آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کی بہ نشر پبلیکیشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب مسعود فرزانہ نے اس نشست کےدوران جو مؤرخہ 6 مئی2026 بروز بدھ کو منعقد ہوئي ، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان نشستوں کو باقاعدہ جاری رکھا جائے جن میں رہبرشہید (رح) کے طرززندگی اورکتاب کی اہمیت کے حوالے سے ان کی ادبی شخصیت کو پہچاننے کی کوشش ہو۔
انہوں نے حالیہ پرآشوب زمانے اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے رہبرشہید انقلاب اسلامی کے طرزعمل پر توجہ دینے کو معاشرے کے لئے راہگشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح) ان منفرد شخصیات میں سے تھے جنہوں نے ایران میں کتاب خوانی کو فروغ دیا اور ایرانی معاشرے کو کتاب سے مانوس کرانے میں اہم کردار ادا کیا، اس لئے رہبرشہید انقلاب اسلامی کے ثقافتی اقدامات اور علمی، دینی اور ثقافتی تحریک کے احترام میں ان دانشوروں کے ساتھ گفتگو کا موقع فراہم کیا جائے جو ان کی فکر سے مکمل آگاہ ہیں اور یہ نشست اسی اہم مقصد کے حصول میں منعقد کی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ ان سلسلہ وار نشستوں کے انعقاد سے ملک میں ثقافتی بنیادی ڈھانچے مزید مضبوط ہوں گے اور اس طرز سلوک کو مزید پہچاننے اور ثقافتی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
شہید رہبر(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی فکر میں کتاب کی اہمیت
حوزہ ہنری انقلاب کے سابقہ سربراہ،محقق اور مصنف جناب محسن مؤمنی شریف نے نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح) کے نزدیک کتاب محض ایک مطالعاتی ذریعہ نہیں تھی بلکہ یہ تاریخ سے آگاہی،معاشرے کی شناخت اور فکری و تہذیبی تبدیلیوں کو سمھنے کا ایک بنیادی ذریعہ تھی، جس نے ان کے بنیادی اور افق گشا نقطہ نظر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ رہبرشہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے علمی و فکری پہلو میں ایک اہم پہلو جس پر بہت کم ہی بات ہوئی ہے وہ روشن خیالی سے ان کا تعلق اور اسلامی فکر میں اس کی صحیح تعریف ہے ،یہ لفظ جو معنی کے لحاظ سے کئی تبدیلیوں سے گزرچکا ہے اور آج جو کچھ ملک کے فکری ماحول میں اس عنوان سے جانا جاتا ہے ضروری نہیں کہ وہ صحیح اور مطلوبہ مفہوم سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے کہا کہ روشن خیالی کی تعریف پر نظرثانی کی ضرورت ہے ،اس کےاصل مفہوم میں روشن خیال وہ ہے جو ایک طرف دنیا اور اپنے وطن کی تاریخ کو جانتا ہو اور دوسری طرف عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں اپنے معاشرے کے موجودہ مقام کو صحیح طور پر سمجھتا ہواور ان دو بنیادوں پر مستقبل کا خاکہ کھینچنے اور ویژن دینے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس لئے روشن خیالی فقط ثقافتی یا فنی مظاہر سے واقفیت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک بنیادی اور تہذیبی معاملہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) ان تینوں خصوصیات کے مالک تھے خصوصاً انہیں تاریخ اسلام اور تاریخِ عالم پر قابل ذکر عبور حاصل تھا ،انہیں اس سلسلے میں جزوی شناخت ناولوں اورافسانوی کتابوں کے مطالعہ سے حاصل ہوئی ، وہ افسانوی ادب کے ذریعہ معاشروں کے بارے میں نئے نئے نتائج حاصل کرتے تھے خصوصاً سماجیات اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے میں بہت مؤثر سمجھتے تھے ، اس لئے ان کی سفارشات کا ایک اہم حصہ ناول اور افسانے ، خاص طور پر تاریخی ناولوں پر مبنی تھا۔
رہبرشہید (رح) کی فکر میں تاریخ کا تجزیہ الہیٰ سنن پر مبنی تھا
جناب مومنی شریف نے کہا کہ انہیں تاریخِ ایران پر اس کے تمام اساطیری، پہلوانی اور حقیقی و عینی پہلوؤں میں گہری اور دقیق شناخت تھی۔ تاہم، اہم نکتہ یہ ہے کہ تاریخ کے بارے میں ان کا نقطہ نظر محض ایک بیانیہ یا وضاحتی نقطہ نظر نہیں تھا، بلکہ بطور ایک اسلامی مفکر، وہ تاریخ کا ایک گہرے زاویے سے اور الہیٰ سنن کی بنیاد پر تجزیہ کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ الہیٰ سنن وہ ثابت اور ناقابل تبدیل اصول ہیں جن کے ذریعے خداوند عالم کائنات کا انتظام چلاتا ہے اور ان کا سمجھنا تاریخی تبدیلیوں کے صحیح فہم میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔
عصر حاضر میں روشن خیالی کو نچلی سطح تک محدود کر دیا گیا ہے
جناب مؤمنی شریف نے روشن خیالی کے رائج مفہوم میں پائے جانے والے ضعف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج جسے روشن خیالی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ نہایت نچلی سطح کا مفہوم ہے گویا صرف شاعری اور افسانوں سے آگاہی یا فن کے میدان میں سرگرمی وغیرہ ہی روشن خیالی ہے جبکہ یہ مفہوم نہایت نچلی سطح کا مفہوم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی روشن خیالی تحریک کا ایک حصہ اہم سماجی و سیاسی تبدیلیوں کے سامنے خاموش ہے کیونکہ اسے ماضی کی صحیح شناخت اور حال کا درست ادراک نہيں ہے ، اس لئےوہ مستقبل کے تجزیے کی صلاحیت بھی کھو چکی ہے ۔
عوام کا ایک قوم و ملت میں تبدیل ہونا انقلاب اسلامی کے نتائج میں سے ہے
انہوں نے موجودہ صورتحال کا مطلوبہ نمونے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح) اصلی روشن خیال کا نمونہ تھے ایسے روشن خیال جو اپنی قوم کو جانتے تھے اور اسی بنیاد پر ایرانی عوام کے بارے میں حقیقت کے عین مطابق فیصلہ کرتے تھے،یہی خصوصیت حضرت امام خمینی(رح) کی شخصیت میں بھی واضح طور پر دیکھی گئی تھی،شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ امام کا سب سے بڑا کمال عوام کو ایک قوم میں تبدیل کرنا تھا ، ایسی قوم جو مسلسل چار دہائیوں سے میدان میں حاضر رہی ہے ۔
بہ نشر پبلیکیشنز کے بورڈ ممبر نے کہا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح)اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اسی بنیاد پر ایرانی قوم سے امید رکھی ہوئی تھی ایسی امید جو روشن خیالی کی بہت ساری تحریکوں میں کم دیکھی جاتی ہے ۔
انہوں نے کتاب کے موضوع پر شہید رہبر(رح)سے متعلق ایک عام غلط فہمی کا ذکر کیا کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ صرف دفاع مقدس سے متعلق ادب میں دلچسپی رکھتے تھے جب کہ حقیقت اس سے کہیں وسیع تر ہے ،ان کا علوم انسانی یامعاشرتی علوم کے شعبے میں مطالعہ بہت وسیع اور گہرا تھا ان کی ذاتی لائبریری ملک کی اہم لائبریریوں میں سے ایک ہے ۔
رہبرشہید معظم انقلاب اسلامی(رح) کی دفاع مقدس کے ادب پر خاص توجہ کی دلیل
جناب مؤمنی شریف نے کہا کہ رہبرشہید کی دفاع مقدس کے ادب پر خصوصی توجہ کی دلیل’’ایرانی قوم‘‘ کی گہری شناخت تھی وہ یقین رکھتے تھے کہ ایرانی قوم کی حقیقت اور روح، دفاع مقدس کے زمانے میں نمایاں طور پرظاہر ہوئی ہے ، البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادب کے دیگر شعبوں پر توجہ نہیں کرتے تھے ، ہر وہ کام جو ایرانی شہری اور ایرانی دنیا کو صحیح طور پر پیش کر سکے وہ ان کی توجہ کے دائرے میں آتا۔
اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رہبرشہید معظم انقلاب اسلامی(رح)کا کتاب اور ادب کے بارے میں نقطہ نظر ایک بنیادی اور تہذیبی نقطہ نظر تھا جو کتاب کو محض ثقافتی وسیلہ کے طور پر نہیں بلکہ انسان اورمعاشرے کی شناخت اور جدید اسلامی تہذیب کے حصول کی راہ میں آگے بڑھنے کے لئے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے تھے۔