آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ10 فروری2026 بروز منگل کو آیت اللہ احمد مروی نے اپنے درس خارجِ فقہ کے آغاز میں قومی وحدت اور عوامی اتحاد کے کردار کو منفرد جانتے ہوئے زور دیا کہ ایرانی قوم کی سیاسی اور انقلابی میدانوں میں باہمی یکجہتی اور بصیرت ایسی مضبوط ڈھال ہے جو کسی بھی فوجی ہتھیار سے کہیں زیادہ موثر ہے ، دنیا کی کوئی بھی طاقت چاہئے وہ کتنی ہی مسلح کیوں نہ ہو ایک متحدہ ملت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
انہوں نے 2002 میں امریکہ کے عراق پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے عراق پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ عراقی عوام صدام کی ظالم حکومت کے حامی نہیں لہذا انہوں نے ایک ماہ سے کم عرصے میں حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
اگر صدام انہیں کا پروردہ تھا اور اس نے ایک دن جانا ہی تھا لیکن اگر امریکہ کو یہ احساس ہوتا کہ عراقی قوم صدام کے ساتھ ہے تو وہ کبھی بھی ایسا خطرہ مول نہ لیتا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے مزید یہ کہا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد کے ان چند سالوں میں جس چیز نے دشمنوں کے تمام منصوبوں اور سازشوں کو ناکام بنایا وہ عوام کا اتحاد اور ایرانی قوم کی باہمی یکجہتی ہے ۔
دفاعِ مقدس؛ عالمی محاذ پر ایرانی قوم کی فتح
آیت اللہ مروی نے دفاع مقدس کے زمانے کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ صدام نے عالمی استکبار کی نمائندگی میں ایران پر حملہ کیا،خلیجی ممالک اس جنگ کے اخراجات اٹھا رہے تھے ، مشرق و مغرب سے صدا کو اسلحہ فراہم کیا جا رہا تھا ،انفارمیشن، فوجی تربیتی اور مشورے دیئے جارہے تھے حالانکہ اس کے مقابلے میں ایران ایک ایسا ملک تھا جہاں پر نیا نیا انقلاب آیا تھا؛ نہ منظم فوج تھی ، نہ آج کی طرح سپاہ پاسداران تشکیل ہوئی تھی اور نہ ہی ہمارے پاس مناسب اسلحہ تھا۔
ان تمام حالات کے باوجود صدام اپنے کسی بھی ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور ایران اس مسلط کردہ جنگ میں سرخرو ہوا۔ اس فتح کے پیچھے اصل طاقت عوام کی پشت پناہی تھی۔
آیت اللہ احمد مروی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ایک قوم سے جنگ نہیں کی جا سکتی،یقیناً مشکلات ہیں اور شکایات بھی بجا ہیں ؛ معاشی مسائل،مہنگائی، نا اںصافی،اقربا پروری اور اختیارات کا غلط استعمال یہ سب معاشرے میں کسی نہ کسی جگہ پائے جاتے ہیں انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ نقائص موجود ہیں جن کی اصلاح کی جانی چاہئے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی کا مزید یہ کہنا تھا کہ اگر کسی گھر کی چھت چند جگہوں ٹپک رہی ہو تو پورا گھر نہیں گرایا جاتا بلکہ اس خرابی کو دور کیا جاتا ہے ، وہ گھر جو محنت کے ساتھ اوربھاری قیمت ادا کر کے بنایا گیا ہو اسے چند نقائص کی وجہ سے تباہ نہیں کیا جاتا۔معاشرے اور حکومت بھی اسی منطق کے تحت چلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقائص اور مشکلات کی وجہ سے اسلامی انقلاب کے اصولوں سے بے توجہی کا جواز نہیں ملتااور ہمیں ہر حال میں اپنی گفتار و کردار سے دشمن کو امیدوار نہیں کرنا چاہئے ،مسائل کو حل کیا جائے نہ کہ قومی سرمائے کو تباہ کیا جائے ، اس لئے عوام کا اسلامی نظام سے رابطے کو کمزور کرنا ملک و ملت کے دشمنوں کی سب سے بڑی خدمت ہو گی۔
عوام کا میدان میں حاضر ہونا دشمن کے لئے واضح پیغام
آیت اللہ احمد مروی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حقیقی طاقت عوامی اتحاد،بصیرت اور ان کا میدان میں بروقت موجود ہونا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مواقع پر عوام کی موجودگی نے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایرانی قوم تمام مشکلات کے باوجود اس نظام کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے اور ڈٹی رہے گی؛یہ وینزویلا نہیں بلکہ ایران ہے ۔
ایک ایسا ملک جو دینی و شیعی ثقافت اور باایمان،شجاع اور مقتدر قیادت پر مشتمل ہے ایسی قیادت جو دشمن کے تمام حساب و کتاب الٹ دیتی ہے ۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ دشمن یہ جان لے کہ وہ نسخہ جو اس نے دیگر ممالک پر آزمایا ہے ایران پر لاگو نہیں کر سکتا،دشمن جب خود کوایک ناقابلِ شکست دیوار کے سامنے پاتا ہے تو وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن اگر اسے محسوس ہو کہ اس مضبوط دیوار میں کہیں دراڑیں ہیں تو وہ انہیں دراڑوں پر امید لگائے گا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے مزید یہ کہا کہ دفاع مقدس کے زمانے میں پوری قوم حضرت امام خمینی(رہ) کی آواز پر یکجا تھی اور قیادت کے پیچھے ڈٹی ہوئی تھی،یہی قومی یکجہتی ہماری فتح کا راز تھا، اس لئے آج بھی اتحاد،عوامی یکجہتی اور بصیرت ہماری سب سے مؤثر اور طاقتور ترین قوت ہے ۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ دشمن ہر حربہ آزما چکا ہے پابندیوں سے لے کر فوجی جنگ،میڈیا وار اور اندرونی بد امنیوں تک لیکن اسے کامیابی نہیں ملی اور موجودہ صورتحال میں بھی دشمن کو مکمل طور پر مایوس اور نا امید کرنے کا واحد راستہ عوام کی بروقت میدان میں موجودگی اور قومی و سماجی وحدت و یکجہتی ہے ۔
آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا دشمن جس میں نہ انسانیت پائی جاتی ہے اور نہ ہی اخلاق اور انصاف کو مانتا ہے فقط اور فقط طاقت کی زبان سمجھتا ہے ۔
لوگوں کا اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کرنے سے دشمن مایوس ہو گا ،اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت، استقلال اور شہداء کے خون کا تحفظ قومی وحدت ویکجہتی اور ایک آواز ہونے سے ہوگا۔