آستان نیوز کے مطابق مشہد کی جامعہ المصطفی العالمیہ کے سربراہ حجت الاسلام ڈاکٹر سعیدی فاضل اور علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے سربراہ حجت الاسلام ڈاکٹر فرزانہ نے ان دونوں تعلیمی اداروں کے مشترکہ تعاون کے آغاز کا اعلان کیا
ان دونوں تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا اہم ترین محور علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبا کا زیادہ سے زیادہ داخلہ لینا اور ان کے لئے تعلیم کو آسان بنانا ہے ۔
غیر ملکی طلبا کی تعلیم کے لئے سہولت
جامعہ المصطفی العالمیہ مشہد کے سربراہ نے مشترکہ تعاون کے ایجنڈے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ رضوی یونیورسٹی کے غیر ملکی طلبا کو اس ادارے کے ذریعے جامعہ المصطفی العالمیہ میں بھیجا جائے گا اور پھر اسٹوڈینٹ کوڈ کے حصول کے مراحل کو مکمل کرنے کے بعد انہيں جامعہ المصطفی العالمیہ میں ان کی حوزوی تعلیم کے لئے ان کا داخلہ لیا جائے گا اور انہيں ہرطرح کے قیام و طعام کی بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
حجت الاسلام سعیدی فاضل نے کہا ہے طلبا کو دی جانے والی یہ سہولتيں طلبا کی تعلیمی پیشرفت کی بنیاد پر فراہم اور انہيں آگے بڑھنے کے لئے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ہوں گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ المصطفی میں زیرتعلیم غیر ملکی طلبا ایکونامکس یا اقتصاد کے مضمون میں رضوی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈي بھی کرسکیں گے
سمجھوتے سے مشترکہ تعان کے مرکز تک
جامعہ المصطفی العالمیہ مشہد کے سربراہ نے ان دونوں اعلی تعلیمی اداروں کے ماضی میں بھی انجام پانے والے تعاون کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اب علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور جامعہ المصطفی العالمیہ کے درمیان باہمی تعاون کے تین سمجھوتوں پر دستخط ہوچکے ہیں اور اس سلسلے کا آخری سمجھوتہ اکتوبر2023 میں ہواتھا ۔
بین الاقوامی تعاون کی تقویت کے لئے جامعہ المصطفی العالمیہ کی توانائی
اس ملاقات کے دوران علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے سربراہ حجت الاسلام ڈاکٹر فرزانہ نے مشترکہ تعاون کے آغاز پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے اسے ان دونوں اعلی تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون میں مزید توسیع کا بہترین موقع قرار دیا
انہوں نے غیر ملکی طلبا کے داخلے کا مسئلہ حل ہوجانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون دونوں اعلی تعلیمی اداروں کے لئے زیادہ سے زیادہ نتییجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے
علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے سربراہ نے اسی طرح تعلیمی اور تحقیقی میدانوں بالخصوص بین الاقوامی شعبے میں تعاون پر زور دیا ۔
ڈاکٹر فرزانہ نے جامعہ المصطفی العالمیہ کے تجربات کو رضوی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کی توسیع کے لئے انتہائي اہم قراردیا ۔