آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ عشرہ امامت و ولایت اور عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کے رواق غدیر میں ’’بانوی علوی‘‘ کے عنوان سے جشن کا خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں اردو زبان خواتین کی کثیر تعداد شریک ہوئی ،پروگرام میں واقعہ غدیر کو سیرت رضوی کی نظر سے بیان کیا گیا ۔
توحید کے تسلسل اور دین کی تکمیل کی شرط ولایت ہے
حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان اسلامک اسکالر محترمہ فاطمہ رضوی نے جشن کے اس پروگرام میں ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے امام رضا(ع) کی نظر سے ولایت کے مقام کو بیان کیا اور کہا کہ امام رضا(ع) نے اس آیت کے ذیل میں کہا کہ دین کی تکمیل اور نعمت کا مکمل ہونا علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، اس لئے غدیر کو توحید کے راستے کا تسلسل اور اس کی تکمیل سمجھنا چاہئے۔
واقعہ غدیر میں ’’اکمال‘‘ اور ’’اتمام‘‘ کا فرق
محترمہ فاطمہ رضوی نے شہید مرتضیٰ مطہری کے افکار کی روشنی میں آیت غدیر میں استعمال ہونے والے دو الفاظ’’اکمال ‘‘ اور ’’اتمام‘‘ کے مابین فرق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’اتمام‘‘ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی چیز پہلے نامکمل ہو لیکن ’’اکمال‘‘ اس کیفیت پر دلالت کرتا ہے جو ایک مجموعے کو اثر اور حیثیت عطا کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کو امامت کے منصب پر فائز کرنے کا حکم ؛ دین کو مکمل کرنے کے ساتھ دین کے دیگر تمام اجزاء کے کمال کا سبب بنا کیونکہ امامت و ولایت ہی شریعت کی جان اور روح ہے ۔
یوم التبسم(خوشی کا دن)
انہوں نے امام رضا(ع) کے فرمان کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا(ع) نے اس دن کو ’’یوم التبسم‘‘ کہا ہے ،غدیر کا دن وہ دن ہے جس میں مومنین ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے اور مسکراتے ہیں ۔
واضح رہے کہ جشن کے اس پروگرام میں ’’دختران خورشید ہشتم‘‘ گروپ نے مل کر قرآن کی تلاوت کی اور ’’دختران مہر طوبیٰ‘‘ گروپ نے منقبت خوانی کی۔