آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ فارسی زبان کے تعلیمی مرکز کی ڈائریکٹر محترمہ فاطمہ رجبی نے اجلاس کے آغاز میں فارسی زبان کے تعلیمی مرکز کے تعلیمی و تحقیقی پروگراموں کی رپورٹ پیش کی اور فارسی زبان کی تعلیم، خصوصی کورسز کے انعقاد اور غیرملکی اساتذہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اس تعلیمی مرکز کی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات بیان کیں ۔
انٹرنیشنل یونیورسٹی امام رضا(ع) کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابراہیم داوودی نے اس مشترکہ ویبنار اجلاس کے دوران ایران اور ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کے مواقع اور خطے میں لسانی سفارت کاری کے لئے یونیورسٹی کے پروگراموں کی وضاحت دی۔
انہوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کے تعلق سے پائی جانے والی استعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ان ممالک میں سے ہے جہاں کئی عشروں سے فارسی زبان کی تعلیم کے کئی مرکز موجود ہیں اور کئی قابل اساتذہ اور فارسی زبان سے متعلق دلچسپی رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ لہذا ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے ساتھ روابط میں توسیع اور فارسی زبان کی باضابطہ تعلیم کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے ۔
فارسی زبان کی تعلیم کے لئے انٹرنیشنل سطح پر پروگراموں کی توسیع
انٹرنیشنل یونیورسٹی امام رضا(ع) کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس اجلاس میں، یونیورسٹی کے فارسی زبان سکھانےکے مرکز اور کالج آف فارن لینگویجز کے سربراہ نے بھی غیر ملکی طلباء کو فارسی زبان کی تعلیم اور غیر ملکی اساتذہ اور مدرسین کی تعلیمی استعداد بڑھانے کے شعبے میں اس مرکز کے بین الاقوامی پروگراموں کی رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ازبکستان کی سمرقند یونیورسٹی کے اساتذہ کے لئے دوہفتے کی فارسی زبان کی ٹریننگ کورسز کا انعقاد بھی بین الاقوامی یونیورسٹی میں کیا جا چکا ہے اور ہندوستان میں فارسی زبان کے مراکز کے ساتھ مشترکہ تعلیمی پروگراموں کے لئے اس تجربے سے استفادہ کرنے پر تاکید کی۔
جناب داوودی نے کہا کہ اس مشترکہ تعاون میں ایک اہم موضوع فارسی زبان کی تعلیمی خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کی صلاحیت کو مدّ نظر رکھتے ہوئے امام رضا(ع) یونیورسٹی کے فارسی زبان سکھانے کے مرکز کی مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جا سکے۔
ہندوستانی زبان سیکھنے والوں کے لئے نصابی کتاب کی تدوین
امام رضا (ع) بین الاقوامی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے مرکز برائے مشرق وسطیٰ کی فارسی زبان و ادبیات کے مطالعہ کے سربراہ پروفیسر اخلاق احمد آہن کی موجودگی میں اس نشست میں زیر بحث موضوعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ خامیوں میں سے ایک ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کے لیے منظم نصاب اور تعلیمی متن اور فریم ورک کا نہ ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کا ایک حصہ تجرباتی طور پر اور ادبی متون کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور یہی موضوع ایک تعلیمی نصاب کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتا ہے تاکہ فارسی زبان سیکھنے والوں کی ضروریات کے مطابق ہو۔
عربی زبان کی آنلائن تعلیم شروع کرنے کی مکمل تیاری کا اعلان
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے اور عربی زبان سیکھنے میں دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ،اس اجلاس میں عرب زبان کی تعلیمی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ کالج آف فارن لینگویجز کے عربی سیکشن کے سپروائزر نے ہندوستان میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے عربی زبان کی تعلیم کے آن لائن کورسز کے انعقاد کے لیے اس سیکشن کی تیاری کا اعلان کیا تاکہ یہ کورسز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور دیگر دلچسپی رکھنے والی یونیورسٹی مراکز کے تعاون سے جاری رکھے جا سکیں۔
مشترکہ تعلیمی اور ایران شناسی کورسز کا انعقاد
جناب داوودی نے اجلاس کے اختتام پر متفقہ پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ویبینار کا انعقاد، انٹرایکٹو سسٹمز کے استعمال سے آن لائن فارسی زبان کی تعلیم کے قلیل مدتی اور طویل مدتی کورسز کا انعقاد نیز ایران شناسی کورسز کا انعقاد مشترکہ تعاون کے محوروں میں شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آن لائن تعلیم کے ساتھ ساتھ، ہندوستانی اساتذہ اور ماہرین کو مشهد مقدس اور امام رضا (ع) بین الاقوامی یونیورسٹی میں خصوصی کورسز میں شرکت کے لیے مدعو کرنے اور بھیجنے کے امکان کو بھی مدنظر رکھا گیا اور غیر ملکی اساتذہ کی صلاحیتوں اور فارسی زبان کی تعلیم کے جدید ذرائع اور طریقوں سے آشنائی کے کورسز کا انعقاد کا تجربہ اس سلسلے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تعاون ایران اور ہندوستان کی یونیورسٹی کے مابین علمی اور تعلیمی نیٹ ورک کو بڑھانے اور روابط قائم کرنے کا ذریعہ فراہم کر سکتا ہے جس سے دونوں فریقین کی علمی صلاحیتوں سےاستفادہ کرتے ہوئے فارسی زبان کو فروغ دینے اور لسانی سفارت کاری سمیت دونوں ممالک کے مابین علمی و ثقافتی روابط بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے ۔
واضح رہے کہ اجلاس کے دوران دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے مراکز نے ان تعلقات کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے فارسی اور عربی زبان کی تعلیم کو منظم انداز میں شروع کرنے اور ایران و ہندوستان کے علمی تعاون کو بڑھانے پر تاکید کی۔