آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حرم امام رضا (ع) ایک سادہ سوگواری کی رسم سے ہٹ کر مستقل بصری روایت کی طرف گامزن ہے،دیواروں پر بڑے بڑے تصویری بنرز اور اسٹریٹجک نعرے جیسے ’’اٹھ کھڑا ہونا چاہئے‘‘ اور’’خادم ِ خورشید کی حرم کی آغوش میں آمد‘‘بھی بنرز کی صورت میں آویزاں ہیں ، حرم کا ہر گوشہ ایک تاریخی موڑ کی حکایت کر رہا ہے ۔
آستان قدس رضوی نے حرم کو رہبرشہید کے پیکر کو وداع کی رسومات کے لئے تیار کرنے میں کوشش کی ہے کہ روایتی عزاداری اور سوگواری کی رسومات کو نمایاں طور پر شامل کیا جائے اور ساتھ ہی پیغام اور معنی کی ترسیل کے لیے جدید ماحولیاتی ابلاغی ذرائع کو بھی بروئے کار لایا جائے۔ اس کا نتیجہ ایک بصری داستان کی صورت میں نکلا ہے جس میں کتیبے، پرچم ، تصویری اسٹینڈز، دیوار پوشیاں اور بڑی دیوار نگاریاں، ہر کوئي ایک مشترکہ پیغام کا حصہ بیان کر رہے ہیں۔
وسیع پیمانے پر سیاہ پوشی اور دو ہزار میٹر رقبے پر کتیبے اور بنرز آویزاں
حرم امام رضا(ع) کی سیاہ پوشی کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے پرچموں اور کتیبوں کو بھی نصب کیا گیا ہے ان کتیبوں اور پرچموں کو دوہزار میٹر سے زائد رقبے پر نصب کیا گیا ہے ، یہ کتیبے مصروف راستوں اور اہم مقامات پر نصب کئے گئے ہیں جو زائرین کے لئے عاطفی کردار ادا کرتے ہیں ،یعنی زائر جب صحنوں اور ہالز سے گزرتاہے تو اسے مسلسل ایک داستان کا سامنا ہوتا ہے ۔
’’اٹھ کھڑا ہونا چاہئے‘‘ کے پیغام کی ترسیل
حرم امام رضا(ع) میں 140اسٹینڈ بورڈزنصب کئے گئے ،یہ مجموعہ بصری شناخت کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گيا ہے جس کا نعرہ’’اٹھ کھڑا ہونا چاہئے‘‘ ہے ، اس نعرے کو عربی، اردو اور انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ یہ
مؤثر پیغام کو ملکی اور غیرملکی زائرین تک پہنچ سکے۔
ان اسٹینڈز پر شہید رہبر معظم کی تصاویر نصب کی گئی ہیں اور بعض اسٹینڈذ پر حضرت امام خمینی(رح) کی تصویر دیکھی جا سکتی ہیں ،اس کے علاوہ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی تصاویر بھی ہیں ۔
حرم امام رضا(ع) میں تقریباً700میٹردیوارپر ڈیزائن عمل میں لایا گیا ہے اس دیوار کو شہید رہبر کی مختلف سالوں میں حرم امام رضا(ع) حاضری کی تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے آراستہ کیا گیا ہے ۔
فضا آرائی کا یہ حصہ ایک دستاویزی اور داستان گو پہلو رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک طرف ناظرین کے لیے ہم عصر ہونے اور جذباتی قربت کے احساس کو مضبوط کرتا ہے اور دوسری طرف حرم رضوی اور حالیہ تاریخ کے درمیان دیرینہ تعلق کا ایک بصری محفوظ شدہ مواد پیش کرتا ہے؛ خاص طور پر ان زائرین کے لیے جو ان دنوں ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے مشہد الرضا (ع) کی زیارت کو آ رہے ہیں۔
حرم کے کلیدی مقامات پر چار بڑی دیوار نگاریاں
شہید رہبر کی تشییع و تدفین کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کے کلیدی اور مرکزی مقامات پر چار بڑی دیوارنگاریاں بھی نصب کی گئی ہیں ،بست شیخ طوسی کی دیوار نگاری پر امام شہید کی بڑی تصویر حرم مطہر رضوی کے گنبد کے پرچم کے درمیان اور ’’نصر من اللہ وفتح قریب‘‘ کے نعرے کے ساتھ نصب کی گئی ہے ،یہی ڈیزائن صحن پیامبر اعظم(ص) کے شمالی ایوان میں بھی ہے ۔
اسی طرح صحن پیغمبر اعظم(ص) کی سو میٹر دیوار نگاری کو رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی تصویر سے مزیّن کیا جائے گا۔
باب الجواد (ع) کی نئی دیوار نگاری بھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور منصوبہ بندی کے مطابق، یہ کام شہید رہبر کی تصویر سے مزین ہو کر حرم مطہر کے اہم ترین داخلی راستوں میں سے ایک پر نصب کیا جائے گا تاکہ زائرین کے داخل ہوتے ہی فضا آرائی کے پیغام کی تسلسل کو مکمل کر سکے۔
امام رووف کے خادم کی حرم کی آغوش میں آمد
صحن انقلاب اسلامی کے ایوان طلائی پر بھی ’’خادم خورشید بہ آغوش حرم باز آمد‘‘(خورشید امامت کے خادم کی حرم کی آغوش میں آمد‘‘کے عنوان سے ایک کتیبہ نصب کیا جائے گا، یہ مختصر جملہ اپنے اختصار کے باوجود گہرا روحانی اور عاطفی وزن رکھتا ہے ۔
اس نورانی بارگاہ کا ہر آئینہ اور ہر تصویر اس بات کی گواہ ہے کہ ہدایت کا پرچم زمین پر نہیں گرے گا اور’’اٹھ کھڑا ہونا چاہئے‘‘ کا پیغام ولایت کی راہنمائی کے سہارے زائرین کے دلوں میں گونج اٹھے گا۔