آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ جناب مجتبیٰ مختاری نے ’’گفتگوی خدمت‘‘ کےعنوان سے منعقدہ خصوصی پروگرام میں ’’زیر سایہ خورشید‘‘قافلوں کی اٹھارویں سالانہ روانگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ روحانی تحریک 2008سے شروع ہوئی جو آج کمال کو پہنچ چکی ہے ،رواں سال میں ’’زیر سایہ خورشید‘‘ کے 64 قافلے ایران کے چودہ سو مقامات اور دنیا کے گیارہ ممالک میں روانہ کئے گئے تاکہ امام رضا(ع) کی تعلیمات کو سب تک پہنچا سکیں، واضح رہے کہ یہ قافلے خادمین،مبلغین اور حرم رضوی کے متبرک پرچم برداروں پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے قومی اسٹریٹجک اور حساس مراکز میں ان قافلوں کی موجودگی سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاروان فقط مذہبی محافل تک محدود نہیں ہیں ،حرم امام رضا(ع) کے خدام نالج بیس مراکز، بندرگاہوں،ہسپتالوں اور حتی فوجی چھاؤنیوں میں بھی تشریف لے جاتے ہیں۔
یہ قافلے لوگوں اور وطن کے سپوتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ امام (ع) کی نظر آپ پر بھی ہے اور یہی احساس آستان قدس رضوی کا سب سے بڑا سماجی سرمایہ ہے ۔
جناب مختاری نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اس تحریک کا پرتپاک استقبال کیا گیا ہے حتی ہندوستان اور تھائی لینڈ میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی جانب سے بہت زیادہ خیرمقدم اور استقبال کیا گيا ہے۔
آستان قدس رضوی کے یوتھ انسٹیٹیوٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اس عظیم منصوبے کے نفاذ میں چالیس ہزار نوجوانوں اور ایک ہزار عوامی تنظیموں کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں عیسائي برادری اور بدھ مت کے ماننے والوں نے بھی نہایت احترام کےساتھ امام رضا(ع) کے متبرک پرچم کا استقبال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’زیر سایہ خورشید‘‘ قافلوں کے ذریعے ایران اور دنیا بھر میں رہنے والے امام رضا(ع) کے عقیدت مندوں کے مابین ایک گہرا رشتہ قائم ہوا ہے ۔
آخر میں انہوں نے ان قافلوں کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی شخص جب حرم امام رضا(ع) کے متبرک پرچم کو دیکھے گا تو اسے محسوس ہو کہ وہ امام ہشتم(ع) کی مہربان آغوش میں ہے ۔