آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حضرت امام علی رضا(ع) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے ملک بھر سے تین لاکھ پھولوں کی شاخیں حرم امام رضا(ع) کو ہدیہ کی گئ ہیں،ان ایّام میں عاشقان اہلبیت(ع) کے ساتھ ساتھ تازہ اورنہایت عمدہ قسم کے پھولوں نے ضریح کے گرد حلقہ بنا رکھا ہے ۔
اگرچہ سال بھرضریح کے چاروں گوشوں پر اتوار،منگل ،جمعرات اور جمعہ کو پھولوں کے دستے سجائے جاتے ہیں لیکن عشرہ کرامت میں پھولوں سے جشن کا سماں بندھ جاتا ہے ۔
تصورکریں کہ وہ ضریح جو ہمیشہ نگاہوں کا مرکز ہوتی ہے اس بار رنگ برنگے اور خوشبودار پھولوں کے حلقے میں گھری ہوئی ہے گویا پھولوں کا ایک تاج ضریح کے سر پر رکھ دیا گیا ہے اور اس کی ہر شاخ کسی کا سلام ہے جو شاید خود مشہد مشرف نہیں ہو سکا۔
اس بار ضریح کے بالائی گلدستوں کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ گل کاری کا مکمل ڈھانچہ تیار کیا گیا ریسیں بنائی گئی اور پھولوں کو ایک ایک کر کے ساتھ رکھا گیا اور یہ کام ایک بار نہیں بلکہ عشرہ کرامت کے دوران دو مرتبہ انجام دیا گیا تاکہ جشن کے ایام میں ضریح مطہر پر تازگی برقرار رہے ۔
ان پھولوں کی تعداد فقط اعداد تک محدود نہیں بلکہ ہر پھول اور ہر شاخ کا مطلب ایک نذر، ایک دعا اور ایک خاموش سلام یا رضا(ع)۔
اس بار ضریح پر 24 ہزار پھولوں کی شاخوں سے ضریح کی تزئین کی گئی ، یہ چوبیس ہزار پھول نہیں بلکہ چوبیس ہزار دل ہیں جو ضریح کے پاس ہیں۔ شاید ان دلوں کی مالک کوئی ماں ہے جس نے اپنے بچے کی شفا کی نذرمانی ہے یا کوئی جوان جس کے دل کی کوئی خاص آرزو ہے یا کوئی باپ جس کی زیارت برسوں سے انہی نذروں اور منّتوں تک محدود رہ گئی ہے ۔
جب رنگ و بو کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں
ضریح مطہر کی گل کاری کے لئے اعلیٰ اور معیاری پھول چنے جاتے ہیں ایسے پھول جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خوشبو دار بھی ہوتے ہیں جن میں گلاب،للیئم،السٹریا،داوودی،چمکتے ہوئے اینتھوریم اور ناز آرکڈز شامل ہوتے ہیں جو مل کر رنگ اور تازگی کا ایک دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں۔
ایسی ورکشاپ جہاں تھکاوٹ کوئی معنی نہیں رکھتی
خوبصورتی کے اس شاندار جلوے کے پس پردہ ان خدام کی محنت ہے جو عشق و خلوص کے ساتھ گھنٹوں گل کاریوں اور گلدستوں کی تیاری میں لگاتے ہیں، ضریح کی گل کاری سمیت تمام مراحل حرم امام رضا(ع) کی پھولوں کی ورکشاپ’’باب اسلام‘‘ میں انجام پاتے ہیں۔
ان پھولوں کی کہانی ملک کے مختلف مقامات سے شروع ہوتی ہے ، تہران اور پاکدشت کے گرین ہاؤسز سے لے کر قیام دشت، کرج، زرند، کرمان، ہمدان، تبریز، ساوہ، یزد اور مشہد تک مختلف بانیان اور نذر کرنے والے خلوص دل کے ساتھ تازہ پھول حرم امام رضا(ع) کی ضریح کی آرائش کے لئے روانہ کرتے ہیں تاکہ امام رضا(ع) کی ولادت کے دنوں میں ایرانی عوام اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کر سکیں ۔
مجموعی طور پر اس بار تین لاکھ پھولوں کی شاخیں تہران میں اکھٹی کرنے کے بعد دو ریفریجریٹڈکنٹینرز کے ذریعے مشہد مقدس منتقل کی گئی ۔
واضح رہے کہ گل کاری اور گلدستہ سازی کے اس عظیم منصوبے کی اتنظامی ذمہ داری حرم امام رضا علیہ السلام کے ادارہ ’’شمیم رضوان‘‘ کی ہے جو پھولوں کی اقسام، نصب کرنے کی جگہیں ، ترتیب کا نمونہ اور حتی ضریح کی گل کاری کے تمام منصوبے بناتا ہے اور ان پر نگرانی اور تجدید گل کاری کی ذمہ داری بھی انجام دیتا ہے ۔
عشرہ کرامت کے موقع پر نہ فقط صحن انقلاب اسلامی، صحن آزادی بلکہ پنجرہ فولاد،سقا خانہ، فوارے اور حتی جوتے رکھنے کی جگہوں کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے آراستہ کیا گیا ہے تاکہ زائرین، حرم کے کونے کونے میں تازگی کو محسوس کر سکیں۔
حرم کے مختلف حصوں کے علاوہ شہید رہبر انقلاب کے تمثال کے لئے خاص ڈیزائن کردہ پھولوں کے تاج نصب کئے گئے ہیں تاکہ شہید رہبر کو عشرہ کرامت کی محفلوں میں یاد رکھا جائے۔
قابل توجہ ہے کہ شمیم رضوان کے تقریباً 80 خادمین دن رات صحن پیامبر اعظم (ص) کے ایوان ولی عصر(عج) اور باب السلام میں موجود پھولوں کی ورکشاپ میں کام کرتے ہیں۔
خدام کی گل کاری کے فن کا قریب سے مشاہدہ
پہلی بار ایوان ولی عصر(عج) کی گل کاری ورکشاپ میں ایک شیشے کی الماری بنائی گئی ہے تاکہ زائرین قریب سے پھولوں کی تیاری اور سجاوٹ کے تمام مراحل کو دیکھ سکیں ۔
یہ اقدام آستان قدس رضوی میں خدمت کرنے والے خدام کےحالات کو زائرین کو با خبر کرنے اور ان کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے کے مقصد سے انجام دیا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ گل کاری اور گدستے تیار کرنے والی ورکشاپ کی شیشے کی الماری نے زائرین کی خاص توجہ اور پذیرائی حاصل کی ہے بہت سارے زائرین و مجاورین رک کرپھولوں کی تیاری اور سجاوٹ کے مختلف مراحل کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں ۔