آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 465
14:00

2026/09/21

عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک

ذبط
حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی سیرت کا  جائزہ لینے اور مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ عقائد کی اصلاح ، صداقت ، امانت داری اور اخوت و بھائي چارہ کی تقویت ان کی مومنانہ زندگي کی اہم ترین خصوصیات تھیں۔

آستان نیوز کے مطابق حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام صرف ایک محدث اور اہل بیت علیھم السلام کی احادیث کے راوی ہی نہيں تھے بلکہ خاندان رسالت کے عظیم عالم اور شیعوں کے لئے معرفتی اور سماجی لحاظ سے ایک مضبوط پشتپناہ تھے۔
 حجت الاسلام ڈاکٹر سید محمودمرویان حسینی نے جو علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی سے قرآنی علوم اور حدیث میں ڈاکٹریٹ ہيں  اور اسی یونیورسٹی میں تدریس بھی کرتے ہيں ہمارے نمائںدے سے گفتگو کے دوران حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) کی سیرت اور ان کی تعلیمات کا تفصیل سے ذکر کیا جس کے کچھ حصے آپ قارئين کے لئے پیش کئے جارہے ہيں ۔
 
حضرت عبدالعطیم حسنی کا خاندان اہل بیت علیھم السلام میں کے نزدیک کیا مقام و مرتبہ تھا ؟

 آپ حسنی سادات تھے اور امام حسن مجتبی علیہ السلام کی آل میں   سے تھے اور چار واسطوں سے امام حسن علیہ السلام آپ کے جد امجد تھے ۔ عبدالعظیم حسنی (ع) نے امام رضا علیہ السلام ،  امام محمد تقی علیہ السلام اور امام ہادی علیہ السلام کو درک کیا تھا اور ان کی حیات طیبہ کو قریب سے دیکھا ہے اور ان آئمہ اطہار  سے انہوں نے حدیثیں بھی نقل کی ہیں اور بعض بزرگوں منجملہ مرحوم عطاردی کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ عبدالعظیم حسنی (ع) نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو بھی درک کیا اور ان کے زمانے میں بھی رہے ہيں ۔
 
حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کی کون سی خصوصیات سب سے زیادہ نمایاں تھیں ؟
آپ اہل ادب تھے ، حضوع ، حیا اور تواضع آپ کی ذات میں شامل تھی اور لوگوں میں امانت دار اور  صادق کی حیثيت سے جانے جاتے تھے
منقول ہے کہ وہ جب بھی امام جواد یا امام ہادی علیھما السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تو امام ان کو اپنے پہلو میں بیٹھاتے اور ان کی خیریت دریافت کرتے ۔   

حضرت عبدالعظیم حسنی نے کن حالات میں << ری >> کی جانب ہجرت کی ؟
 ان کے دور میں شیعوں پر کافی مظالم ڈھائے جارہے تھے اور شیعوں کے لئے وہ دور انتہائي گھٹن کا دور تھا چنانچہ عباسی حکمراں حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کے سخت دشمن تھے اسی لئے امام ہادی علیہ السلام کے حکم پر وہ سامرا سے ری کی جانب ہجرت کرگئے اور وہاں تقیہ کی حالت میں رہنے کے بعد بھی لوگوں کی ہدایت و رہنمائي کرتے رہے اور اہل بیت علیھم السلام کی احادیث بیان کرتے ؟
 
حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کا علمی مقام کیا تھا ؟

حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام صرف ایک راوی حدیث نہيں تھے
بلکہ وہ ایسے بافضل عالم دین تھے کہ جنھیں ہر طرح کے علمی، فقہی، شرعی اور دیگر علوم کے سوالوں کے جواب دینے میں ملکہ حاصل تھا
اور حدیثوں کی کتابوں میں ان سے بہت سی روایتیں نقل ہوئي ہیں

عبدالعظیم حسنی (‏ع) پر امام ہادی علیہ السلام کے اعتماد اور بھروسہ کو تاریخ میں کس طرح سے بیان کیا گيا ہے ؟
ابو حماد رازی ایک روایت میں نقل کرتے ہیں کہ امام ہادی علیہ السلام سے حلال و حرام کے بارے میں سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کے بعد جب میں رخصت ہورہا تھا تو امام نے مجھ سے فرمایا کہ اگر دینی امور میں کہیں کوئي مشکل پیش آئے تو عبدالعظیم حسنی سے سوال پوچھ لیا کرو اور میرا سلام ان کو پہنچا دینا ۔  یہ روایت حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کے علمی کمالات اور مرتبے کی اہم دلیل ہے۔
 
حضرت عبدالعظیم حسنی  کی جانب سے  اپنے ایمان کی جانچ پڑتال کا عمل کا امام ہادی کے نزدیک کیوں اس قدر اہمیت رکھتا ہے ؟
حضرت عبدالعظیم حسنی کا  اپنے ایمان کی جانچ پڑتال کا عمل ان کی شخصیت کا ممتاز پہلو ہے ایمان کو بیان کرنا یعنی انسان اپنے اعتقادات امام کی خدمت میں بیان کرے اور اپنا فکری راستہ دیکھے کہ کتنا درست ہے جس طرح سے آج کے دور میں انسان کو اپنی صحت کو سمجھنے کے لئے خون سمیت مختلف طرح کے چیک اپ اور ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسان کو چآہئے کہ وہ اپنے عقیدہ اور ایمان کو بھی  تولے   اور اس کا جائزہ لیا کرے اور دیکھے کہ اصل دین سے اس کا عقیدہ کتنی مطابقت رکھتا ہے ۔

 
 
حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کا یہ عمل آج کی دین داری کے لئے کس طرح کے درس کا حامل ہے ؟
 
ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اعتقادت اور ایمان کو امام (ع)، نائب امام یا علما کے سامنے بیان کریں تاکہ یہ پرکھ سکیں کہ ہماری فکر و نظر کس سمت میں ہے کیونکہ افکار و اعتقادات انسان کی رفتار و کردار کی بنیاد ہوتی ہے۔
 
امام رضا علیہ السلام کی سفارشات جنھیں عبدالعظیم حسنی نے نقل کیا ہے وہ کن محور اور موضوعات کی حامل ہیں ؟
 
شیطان کے لئے اپنے دل کے راستے کو مسدود کردینا ، قول میں صداقت ، امانت داری ، لاحاصل بحث و مباحثہ سے اجتناب اور مومنین کے ساتھ روابط کو مستحکم بنانا ان سفارشات کے اصلی محور ہیں ۔
  
کچھ مزید اس گہرے رابطے کے بارے میں غور و فکر کریں ، کیوں امام رضا علیہ السلام صداقت پر زور دیتے ہیں ؟

 جھوٹ دوسروں کی نگاہ میں خفت و ذلت، ‎بے اعتمادی ، مال اور کام  میں بے برکتی کا سبب ہے ۔ اس کے مقابلے میں سچائي  اور نیک کردار  قوت ایمان اور روح کی سلامتی کی ضامن ہے اور بہت سی مشکلات کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے ۔
 
اہل بیت علیھم السلام کی نگاہ میں امانت داری کتنا اعلی مقام ہے ؟
امانت صرف لوگوں کے مال کو ہی نہيں کہتے ؛ لوگوں کی آبرو ، ان کے اسرار حتی سماجی ذمہ داریاں بھی امانت ہیں انسان کو چاہئۓ کہ وہ ہر شخص کی امانت اس تک پہنچائے خواہ وہ شخص مومن ہو یا بدکار ہو خواہ وہ امانت کم ہو یا زیادہ ہو ۔

 لاحاصل بحث ومباحثہ سےاجتناب کو کیوں مومنین کے ساتھ ارتباط سے جوڑا گيا ہے؟

 لاحاصل بحث اور مجادلہ افکار اور سماج کو کشیدہ بناسکتاہے اور آپس میں تفرقہ پیدا کردیتا ہے اس کے مقابلے میں اسلام اخوت و بھائي چارہ، رفاقت ، اتحاد، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور مدد کی دعوت دیتا ہے اور مومنین کے درمیان اچھے تعلقات کو خداوندعالم سے تقرب کا ذریعہ قرار دیتا ہے  
 
آخر میں ہمیں یہ بتائیے کہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کا آج  کے معاشرے کے لئے اہم ترین پیغام کیا ہے ؟
ان کی شخصیت میں دوپہلو سب سے زیادہ ممتاز نظر آتے ہيں امامت و ولایت سے اپنے ایمان و اعتقاد اور افکار و نظریات کو ہم آہنگ کرنا اور دوسرے امام رضا علیہ السلام کی یہ سفارش لوگوں تک  پہنچانا کہ اپنے دلوں کے راستوں کو شیطان کے لئے مسدود رکھو ، صداقت امانت داری اپناؤ اور لاحاصل بحث و مباحثے سے بچو۔  ساتھ ہی سماجی اتحاد کو تقویت پہہچاؤ ، اگر کسی انسان میں یہ خصلیتیں پیدا ہوجائيں تو وہ ہمیں یہ سکھا سکتا ہے کہ ہم کس طرح سے زندگی بسرکریں ہمارے سوچنے کا طریقہ کیسا ہونا چاہئے اور اپنا کردار کس طرح سے سنوار سکتے ہیں ۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک آستان قدس رضوی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب ہندوستان کے ممتاز عالم دین کی جانب سے اسلامی وحدت کی ضرورت پر تاکید/ برصغیر اوردنیا میں اسلامی بیداری کی ایک جھلک   عالم اسلام کی وحدت میں حضرت امام علی رضا(ع) کی شخصیت کا لافانی عنصر      قائد شہید امت کی دانشمندانہ اسٹریٹیجی نےدشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد حرم رضوی میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن "میلاد صادقین" کا انعقاد لبنانی رکن  پارلیمنٹ کی آستان قدس کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ سے ملاقات علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی باہمی تعاون کی توسیع کے راستے پر گامزن