہے