آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ روضہ منورہ امام رضا(ع) ہمیشہ سے عقیدت مندوں اور ماہرین فنون کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور انہوں نے نفیس صندوقوں اور منفرد سنگِ مزار کے ذریعے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے ،اسی پس منظر میں ہم نے ڈاکٹر رضا نقدی سے گفتگو کی ہے جنہوں نے برسوں حرم امام رضا(ع) کی تاریخ اور ساخت و ساز پر تحقیق کی ہے ۔
انہوں نے حرم شناسی کےموضوع پر متعدد مقالات اور کتابیں شائع کی ہیں اور ضریح اور سنگِ مزار سے متعلق ان کی مفصل کتاب بھی زیر طبع ہے ،ذیل میں قارئین کے لئے مکمل گفتگو پیش کی جا رہی ہے :
سنگِ مزار امام رضا(ع) کی تاریخ پر مختصراً روشنی ڈالیں؟
موجودہ تاریخی ماخذ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت امام علی رضا(ع) کی قبر مطہر پر تاریخ کے مختلف ادوار میں صندوق اور ضریحیں نصب رہی ہیں لیکن پہلی پہلوی حکومت کے دور تک امام رضا(ع) کی قبر مطہر پر سنگِ مزار موجود نہیں تھا بلکہ فقط ایک صندوق اور ضریح تھی۔
کیوں حضرت کی قبر مطہر پر سنگِ مزار نہیں تھا؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ امام رضا(ع) اتنے مشہور تھے کہ ان کی قبر مطہر پر پتھر نصب کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور دوسری بات یہ کہ تیموری دورحکومت سے پہلے زیادہ تر مشہور شخصیات اور بزرگان کی قبروں پر صرف چبوترا یا صندوق ہوتا تھا ،صفوی دورحکومت کے بعد سے سرداب میں ضریح، سنگ مزار اور قبر مطہر کے صندوق تبدیل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ۔
آپ نے سرداب کا ذکر کیا،یہ سرداب کب سے ہے؟
اس بارے میں پہلی خبر چوتھی صدی ہجری سے متعلق ہے جو کتاب عیون اخبار الرضا(ع) میں ملتی ہے اس میں شیخ صدوق(رح) نے امام رضاعلیہ السلام کی تدفین کی مناسبت سے سرداب کا ذکر کیا ہے کہ دفن کے وقت امام (ع) کی قبر کے نیچے سات سیڑھیاں کھودی گئی تھیں۔
امام (ع) کی قبر پر پہلا صندوق کس دور حکومت سے متعلق ہے ؟
یہ واضح نہیں ہے کہ حضرت امام علی رضا(ع) کی تدفین کے بعد چوتھی صدی ہجری تک مزار پر کوئی صندوق یا ضریح موجود تھی یا نہیں تاہم زیارت اور روضہ منورہ کے اطراف میں شیعوں اور سادات کی سکونت کو دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ تیموری دور سے پہلے بھی قبر مطہر پر صندوق موجود رہے ہوں گے اور چوتھی صدی کے آخر میں صندوق نصب کرنے کے سلسلے میں ایک طرح کا مقابلہ بھی سامنے آیا ،البتہ ایک زمانے میں شیعوں نے اس صندوق کی تنصیب کے حوالے سے مخالفت بھی کی تھی جو ہارون الرشید کی قبر پر رکھا جانا تھا۔
مشہور اور تاریخی صندوق جیسے انوشیروان اور شاہ عباسی کے صندوق کے بارے میں وضاحت فرمائیں؟
چھٹی صدی ہجری میں انوشیروان جو کہ زردشتی دین کا پیرو تھا اور خوارزم کے بادشاہ کا قاصد تھا اس نے چاندی کے اوراق والا ایک صندوق امام کی قبر مطہر پر نصب کروایا،اور اس نے یہ کام اپنی نذر پوری ہونے پر کیا تھا اسے حرم میں برص کی بیماری سے شفا حاصل ہوئی تھی، یہ صندوق صفوی دور تک باقی رہا ،یہاں تک کہ شاہ عباس اول نے 1022 ہجری قمری میں فوفل کی لکڑی سے تیار کردہ ایک نیا صندوق نصب کروایا جس پر منبت کاری شدہ سونے کے اوراق لگے ہوئے تھے اور اس پر علیرضا عباسی کے خط میں کتبے نصب تھے ۔
یہ صندوق 1311 ہجری شمسی میں بہت زیادہ بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا اور اس کے طلائی کتبے اس وقت حرم مطہر امام رضا(ع) کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔
بعد میں سنگِ مزار اور صندوقوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں؟
شاہ عباسی صندوق کے ہٹائے جانے کے بعد شاندیز کے لیمویی مرمر سے بنا ایک صندوق، جسے حسین حجارباشی زنجانی نے تیار کیا تھا، 1311 ہجری شمسی میں امام(ع) کے سرداب پر نصب کیا گیا۔ یہ صندوق 14 ٹکڑوں پر مشتمل تھا اور اس میں خاص بات یہ تھی کہ روشنی اس کے اندر سے گزرتی تھی۔
آخر کار2000 میں ضریح امام رضا(ع) کی تبدیلی کے وقت سبز مرمر یا یشم کا ایک پتھر اس جگہ پر نصب کیا گیا ،یہ پتھر ایرانی ثقافت میں خاص قداست کا حامل ہے ، اس پتھر کے لئے بہت زیادہ تلاش کی گئی جسے آخر کاریزد شہر کی کان سے حاصل کیا گیا یہ پتھر 35 ٹن کا تھا جسے مشہد مقدس منتقل کرنے کے بعد آستان قدس رضوی کے تجربہ کار انجینئر رضا دیشیدی نے ڈیزائین کیا اور اسے شش ضلعی اور دقیق ریاضیاتی تناسب کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔
موجودہ سنگِ مزار اور کتبوں کے فنی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں؟
اس پتھر کی حجاری بابک مسعودی زنجانی نے دوبرس میں انجام دی اور حکاکی کا کام روایتی اصولوں کے مطابق انجام دیا، اس پتھر پر پائی جانے والی خط ثلث کی عبارات استاد سید محمد حسینی موحد نے تحریرکی جبکہ فارسی اشعار نستعلیق خط میں انجینئر محمد علی شریعتی سرابی نے تحریر کئے۔
ان کتبوں پرسورہ والفجر، سورہ احزاب، سورہ صافات اور سورہ نساء کی آیات تحریر کی گئیں، اس کے علاوہ جامی کے اشعار اور ایک تاریخی کتیہ بھی اس پر نقش ہے جس میں امام رضا(ع) کا تعارف، تاریخِ ولادت اور شہادت کا بھی ذکر موجود ہے ۔
اس پتھر پر ابھرے ہوئے نقوش تانبے کی دھات سے کاٹ کر بنائے گئے جن پر بعد میں طلا کاری کی گئی اور پھر انہیں پتھر پر نصب کیا گیا،سبز اور سنہری رنگوں کا یہ امتزاج نہایت دلکش اور منفرد ہے ،یہ پتھر جس کا وزن نصب کے وقت 3600 کلو گرام تھا چودہ ذی القعدہ 1421 ہجری قمری کو رہبر معظم انقلاب اسلامی کی موجودگی میں قبر مطہر پر نصب کیا گیا۔