آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ صحن قدس میں داخل ہوتے ہی پہلی چیز جس نے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کی وہ دو بلند و بالا علم تھے جو رنگ برنگے کپڑوں سے سجے ہوئے تھے ۔ یہ علم افغانستان کے شیعوں کی عزاداری میں خاص اہمیت کے حامل ہیں اور حضرت اباافضل العباس علمدار(ع) کی بہادری و فضیلت کی علامت سمجھے جاتے ہیں ۔
فلسفہ عزت کی تبیین
عزاداری کے اس پروگرام کے دوران افغانستان کی جامعہ روحانیت کے ثقافتی سربراہ حجت الاسلام والمسلمین فرہاد روحانی نے قیام عاشورا کا تاریخی اور قرآنی پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہوئے ’’فرض شناسی‘‘ اور ’’عزت‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا ۔
انہوں نے قرآن کریم کی ان آیات کا جن میں بنی اسرائیل کی سماجی بے حسی کو معاشرے کے زوال کا سبب قرار دیا گیا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین (ع) نے اپنے قیام کے ذریعے تاریخ میں 'ہیهات منا الذلة' کی ثقافت کو نافذ اور رائج کیا تاکہ انسانیت کو یہ معلوم ہوسکے کہ معاشروں کی تقدیر ظلم اور بے حسی کے خلاف استقامت سے جڑی ہوئی ہے۔
امام روؤف کے جوار میں سات سالہ عقیدت
عزاداری کے اس پروگرام کے منتظم جناب یداللہ شیخ زادہ نے حرم امام رضا علیہ السلام میں عزاداری کے سات سالہ پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین خود کو امام رضا(ع) کی عنایت کے سائے میں جانتے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ علم لہرانے کی رسم پرانے خادموں اور بڑی بڑی ماتمی انجمنوں کے ذریعے منعقد کی جاتی ہے ، یہ رسم مہاجرافغانیوں کے مابین عاشورائی ورثے کے تحفظ کی علامت ہے جسے اس سال بھی مشہد مقدس میں انجام دیا گیا۔
آرٹ اور سوگ کے درمیان گہرے تعلق کے جلوے
عزاداری کے اس پروگرام کے ساتھ افغان لہجوں والے نوجوان بچوں کے فنی جلوے بھی نمایاں تھے ،افغان آرٹسٹ بچیاں پہلی بار حرم امام رضا(ع) میں کربلا کی سرخ آیات کی خطاطی میں مصروف تھیں اور سوگوار خواتین علم پر کپڑے باندھ کر حضرت عباس(ع) کے ساتھ اپنی قلبی محبت و عقیدت کا اظہار کر رہی تھیں۔
عزاداری کا یہ پروگرام خاص اہتمام کے ساتھ منعقد کیا گیا اور آخر میں چار شہداء کے اہلخانہ کو جن میں دو فاطمیون بریگیڈ کے اور دو مدافع حرم کے شہداء میں سے تھے خراج تحسین پیش کیا گیا ۔