آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ موقوفات اور عطیات کی نیک روایت اور حاج حسین آقا جیسے اہل فن و معرفت ، نیک اندیش اور بلند فکر و نظر کے حامل افراد کی بدولت تہران کے اس ثقافتی مرکز میں قران کریم کے قلمی نسخوں کا ایک بے مثال ذخیرہ اکٹھا ہو گیا جو ایران میں قرآن کریم کی کتاب و اشاعت کی تاریخ میں ایرانیوں کے فن کے محض ایک گوشہ کو ظاہرکرتا ہے ۔
یہ آثار قدمت،روش،قرآن نویسی، فن آرائش،کاغذ اور جلد کی اقسام جیسے متعدد پہلوؤں سے خاص اہمیت کی حامل ہیں اور ان میں سے بیشتر قرآنی نسخے ملک کےممتاز خوشنویسوں کے قلم سے کتابت کئے گئے ہیں۔
ذیل میں قارئین کو ملک کے چھے بڑے کتب خانے میں سے ملک نیشنل میوزیم اینڈ لائبریری میں موجود قرآن کریم کے نفیس قلمی نسخوں کا تعارف اور جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
تاریخی قدمت کے لحاظ سے نمایاں آثار
ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کے کمیاب،تاریخی اور نفیس قرآنی نسخوں میں سے صدر اسلام سے کوفی خط کوفی پر مشتمل قرآن کریم کے چند اوراق ہیں جنہیں چمڑے پر تحریر کیا گیا ہے ایک روایت کے مطابق یہ تحریرں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے منسوب ہیں ،یہ نسخہ صفوی بادشاہ ، شاہ اسماعیل دوم کی زیارتی تحریر سے بھی مزیّن ہے جو 984 ہجری قمری سے متعلق ہے ۔
اس کے علاوہ چوتھی صدی ہجری قمری سے متعلق کوفی خط کے قرآن کے چند اوراق جس کے کاتب کا نام معلوم نہیں ہے اور چمڑے پر تحریر کئے گئے ہیں ملک لائبریری کے دیگر تاریخی اور قیمتی آثار میں سے ہیں۔
اسی طرح پانچویں صدی سے متعلق بھی خط کوفی پر مشتمل قرآن کے چند اوراق لائبریری کے قرآنی خزانے میں موجود ہیں۔
درجہ اوّل کے قیمتی آرٹ پر مشتمل قرآنی نسخے
ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں بعض قرآنی نسخے نفیس اور قیمتی آرٹ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نہایت ممتاز اورنفیس نسخے شمار کئے جاتے ہیں ، ان میں سے ایک قرآن کریم ہے جو یاقوت مستعصمی کے خط نسخ میں تحریر ہے اور جس کی کتابت سنہ 680 ہجری قمری میں ہوئی ہے۔
اسی طرح قرآن کریم جو علاءالدین بن محمد حافظ تبریزی کے نسخ و ریحان خطوط میں سنہ 969 ہجری قمری میں لکھا گیا، اور قرآن کریم جو محمد ابراہیم قمی کے خط نسخ میں سنہ 1094 ہجری قمری میں تحریر ہوا، اس موقوفہ کے اعلیٰ درجے کے فنّی نفاست والے دیگر آثار میں شمار ہوتے ہیں۔
نیز محمد ہاشم بن محمد باقر اصفہانی (رقم: محمد علی اشرف) کے خط میں لکھا ہوا قرآن (1139 ہجری قمری)، عبداللہ بن عاشور الرنانی کی کتابت کردہ قرآن (1221 ہجری قمری)، محمد تقی بن محمد علی اصفہانی کی کتابت کردہ قرآن (1252 ہجری قمری)، محمد شفیع بن محمد اسماعیل وصال شیرازی کی کتابت کردہ قرآن (1255 ہجری قمری) اور سید محمد بقا اصفہانی کی کتابت قرآن کریم کا نسخہ (1299 ہجری قمری) بھی قابلِ ذکر ہیں۔ یہ نفیس فن پارے خط نسخ میں لکھے گئے ہیں۔
اس لائبریری کے دیگر قرآنی مجموعے میں غلام علی بن محمد رحیم اصفہانی کے خط نسخ میں تحریرہوا قرآن بھی موجود ہے جس کی جلد پر لطف علی صورتگر شیرازی نے روغنی پھولوں اور بیلوں سے کام کیا ہے یہ نسخہ 1271 ہجری قمری کا ہے ۔
مختلف ابعاد کے قرآنی نسخے
آپ قارئین کےلئے یہ بات دلچسپ ہو گی کہ ملک نیشنل لائبریری کے خزانے میں موجود سب سے سائز کے لحاظ سے بڑا قرآن کریم تیرہویں صدی ہجری قمری سے متعلق ہے جسے ایک نامعلوم کاتب نے خط نسخ میں تحریر کیا تھا۔
ان آثار میں عبد اللہ بن عاشورالرنانی کا خط نسخ میں تحریر کردہ قرآن جو 1209 ہجری قمری سے متعلق ہے نہ صرف فنی لحاظ سے خاص ہے بلکہ 4*7 سینٹی میٹر ابعاد پر مشتمل ہونے کی وجہ قیمتی اثر شمار ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ اس قرآنی مجموعے میں ایک ایسا قیمتی اثر بھی موجود ہے جو مختلف پہلوؤں سے بشمول تاریخی قدمت، فنی نفاست،ٹیکنیکل خصوصیات وغیرہ کے لحاظ سے منفرد ہے ، قرآن کریم کا یہ نسخہ دسویں صدی ہجری قمری میں ایک نامعلوم کاتب نے خط نسخ میں کانبالغ کاغذ پر 15*9/4 ابعاد کے ساتھ تحریر کیا اور اسکے تمام صفحات لاجورد کاغذ اور سونے سے مزیّن ہیں ،یہ قیمتی اثر خوبصورت کناروں سے مزیّن سرخ تیماج کی معرق کاری شدہ جلد میں مجلد ہے ۔
قرآنی مجموعے کو اکھٹے کرنے میں عطیات و موقوفات کا کردار
اس قیمتی قرآنی مجموعے میں کچھ ایسے نسخے ہیں جو حاج حسین آقاملک کی صاحبزادی محترمہ عزت الملک کو ہدیہ کے طور پر دیئے گئے تھے ،انہوں نے اپنے والد کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے یہ قرآنی نسخے وقف کر دیئے ۔
محترمہ عزت الملک کے عطیہ کردہ نفیس اور قیمتی نسخوں میں سے محمد شفیع بن علی عسکر ارسنجانی کے خط میں لکھا ہوا اور علی نقی شیرازی بن میرازا یوسف مذہب باشی کا ترجمہ شدہ قرآن شامل ہیں یہ رحلی سلطانی قرآن میرزا حسین خان صاحب دیوان کی درخواست پر مظفر الدین شاہ قاجار کے لیے کتابت کیا گیا تھا
محمد شفیع تبریزی کے خط نسخ میں لکھا ہوا قرآن (1246 ہجری قمری) جس کا زیر سطور ترجمہ نستعلیق خط میں ہے، اس مخیر خاتون کے عطیہ کردہ مجموعے کے دیگر نفایس میں شامل ہے۔ اس نسخے کی کتابت فریدون میرزا (عباس میرزا نائب السلطنت کے بیٹے) کے لیے کی گئي تھی ۔
اس کے علاوہ محقق معرب خط میں تحریر کردہ قرآن بھی اس قرآنی مجموعے کا حصہ ہے
واضح رہے کہ ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم کو 1316 ہجری شمسی میں حرم امام رضا(ع) کے لئے وقف کیا گیا اور یہ لائبریری مندرجہ ذیل پتہ «تهران، خیابان امام خمینی (رح)، خیابان سیتیر، خیابان یارجانی، خیابان ملل متحد (میدان مشق)» پر واقع ہے ۔