آستان نیوز کے مطابق استان قدس رضوی کے پبلیکیشنز بہ نشر نے (( اقای شہید ایران )) نامی کتاب رہبرشہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ( رضوان اللہ تعالی علیہ ) کی تشییع جنازہ کے موقع پر شائع کردی جو انتہائي سادہ اور سلیس زبان میں ہے جلد کی ہرکتاب 110 صفحات پر مشتمل ہے ۔
(( مشت ایران ))، (( راضی بہ رضا )) ،(( رای ژوری )) اور (( اول وصف تو)) جملہ وہ آثار و کتب ہیں جو اس چارجلدی مجموعہ میں شامل ہیں ۔ یہ مطالب روایت گوئي، تحقیقی اور منتخب بیانات اور تقریروں کے قالب میں ہیں جن میں رہبر شہید کی زندگی ، انقلابی تحریک اور اس کے بعد کے ادوار میں ان کی انقلابی جد وجہد نیز ان کے نظریات و بیانات تحریری شکل میں لائے گئے ہیں ۔
(( اول وصف تو)) رہبرشہید ( رحمت اللہ علیہ ) کے ساتھ بے تکلف نشست اور بات چیت کی روایت اور داستان
(( اول وصف تو))؛ ایسی کتاب ہے جو روایت محور ہے اس کتاب میں ملیکا احمدی دستجردی نے انتہائي نایاب اور دلچسپ یادوں کو جمع کیا ہے جنھیں شاید کم ہی سنا یا دیکھا گیا ہوگا ۔ ان واقعات میں رہبرشہید کے ساتھ ادبی ، ثقافتی ، سماجی شخصیات اور شعرا کے ساتھ انتہائي پرتکلف ملاقاتوں کا ذکر کیا گيا ہے ان واقعات کو پڑھنے کے بعد رہبرشہید کی ایک الگ شخصیت سامنے آتی ہے کہ اتنے بڑے عہدے اورمنصب پر فائزہونے کے بعد بھی وہ کس طرح عوام کے درمیان رہتے تھے ۔
کتاب(( مشت ایران )) رہبرشہید کے افکار میں ایران دوستی کی روایت پر مشتمل
(( مشت ایران )) رہبرشہید آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ( رحمت اللہ علیہ) کی زندگی اور افکار میں ایران دوستی ، امنگوں اور ان کے انقلابی اقدامات کو بیان کرتی ہے ۔ یہ کتاب رہبرشہید انقلاب اسلامی کی انقلابی جد وجہد کی تاریخ اور ان کے بیانات کے اقتباسات پر مشتمل ہے ۔
کتاب (( راضی بہ رضا)) رہبرشہید کے بیانات میں حضرت امام رضا علیہ السلام کی سیرت پر ایک نظر
کتاب ((راضی بہ رضا )) رہبرشہید ( رحمت اللہ علیہ ) کے حضرت امام رضا علیہ السلام کی سیرت، ان کی تعلیمات و افکار اور سیاسی و ثقافتی جد وجہد کے بارے میں بیانات اور تقریروں کے اقتباسات پر مشتمل ہے اس کتاب میں رہبرشہید کی زبانی امام رضا علیہ السلام کے بارے میں ایسے مطالب بیان کئے گئے ہیں جن سے بہت کم لوگ آشنا ہوں گے ۔
کتاب (( رای ژوری )) رہبرشہید (رحمت اللہ علیہ ) کے بارے میں عالمی شخصیات کے نقطہ نظر
(( رای ژوری )) یہ کتاب ایک تحقیقی کتاب ہے جو دنیا والوں کی نگاہ میں رہبرشہید ( رحمت اللہ علیہ ) کی شخصیت ، افکار اور مواقف کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس کتاب میں رہبرشہید کے بارے میں دنیا کی اہم سیاسی ، شخصیات ، دانشوروں ، مفکرین اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نظریات اور خیالات کے کچھ گوشے ذکرکئےگئے ہیں ۔
کتاب کے مولف نے کوشش کی ہے کہ دنیا کی مختلف اقوام کی شخصیتوں کے رہبرشہید کے بارے میں خیالات کو قلم بند کرے اور یہ ثابت کرے کہ رہبر شہید کی شخصیت صرف ایران کی حدود تک محدود نہيں بلکہ ان کی شخصیت اور آپ کی شخصیت کے اثرات آفاقی تھے ۔
(( انیران )) فارسی زبان میں غیر ایرانی سرزمین کو کہتے ہیں اور کتاب کا عنوان رہبرشہید ( رحمت اللہ علیہ ) کے بارے میں غیرایرانی اقوام کے نظریات اور ان کے جذبات کی جانب واضح اشارہ ہے۔