آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ اس عظیم الشان اجتماع میں حجت الاسلام والمسلمین امینی خواہ نے خطاب کیا اور ایران کی قیادت میں مقاومتی محاذ کے تصور کو بیان کیا اور اس مقاومتی محاذ کے ڈھانچے میں پاکستانی عوام کے کردارکو کلیدی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجاہد اور غیرتمند عوام ہمیشہ اسلامی اقدار اور اصولوں کے وفادارحامی رہے ہیں ، آج پرچمِ ولایت کے سائے میں بننے والے اتحاد سے دشمنوں پر لرزہ طاری ہے ۔
زینبیون کی وفاداری اور شہید رہبر سے سے عقیدت
حجت الاسلام امینی خواہ نے زینبیون بریگیڈ کی حرم کے دفاع اور حفاظت کے سلسلے میں دی جانے والی قربانیوں اور بہادری کا ذکر کیا اور شہید رہبر(رح) کی شہادت کے ایّام میں پاکستانی عوام کی بے مثال عقیدت کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر(رضوان اللہ علیہ) کی یاد میں منعقدہ عظیم الشان اجتماع میں لاکھوں کی تعداد میں اکستانی عوام کی شرکت اور پاکستانی خواتین کا مقاومتی محاذ کے لئے اپنے زیورات پیش کرنا وفاداری کی حقیقی تصویر ہے ، کراچی کی بڑی بڑی شاہراہوں کا شہید رہبر کے نام سے منسوب ہونا اس قوم کے دلوں میں انقلاب کی گہری اثر پذیری کو ظاہر کرتا ہے ۔
ایران اور پاکستان ؛ ایک جان دوقالب
حجت الاسلام امینی خواہ نے قائد ملت جعفریہ پاکستان شہید عارف حسین حسینی(رح) کے بارے میں حضرت امام خمینی(رح) کے تاریخی پیغام کو پڑھتے ہوئے کہا کہ امام خمینی(رح) کے فرمان کے مطابق؛ اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کی عزت و استقلال کے دفاع کےلئے ایک مستحکم قلعہ ہے۔
جناب امینی خواہ نے کہا کہ ہم اور پاکستانی عوام خون و دل کے رشتے سے جڑے ہیں ، ایک ہی محاذ کے ہم صف اور ہم رزم ہیں، آج کا یہ اجتماع پاکستانی بھائیوں کی محبت کا جواب ہے ۔
ڈاکٹر شریعتی اسکوائر پر انقلابی نوحہ
پروگرام کے دوران ذاکر اہلبیت (ع) جناب حاج احمد واعظی نے مصائب پڑھتے ہوئے شہدائے مقاومت کی یاد میں اشعار پڑھے جس سے اجتماع میں خاص روحانی فضا قائم ہوگئی۔
عظیم الشان اجتماع کے شرکاء نے ’’لبیک یا خامنہ ای ؒ‘‘ کے نعروں پر امام اور شہداء کی راہ پر چلنے اور مزاحمتی محاذ کی حمایت پر زور دیا۔