آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : ۲۶۴
۲۲:۳۳

۲۰۲۶/۰۵/۲۴

حضرت امام علی رضا(ع) کی ضریح مطہر اور سنگِ مزار کی تاریخ کا اجمالی جائزہ

mor
آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر رضا نقدی سے ہونے والی گفتگو میں  حضرت امام رضا علیہ السلام حرم  کی ضریح مطہر کی تاریخی تبدیلیوں بشمول لکڑی اور دھات کی ضریح کی تنصیب سے لے کر موجودہ سنگِ مزار تک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ روضہ منورہ امام رضا(ع) ہمیشہ سے عقیدت مندوں اور ماہرین فنون کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور انہوں نے نفیس صندوقوں اور منفرد سنگِ مزار کے ذریعے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے ،اسی پس منظر میں ہم نے ڈاکٹر رضا نقدی سے گفتگو کی ہے جنہوں نے برسوں حرم امام رضا(ع) کی تاریخ اور ساخت و ساز پر تحقیق کی ہے ۔
انہوں نے حرم شناسی کےموضوع پر متعدد مقالات اور کتابیں شائع کی ہیں اور ضریح اور سنگِ مزار سے متعلق ان کی مفصل کتاب بھی زیر طبع ہے ،ذیل میں قارئین کے لئے مکمل گفتگو پیش کی جا رہی ہے : 
سنگِ مزار امام رضا(ع) کی تاریخ پر مختصراً روشنی ڈالیں؟
موجودہ تاریخی ماخذ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت امام علی رضا(ع) کی قبر مطہر پر تاریخ کے مختلف ادوار میں صندوق اور ضریحیں نصب رہی ہیں لیکن پہلی پہلوی حکومت کے دور تک امام رضا(ع) کی قبر مطہر پر سنگِ مزار موجود نہیں تھا بلکہ فقط ایک صندوق اور ضریح تھی۔ 
کیوں حضرت کی قبر مطہر پر سنگِ مزار نہیں تھا؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ امام رضا(ع) اتنے مشہور تھے کہ ان کی قبر مطہر پر پتھر نصب کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور دوسری بات یہ کہ تیموری دورحکومت سے پہلے زیادہ تر مشہور شخصیات اور بزرگان کی قبروں پر صرف چبوترا یا صندوق ہوتا تھا ،صفوی دورحکومت کے بعد سے سرداب میں ضریح، سنگ مزار اور قبر مطہر کے صندوق تبدیل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ 
‌آپ نے سرداب کا ذکر کیا،یہ سرداب کب سے ہے؟
اس بارے میں پہلی خبر چوتھی صدی ہجری سے متعلق ہے جو کتاب عیون اخبار الرضا(ع) میں ملتی ہے اس میں شیخ صدوق(رح) نے امام رضاعلیہ السلام کی تدفین کی مناسبت سے سرداب کا ذکر کیا ہے کہ دفن کے وقت امام (ع) کی قبر کے نیچے سات سیڑھیاں کھودی گئی تھیں۔ 
امام (ع) کی قبر پر پہلا صندوق کس دور حکومت سے متعلق ہے ؟
یہ واضح نہیں ہے کہ حضرت امام علی رضا(ع) کی تدفین کے بعد چوتھی صدی ہجری تک مزار پر کوئی صندوق یا ضریح موجود تھی یا نہیں تاہم زیارت اور روضہ منورہ کے اطراف میں شیعوں اور سادات کی سکونت کو دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ تیموری دور سے پہلے بھی قبر مطہر پر صندوق موجود رہے ہوں گے اور چوتھی صدی کے آخر میں صندوق نصب کرنے کے سلسلے میں ایک طرح کا مقابلہ بھی سامنے آیا ،البتہ ایک زمانے میں شیعوں نے اس صندوق کی تنصیب کے حوالے سے مخالفت بھی کی تھی جو ہارون الرشید کی قبر پر رکھا جانا تھا۔ 
مشہور اور تاریخی صندوق جیسے انوشیروان اور شاہ عباسی کے صندوق کے بارے میں وضاحت فرمائیں؟
چھٹی صدی ہجری میں انوشیروان جو کہ زردشتی دین کا پیرو تھا اور خوارزم کے بادشاہ کا قاصد تھا اس نے چاندی کے اوراق والا ایک صندوق امام کی قبر مطہر پر نصب کروایا،اور اس نے یہ کام اپنی نذر پوری ہونے پر کیا تھا اسے حرم میں برص کی بیماری سے شفا حاصل ہوئی تھی، یہ صندوق صفوی دور تک باقی رہا ،یہاں تک کہ شاہ عباس اول نے 1022 ہجری قمری میں فوفل کی لکڑی سے تیار کردہ ایک نیا صندوق نصب کروایا جس پر منبت کاری شدہ سونے کے اوراق لگے ہوئے تھے اور اس پر علیرضا عباسی کے خط میں کتبے نصب تھے ۔ 
یہ صندوق 1311 ہجری شمسی میں بہت زیادہ بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا اور اس کے طلائی کتبے اس وقت حرم مطہر امام رضا(ع) کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔ 
بعد میں سنگِ مزار اور صندوقوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں؟
شاہ عباسی صندوق کے ہٹائے جانے کے بعد شاندیز کے لیمویی مرمر سے بنا ایک صندوق، جسے حسین حجارباشی زنجانی نے تیار کیا تھا، 1311 ہجری شمسی میں امام(ع) کے سرداب پر نصب کیا گیا۔ یہ صندوق 14 ٹکڑوں پر مشتمل تھا اور اس میں خاص بات یہ تھی کہ روشنی اس کے اندر سے گزرتی تھی۔ 
آخر کار2000 میں ضریح امام رضا(ع) کی تبدیلی کے وقت سبز مرمر یا یشم کا ایک پتھر اس جگہ پر نصب کیا گیا ،یہ پتھر ایرانی ثقافت میں خاص قداست کا حامل ہے ، اس پتھر کے لئے بہت زیادہ تلاش کی گئی جسے آخر کاریزد شہر کی کان سے حاصل کیا گیا یہ پتھر 35 ٹن کا تھا جسے مشہد مقدس منتقل کرنے کے بعد آستان قدس رضوی کے تجربہ کار انجینئر رضا دیشیدی نے ڈیزائین کیا اور اسے شش ضلعی اور دقیق ریاضیاتی تناسب کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔ 
موجودہ سنگِ مزار اور کتبوں کے فنی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں؟
اس پتھر کی حجاری بابک مسعودی زنجانی نے دوبرس میں انجام دی اور حکاکی کا کام روایتی اصولوں کے مطابق انجام دیا، اس پتھر پر پائی جانے والی خط ثلث کی عبارات استاد سید محمد حسینی موحد نے تحریرکی جبکہ فارسی اشعار نستعلیق خط میں انجینئر محمد علی شریعتی سرابی نے تحریر کئے۔ 
ان کتبوں پرسورہ والفجر، سورہ احزاب، سورہ صافات اور سورہ نساء کی آیات تحریر کی گئیں، اس کے علاوہ جامی کے اشعار اور ایک تاریخی کتیہ بھی اس پر نقش ہے جس میں امام رضا(ع) کا تعارف، تاریخِ ولادت اور شہادت کا بھی ذکر موجود ہے ۔ 
اس پتھر پر ابھرے ہوئے نقوش تانبے کی دھات سے کاٹ کر بنائے گئے جن پر بعد میں طلا کاری کی گئی اور پھر انہیں پتھر پر نصب کیا گیا،سبز اور سنہری رنگوں کا یہ امتزاج نہایت دلکش اور منفرد ہے ،یہ پتھر جس کا وزن نصب کے وقت 3600 کلو گرام تھا چودہ ذی القعدہ 1421 ہجری قمری کو رہبر معظم انقلاب اسلامی کی موجودگی میں قبر مطہر پر نصب کیا گیا۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • پیشنهاد سردبیر
  • تازہ ترین خبریں۔
پاکستانی زائرین کے ایک گروپ کا حرم امام رضا(ع) میں منعقدہ ’’رواق خدمت‘‘ نمائش کا دورہ عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد عید غدیر کے دن حرم امام رضا(ع) میں غدیر کے اعمال کی ادائیگی باب الحوائج(ع) کا یوم ولادت باسعادت اور آپؑ کی لازوال میراث کی تجلی رضوی لائبریری میں حضرت امام علی(ع) سے منسوب دعا و مناجات کے 508 سالہ قدیمی قلمی نسخے سے نقاب کشائی حرم امام رضا(ع) کے ولایت ہال میں عید غدیر کے جشن کا انعقاد شب عید غدیر کے موقع پر حرم امام رضا(ع) کی پھولوں سے سجاوٹ حرم امام رضا(ع) میں’’نصر من اللہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی پروگرام کا انعقاد سرخس؛ بین الاقوامی ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری کا سنہری دروازہ عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کی پھولوں سے سجاوٹ اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و اقتدار؛ولایت سے تمسک اور قومی یکجہتی کا نتیجہ ہے ؛ آیت اللہ احمد مروی روضہ منورہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی جانب سے حرم رضوی کو غدیری پرچم ہدیہ کیا گیا حرم امام رضا(ع) میں عرب زبان زائرین کے لئے دعائے عرفہ کے مراسم ’’زیرسایہ خورشید‘‘ کاروان کے تحت پاکستان میں امریکی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کاروان ’’زیر سایہ خورشید‘‘ کی پاکستان کے شہر حیدرآباد میں ہونے والی نماز جمعہ میں شرکت رہبرِشہید معظم انقلاب اسلامی ؛ اصلی روشن خیالی کا نمونہ تھے 2026 میں قالین کی پیداوار اور تجارت میں توسیع، آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کا ایجنڈا  ملِک نیشنل لائبریری کا خزانہ؛ کاتبانِ کلام وحی کے تخلیقاتی فن کا محافظ ایران کی ’’جنوبی بندرگاہوں کا جغرافیہ‘‘ نامی کتاب کے اشاعتی منصوبے کا آغاز پانچ براعظموں سے مشرف ہونے والے زائرین کی میزبانی کے لئے رضوی موقوفات اہم خدماتی مراکز پاکستان; مقاومتی محاذ کا طاقتور بازو ہے ؛ حجت الاسلام امینی خواہ