آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ شیخ الدقاق نے بتایا کہ ان کے غیرملکی مہمانوں کے ہمراہ شہید رہبر(رح) سے ملاقات کے خوبصورت اور یادگار واقعات اور یادیں ہیں ، انہوں نے اس سلسلے میں بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک ملاقات میں ہم دروازے کے پیچھے کھڑے تھے تاکہ مرکزی ہال میں داخل ہو سکیں ،جب وہ گھر سے تقریب کی طرف تشریف لا رہے تھے تو حاضرین کے ساتھ ان کا بہت ہی صمیمانہ اور منکسرانہ انداز تھا۔
شہید رہبر(رح) نے ہر مہمان سے اس کی ملیت سے قطع نظراس کی زبان میں صمیمیت سے بھرے چند جملے کہے جن میں عربی، فارسی،انگریزی اور ترکی زبانیں شامل تھیں، میں نے عربی میں ان سے اظہار عقیدت کیا اور ان سے درخواست کی کہ بحرین کے عوام اوران کی مشکل صورت حال کے لئے دعا فرمائیں۔
میں نے شہید رہبر(رح) سے عربی میں کہا کہ بحرین کے شیعوں کے پاس آپ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ، انہوں نے جواب میں تین بار دعا کی کہ انشاء اللہ خدا بحرین کے شیعوں کے لئے آسانی پیدا کرے ، اس دعا پر میں اور بحرینی وفد کے دیگر افراد بہت روئے ۔
عالم اسلام میں شیعہ اور اہلسنت کے مابین رابطے اور اتحاد و یکجہتی میں امام رضا(ع) کی شخصیت ایک مضبوط عنصر
اس گفتگو کے ایک اور حصے میں، شیخ الدقاق نے حرم امام رضا (ع) کی روحانی اور وحدت بخش فضا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تجزیہ نگار اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ امام رضا (ع) نہ صرف شیعوں کے لیے، بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے رحمت اور برکت کا باعث ہیں۔
یہاں تک کہ صوفیہ کے بہت سارے مکاتب اور مدارس بھی خود کو امام رضا(ع) سے منسوب کرتے ہیں۔
امام رضا(ع) سے منسوب احادیث اور معارف اپنی جامع اور اخلاقی نوعیت کی وجہ سے ہمیشہ شیعہ اور سنی مکاتب فکر کے رابطہ کا مرکز رہے ہیں ، حرم امام رضا(ع) بھی ایک مذہبی مقام سے بالاتر ہو کر اسلامی وحدت کے فروغ اور مختلف مکاتب فکر کے حامل مسلمانوں کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ، امام رضا(ع) ہمارے ولی نعمت ہیں اور جو بھی نعمت ہم شیعوں کو پہنچتی ہے وہ امام رضا(ع) کی بدولت ہے ۔