آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ گورنرغلام حسین مظفری نے آزاد تجارتی اور صنعتی علاقے سرخس کی باضابطہ سرگرمیوں کے آغاز کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں کہا کہ اس خطے میں باضابطہ سرگرمیوں کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنے میں تیس سال کا عرصہ لگ گیا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم معاشی ترقی کی راہ صحیح طرح سے طے نہیں کرسکے۔
انہوں نے آزاد علاقوں کے قیام کے ہدف کو معیشت میں سہولت کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں آزاد علاقوں کے قیام کو 75 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور دنیا اس وقت آزاد علاقوں کی چوتھی نسل کا تجربہ کر رہی ہے لہذا ہمیں ان مواقع سے بہترین انداز میں فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
انہوں نے بتایا کہ آزاد علاقوں کے اختیارات منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حاصل ہوتے ہیں حکومت اور دیگر اداروں کو سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہئے اور آزاد علاقوں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے پرہیز کرنی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بطور گورنر مجھے بھی ان علاقوں کے انتظامی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔
جناب مظفری نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد تجارتی اور صنعتی علاقے سرخس کو اس شہر کے عوام کے لئے مفید اور اس کی ترقی کا اثر شہریوں کی زندگی میں نمایاں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ خراسان رضوی 34 شہروں اور دو آزاد علاقوں کے کے حامل ہونے کی وجہ سے ملک کا ایک اہم معاشی مرکز ہے اور اس میں آزاد علاقے سرخس کا اہم کردار ہے ۔
جناب مظفری نے حمل و نقل کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو اعلیٰ معیار اور مناسب قیمت والی گاڑیاں فراہم کی جائیں ، انہوں نے ملکی ترقیاتی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برسوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ ملک کے مشرقی حصے کی صلاحیتوں اور توانائیوں سے کافی حد تک استفادہ نہیں کیا گیا اس لئے علاقائی منصوبہ بندی کے شعبے میں سنجیدگی سے نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔
خراسان رضوی کے گورنرنے کہا کہ تمام وسائل کو مشہد مقدس تک مرکوز نہ کیا جائے بلکہ ترقیاتی کاموں کو پورے صوبے میں تقسیم کیا جانا چاہئے ۔
انہوں نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کی معیشتیں بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں اور تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
گفتگو کے آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کہ دنیا میں معاشی تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہے اس لئے جتنی تیزی سے پروگراموں پر عمل درآمد ہوگا اتنی ہی جلدی نتائج حاصل ہوں گے اور اگر ہم ان تبدیلیوں سے پیچھے رہ گئے تو پیدا شدہ خلا کو پر کرنا بہت مشکل ہوگا۔