لیکن آج کی رات، یہ گھڑی میرے لیے ایک اور ہی رنگ رکھتی ہے؛ رنگِ مقاومت، داغ دل اور شہیدوں کی یاد۔ مجھے رواق دارالرحمہ میں دعوت دی گئی ہے؛ مقاومت کی بیٹیوں سے ملاقات کے لیے۔ جس دن سے میں نے سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی خبر سنی ہے، میرے دل کو قرار نہ آیا۔
رواق(ہال) کے دروازے پر قدم رکھتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے ایران کے روحانی دارالحکومت سے جنوبی لبنان کے سفر پر نکل پڑی ہوں،ایسا سفر جس کا مقصد ایمان،استقامت اور مقاومت کی داستان ہے ۔
مشہد مقدس سے مقاومت لبنان تک کے سفر کا آغاز
جیسے ہی رواق دارالرحمہ میں داخل ہوئی ، دوخادم تعظیم و اکرام کے ساتھ ’’اہلاً وسھلاً‘‘ کہہ کر استقبال کرتے ہیں ،بس چند قدم ہی چلی تو ایسا محسوس ہوا جیسے جغرافیائی سرحدیں مٹ چکی ہیں اور میں بغیر مشہد سے نکلے لبنان پہنچ چکی ہوں۔
لبنان وہ سرزمین ہے جس کا نام مقاومت کے ساتھ جڑا ہوا ہے یہی وہ خطہ ہے جس نے شہید ثانی اور دیگر مجاہدین جیسے عظیم مجاہد مردوں کو جنم دیا ،جنہوں نے برسوں صیہونی حکومت کے سامنے استقامت کو اپنے عقیدے، فکر اور طرز زندگی کا حصہ بنایا۔
میرے لئے لبنان محض ایک ملک نہیں،بلکہ عالم اسلام کی طرف کھلنے والا ایک دروازہ ہے ایک ایسی سرزمین جہاں کے لوگوں نے زندگی، استقامت اور عزت کی بقا کے لئے اپنے شیعی عقائد اور ایمان کا سہارا لیا ہے ۔
لبنانی چادریں،لبنانی دوپٹے اور کندھوں پربسیجی چفیاں اوڑھے خواتین میرے ساتھ ہی رواق میں داخل ہوئیں، سامنے تین میزیں ہیں۔ درمیانی میز دوسری میزوں سے اونچی ہے اور اس پر کالا پرچم لہرا رہا ہے جس پر لکھا ہے: «أجرك الله يا صاحب الزمان (عج)»۔ اس کے پاس شہید رہبر کا وہ بڑی سی تصویر رکھی ہوئی ہے جب وہ حرم امام رضا (ع) کی غبارروبی کر رہے تھے، اور دو سرخ شمعیں، پھولوں کا ایک گلدان اور ایک مزین قرآن اس جگہ کو خاص جلوہ عطا کر رہے ہیں۔
رواق کا سرخ قالین، وہ ستون جن پر اہل بیت (ع) کے اذکار سے مزین پرچم لٹکے ہوئے ہیں، اور گلدان جس کے پھولوں کے درمیان حضرت ولی عصر (عج) کا نام نمایاں ہے،سب مل کر اس مجلس کو ایک منفرد روحانی ماحول دیتے ہیں۔
خواتین کے چہروں پر مقاومت کے آثار
کچھ خواتین چہروں پر نقاب پہنے ہوئے ہیں اور کچھ فقط لبنانی دوپٹوں اور چادروں میں آئی ہیں ،ہر خواتین کے پاس حزب اللہ اور شہید رہبر(رح) کی کوئی نہ کوئی علامت موجود ہے۔ وہ احتراماً شہید رہبر(رح) کی تصویر اٹھاتی ہیں اور اسے «لبیک یا خامنہ ای» کے پٹی سے مزیّن کرتی ہیں۔
ابھی یہ مناظر دیکھ ہی رہی تھی کہ میری نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی—اس کی خاموشی کسی بھی بات سے زیادہ مقاومت کے درد کی داستان بیان کر رہی تھی…
سرزمینِ مقاومت کی ایک بیٹی کی داستان
پہلے ستون کے پاس، دوسری خواتین سے دور، ایک لڑکی بیٹھی ہے۔ اس کا کالا بیگ، جس پر بنفشی رنگ کے چھوٹے پھول بنے ہیں، پاس رکھا ہے۔ اس بیگ کو رہبر، لبنانی مقاومت اور فلسطین کے پرچم کی پکسلز سے سجایا گیا ہے۔ اس نے ایک تصویر اپنی گود میں رکھی ہوئی ہے، گھٹنوں کو سینے سے لگائے، خاموشی سے اس تصویر کو دیکھ رہی ہے۔
شہادت کی انگلی پر ایک چھوٹی سی تسبیح ہے ،آہستگی سے آپنے لبنانی دوپٹے سے آنسوپونچھتی ہے،ہاتھ میں رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای(حفظہ اللہ تعالیٰ) کی تصویر ہے ،اس کے والد اور شوہر لبنان میں شہید ہوگئے تھے اور حالات کی وجہ سے وہ ان کے لئے شایان شان عزاداری بھی نہیں کر سکی۔
کہتی ہے کہ آج رہبر معظم کے الفاظ نے اس کے دل کو سکون دیا: «انتقام ہماری قوم کا مطالبہ ہے اور یقیناً ہونا چاہیے۔ عنقریب دنیا کے آزاد لوگ اس الٰہی مشن کا ایک حصہ انجام دیں گے۔»
یہ جملے سن کر میرے دل کو کچھ سکون ملتا ہے، لیکن جب وہ شہید رہبر کا ذکر کرتی ہے تو میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے ۔
اب آنسو روکنا میرے بس میں نہیں۔ میری نگاہ اس کی نگاہ سے ٹکراتی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر خاموشی سے روتی ہیں—ایسے آنسو جو داغدار دلوں کی مشترک زبان ہیں۔
تھوڑی دیر بعد میں اس سے فاصلہ لے کر دوسرے ستون کے پاس جا بیٹھتی ہوں، لیکن اس کی باتوں کا بوجھ میرے ساتھ ہے۔
رواق دارالرحمہ میں یسین کی آواز
آہستہ آہستہ رواق کی خاموشی قرآن کی آواز سے بدل جاتی ہے اور مجلس باضابطہ طور پر شروع ہوتی ہے۔
لبنان سے آئی ایک محجوب خاتون، استاد مصطفی اسماعیل کے انداز میں، دلکش لہجے کے ساتھ سورۂ مبارکہ «یس» کی تلاوت شروع کرتی ہے۔
تلاوت کے اختتام پر کلام کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو مجلس کا رنگ و روپ بدل لیتا ہے…
نوحہ خوانی شروع ہوتی ہے اور رواق کا ماحول عشق و محبت میں رنگ جاتا ہے۔ آنسو اور زیرِلب دعائیں مدغم ہو جاتی ہیں اور مجلس آہستہ آہستہ اختتام کی طرف بڑھتی ہے۔
مجلس کے اختتام پر، زینب نصراللہ، شہید سید حسن نصراللہ کی یادگار، بے تکلف دروازے کے قریب ایک گوشے میں بیٹھ جاتی ہیں۔ لبنانی خواتین ایک ایک ایک کر کے ان کے پاس آتی ہیں، ان کی پیشانی کو بوسہ دیتی ہیں اور وہ بھی ہر ایک کے احترام میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔
میں تھوڑا آگے بڑھتی ہوں۔ مختصر گفتگو کا موقع ملتا ہے۔ میں سید حسن نصراللہ کی شہادت کا ذکر کرتی ہوں—اس زخم کا جو میرے دل پر لگا ہے اور شہید قائد کے داغ کا، جس نے گویا جان ہی نکال لی اور میرے گھٹنوں میں طاقت نہیں رہی۔
وہ اطمینان اور مضبوطی سے جواب دیتی ہیں: «یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ ہم ظہور کے قریب تر ہیں۔ شہید سید القائد کی شہادت ہمیں رکنے یا ہار ماننے کا درس نہیں دیتی۔»
ایک روایت کا اختتام اور ایک راستے کا آغاز
میں رواق دارالرحمہ سے باہر نکلتی ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس ایک گھنٹے میں جو کچھ دیکھا، وہ محض مجالس کے پروگرام نہیں تھے۔
حزب اللہ اور مقاومت کی بہنوں کے درمیان میری جان اور جسم میں نئی روح پڑ گئی۔ جو کچھ میں دارالرحمہ سے اپنے ساتھ لائی، وہ صرف شہادت کا غم نہیں؛ بلکہ ان خواتین کی تصویر ہے جو ایمان، صبر، قرآن، آنسو اور امید و استقامت کے ساتھ زندگی کر رہی ہیں
اس رات سے میں پرسکون دل کے ساتھ نکلی، لیکن ایک سنگین تر عہد کے ساتھ وہ عہد کہ اس راستے پر قائم رہوں گی جسے شہیدوں نے اپنے خون سے روشن کیا۔