آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : ۲۹۱
۱۷:۴۶

۲۰۲۶/۰۶/۰۶

باب الحوائج(ع) کا یوم ولادت باسعادت اور آپؑ کی لازوال میراث کی تجلی

ندختد
بیس ذی الحجہ کا دن حضرت امام علی رضا(ع) کا حرم اپنے بابا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام  کی ولادت کی خوشبو سے معطر ہے جو دردمندوں کی پناہ گاہ اور امت کے لئے ’’باب الحوائج‘‘ہے ۔

آج مشہد مقدس میں زائرین و مجاورین امام رضا(ع) کے حرم میں ایسے عبدِ خدا کی ولادت کا جشن منا رہے ہیں جس کا صبر، طرز زندگی اور وحدت کی نگاہ صدیوں سے اسلامی مذاہب کے مابین تعلق کا ذریعہ بنی ہوئی ہے ،اس باپ کے صبر و بردباری کی میراث آج ان کے برگزیدہ بیٹے کی طرف سے پوری امت مسلمہ کی مہمان نوازی کی صورت میں جلوہ گرہے ۔ 
حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) کے مقام و منزلت اور تعلیمات کا جائزہ لینے کے لئےعالمی اسمبلی اہل البیت کے چیئرمین  آیت اللہ محمد حسن اختری سے گفتگو کی جسے اجمالی طور پر قارئین کےلئے پیش کیا جا رہا ہے ۔
علمی مرجعیت؛اسلامی مذاہب کےپیروؤں کا مشترکہ نقطہ نظر
آیت اللہ اختری نے عبدالبر کی کتاب ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام موسی کاظم (ع) کو اہل سنت کی معتبر منابع میں نہ صرف ایک امین فقیہ کے طور پر، بلکہ علوم کے سمندر کے طور پریاد کیا جاتا ہے ۔ ابن عبدالبر انہیں بے مثال فضیلت والا قرار دیتے ہیں جس کے نام سے جعفری مذهب منسوب ہے (الاستیعاب، جلد 1)۔ یہ علمی اعتبار اتنا ہے کہ ابو نعیم اصفہانی نے "حلیۃ الاولیاء" میں امام کو "امام ناطق" کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا علم ایسے تھا جیسے نور جہالت کے اندھیروں کو مٹا دے (حلیۃ الاولیاء، جلد 3)۔
انہوں نے ابو حنیفہ کے ساتھ ہونے والے مناظروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب منصور عباسی نے ابوحنیفہ سے کہا کہ وہ امام سے چالیس پیچیدہ سوالات پوچھیں، تو امام کے جوابات اس قدر دقیق تھے کہ ابوحنیفہ نے اعتراف کیا کہ میں نے موسیٰ بن جعفر سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا، کیونکہ وہ نہ صرف فقہ جانتے تھے بلکہ تمام مذاہب کی آراء سے بھی آگاہ تھے ("مناقب ابی حنیفہ")۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ اہل سنت علما حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کو ایک علمی مرجع کے طور پر کیوں پہچانتے ہیں۔ یہاں تک کہ شافعی مذہب کے بانی، نے ایک شعر میں اس خاندان سے محبت کو باعث افتخار قرار دیا ہے جو مذاہب کے بڑے بڑے علماء میں امام کے علمی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے  ("تذکرۃ الاولیاء")۔
خالص بندگی ؛ کرامت اور دلوں کے تعلق کی تجلی گاہ
عالمی اہلبیت(ع) اسمبلی کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین نے کتاب’’تاریخ بغداد‘‘ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ امام(ع) کے زندان بان سے روایت ہے کہ جب بھی میں امام کی طرف دیکھتا، وہ سجدے میں ہوتے تھے۔ بندگی اور خشوع کا یہی جذبہ تھا جس کی وجہ سے اہل سنت کے معتبر منابع میں بھی امام کو "عبد صالح" کا لقب ملا۔ خطیب بغدادی نے ان کے حالات میں بارہا اس لقب پر زور دیا ہے (تاریخ بغداد، جلد 13)۔ یہ خالص بندگی ہی تھی جس نے امام کو تمام درد مندوں کا پناہ گاہ بنا دیا، یہاں تک کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی ان کی زبان شکر و استغفار کے سوا کچھ نہیں کہتی تھی، اور اسی روحانی عظمت نے ان کی ولادت کی رونق کو بندگی کے حقیقی نمونے کے طور پر تاریخ کے دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ 
آيت اللہ اختری نے حضرت امام موسی کاظم(ع) کی کرامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ابو علی خلال، جوکہ  حنبلی مذہب کے بڑے علما میں سے ہیں، انہوں نے اپنی کتاب "حلیۃ الاولیاء" میں صراحتاً کہا ہے کہ مجھے جو بھی مشکل پیش آئی، امام کاظم کے مزار پر توسل کرنے سے وہ دور ہوئی، اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی کی شدید بیماری کا علاج بھی اسی توسل کا نتیجہ قرار دیا (حلیۃ الاولیاء، جلد 3)۔ ایک ممتاز حنبلی عالم کا یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ "باب الحوائج" کا لقب صرف ایک مذہبی عنوان نہیں ہے، بلکہ مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ایک ایسی  حقیقت ہے جو صدیوں سے پوری اسلامی دنیا میں لاکھوں مسلمانوں کے درمیان امید اور ربط کا ذریعہ بنی ہوئی ہے، اور آج بھی ان کے بیٹے حضرت رضا (ع) کی بارگاہ میں، مشکل کشائی اور کرامت کی وہی روایت جاری ہے۔

امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے سیاست میں تشدد سے دوری
آیت اللہ اختری نے سبط بن جوزی کی کتاب’’تذکرۃ الخواص‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام کاظم (ع) کی عظمت اتنی تھی کہ یہاں تک کہ ہارون الرشید جیسے سخت دشمن نے مامون کو لکھے گئے ایک خط میں اعتراف کیا کہ موسیٰ بن جعفر زمین پر خدا کی حجت ہیں اور ان کا علم آسمان میں جڑا ہوا ہے (تذکرۃ الخواص)۔ امام (ع) نے برسوں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود تشدد کا راستہ نہیں اپنایا، بلکہ وکالت اور نمائںدگی کے ایک بہترین نظام اور علی بن یقطین جیسی شخصیات کے دربار میں اثر و رسوخ کے ذریعے، مزاحمت کا نمونہ انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ یہ خیرخواہانہ انتظامی حکمت عملی، مالک بن انس کی "الموطأ" جیسی قدیمی کتب میں بھی درج ہے۔
انہوں نے امام کی سیرت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  امام (ع) نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں اس بات پر زور دیا کہ حق بات کہو، چاہے وہ تمہارے اپنے نقصان میں ہی کیوں نہ ہو ("تحف العقول")۔ یہ اخلاقی تعلیمات ذاتی مفادات پر امت کی وحدت کو ترجیح دینے کی عکاس ہیں۔ یہ ایک قیمتی ورثہ ہے اور آج کی اسلامی دنیا کے لیے ایک بہترین سبق ہے۔
کرامات سے امت کے اتحاد تک کا لازوال ورثہ
آیت اللہ اختری نے کتاب ’’شذرات الذھب‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے امام کاظم(ع) کو مقاومت و مزاحمت کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ابن عماد حنبلی نے اس کتاب میں زور دے کر کہا ہے کہ امام کاظم (ع) کا مزار ہر بے کس و ناچار انسان کی پناہ گاہ ہے ("شذرات الذہب")۔  
سبط بن جوزی نے ’’تذکرۃ الخواص‘‘ میں لکھا ہے کہ وداع کے دن بغداد کے لوگ  بلاتفریق مذہب و ملت وقوم  اس قدر اکھٹے ہو کر سوگ میں بیٹھے گویا پورا شہر کسی ایک فرزند کے غم میں رو رہا ہے ،یہ وہ منظر تھا جس نے امت مسلمہ کے اتحاد کی ایک ناقابل فراموش تصویر تاریخ میں ثبت کر دی(تذکرۃ الخواص)۔
انہوں نے ’’اصول کافی‘‘ کی ایک حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام کاظم (ع) کا فرمان کہ "لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں"، آج کے اختلافات کے لیے ایک واضح جواب ہے (اصول کافی)۔ ابن تیمیہ کا "منہاج السنۃ" میں یہ اعتراف کہ موسیٰ بن جعفر (ع) بنی ہاشم کے سب سے بڑے عابدوں میں سے تھے، خود اس دعوے کی دلیل ہے۔ جب ناقدین بھی ان کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں اور عطار نیشاپوری انہیں عرفاء کا پیشوا قرار دیتے ہیں، تو امام (ع) کی سیرت مذاہب کے درمیان گفتگو کے لیے بہترین بنیاد ہے۔ جیسا کہ مصر کی  الازہر یونیورسٹی نے بھی آپ(ع) کے کردار پر ایک کتاب شائع کر کے اتحاد میں ان کی اہمیت پر زور دیا ہے ("منہاج السنۃ"، "تذکرۃ الاولیاء")
گفتگو کے آخر میں آیت اللہ اختری نے کتاب ’’مطالب السؤول‘‘ سے ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابو علی خلال کا اعتراف، جو حنبلی مذہب کے پیشوا تھے، کہ امام کاظم (ع) سے توسل نے ان کی زندگی کی گرہیں کھول دیں، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اہل بیت (ع) سے محبت مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر دلوں کو آپس میں جوڑتی ہے ("مطالب السؤول")۔ یہ اعلیٰ سیرت امام کی دعا و مناجات میں بھی ظاہر ہے۔ جیسا کہ کتاب "مصباح المتہجد" میں آیا ہے کہ امام (ع) اپنی مناجات میں متقین کے مرتبے تک پہنچنے کی دعا مانگتے تھے تاکہ یہ ظاہر کریں کہ انسانی کمال، تقویٰ اور بندگی کے سائے میں حاصل ہوتا ہے، نہ کہ تفرقہ اور برتری کی چاہ میں ("مصباح المتہجد")۔ آج امام موسی کاظم (ع) کا مبارک نام رحمت کی بارش کی مانند ہے جو اختلافات کی راکھ دھو سکتی ہے اور اس دنیا میں جو تفرقہ کی آگ میں جل رہی ہے، امید اور وحدت کے پھول کھلا سکتی ہے۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • پیشنهاد سردبیر
  • تازہ ترین خبریں۔
پاکستانی زائرین کے ایک گروپ کا حرم امام رضا(ع) میں منعقدہ ’’رواق خدمت‘‘ نمائش کا دورہ عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد عید غدیر کے دن حرم امام رضا(ع) میں غدیر کے اعمال کی ادائیگی باب الحوائج(ع) کا یوم ولادت باسعادت اور آپؑ کی لازوال میراث کی تجلی رضوی لائبریری میں حضرت امام علی(ع) سے منسوب دعا و مناجات کے 508 سالہ قدیمی قلمی نسخے سے نقاب کشائی حرم امام رضا(ع) کے ولایت ہال میں عید غدیر کے جشن کا انعقاد شب عید غدیر کے موقع پر حرم امام رضا(ع) کی پھولوں سے سجاوٹ حرم امام رضا(ع) میں’’نصر من اللہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی پروگرام کا انعقاد سرخس؛ بین الاقوامی ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری کا سنہری دروازہ عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کی پھولوں سے سجاوٹ اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و اقتدار؛ولایت سے تمسک اور قومی یکجہتی کا نتیجہ ہے ؛ آیت اللہ احمد مروی روضہ منورہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی جانب سے حرم رضوی کو غدیری پرچم ہدیہ کیا گیا حرم امام رضا(ع) میں عرب زبان زائرین کے لئے دعائے عرفہ کے مراسم ’’زیرسایہ خورشید‘‘ کاروان کے تحت پاکستان میں امریکی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کاروان ’’زیر سایہ خورشید‘‘ کی پاکستان کے شہر حیدرآباد میں ہونے والی نماز جمعہ میں شرکت رہبرِشہید معظم انقلاب اسلامی ؛ اصلی روشن خیالی کا نمونہ تھے 2026 میں قالین کی پیداوار اور تجارت میں توسیع، آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کا ایجنڈا  ملِک نیشنل لائبریری کا خزانہ؛ کاتبانِ کلام وحی کے تخلیقاتی فن کا محافظ ایران کی ’’جنوبی بندرگاہوں کا جغرافیہ‘‘ نامی کتاب کے اشاعتی منصوبے کا آغاز پانچ براعظموں سے مشرف ہونے والے زائرین کی میزبانی کے لئے رضوی موقوفات اہم خدماتی مراکز پاکستان; مقاومتی محاذ کا طاقتور بازو ہے ؛ حجت الاسلام امینی خواہ