آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 250
10:41

2026/05/10

ایثار و جاودانگی کی لازوال داستان؛استاد فرشچیان کی روضہ منورہ امام رضا(ع) کے لئے دی جانے والی خدمات کا مختصر جائزہ

ایثار و جاودانگی کی لازوال داستان؛استاد فرشچیان کی روضہ منورہ امام رضا(ع) کے لئے دی جانے والی خدمات کا مختصر جائزہ
اُس گھڑی جب مؤذن کی آواز سے پہلے کی خاموش زمین کو اپنے دامن میں لپیٹ لیتی ہے اور حرم کے رواقوں سے نسیم سحر چلتی ہے تو گویا کسی بڑے فنکار کے ہاتھوں میں موجود قلم صرف رنگ نہیں بلکہ روح بکھیر رہی ہے ،استاد محمود فرشچیان وہ فنکار ہیں جنہوں نے برسوں اپنے قلم کو رضوی دہلیز پر رکھا وہ صرف حرم کے مصور نہیں تھے بلکہ روحانی و ملکوتی سانسوں کے راوی تھے۔ 

جس کا ہر خط اور ہر رنگ بے زبان دعا ہے اور ہر تصویرخاموش زیارت ہے ، ذیل میں پیش کی جانے والی رپورٹ برسوں کے ایثار،عطایا،تخلیق اور ترویج کی ایسی داستان ہے جس میں قلم عبادت بن گیا اور رنگ آستانِ حضرت کی نذر۔
آپ قارئین، ذیل میں جو پڑھیں گے وہ محض آثار کی فہرست نہیں ہے بلکہ اس روح کے نقشِ قدم ہیں جو حرم میں رہ گئی اور وہ فن ہے جو خاک سے اٹھا اور زیارت کے آسمان تک جا پہنچا۔ 
لازوال پینٹنگ؛جب قلم زیارت بن جائے
حضرت امام علی رضا(ع) کے لئے استاد فرشچیان کی خدمات کبھی بھی پینٹنگ یا تصویر سازی کی حد تک نہیں تھیں بلکہ جب بھی کاغذ پر قلم رکھا یوں محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ولی نعمت ، آقا ومولا اور محبوب کے درِ اقدس پر بیٹھے ہوں ’’ضامن آھو‘‘،’’نسیم بہشت‘‘،’’تجلی نور‘‘ اور اس کےعلاوہ درجنوں مینی ایچر جو نہ صرف بصری منظر کشی ہیں بلکہ امید ،آرزو اورعشق کے سامنے تسلیم ہونے کی مجسم صورت ہیں۔ 
ان کی نگار گری میں کاشیوں سے نور چمکتا ہے پتھر سے بنے فرش پر ہرنوں کے نقوش محو ہو جاتے ہیں اور زائر کی نگاہیں تصویروں میں ڈوب جاتی ہیں۔
حرم رضوی کے خزانوں کے لئے فن پارے ہدیہ کرنا
آستان قدس رضوی کی شائع شدہ دستاویزات کے مطابق استاد فرشچیان نے اپنے درجنوں فن پارے اور مینی ایچرز کی نفیس کاپیاں بغیر کسی مادّی لالچ کے حرم امام رضا(ع) کے خزانوں کے لئے وقف و ہدیہ کیں۔ 
آج یہ تمام فن پارے حرم امام رضا(ع) کے میوزیمز،مستقل نمائشگاہوں اور آستان قدس رضوی کی ڈیجیٹل آرکائیوز میں محفوظ ہیں انہیں محض فن پارہ نہیں بلکہ ایک روحانی ورثہ سمجھ کر رکھا گیا ہے ۔ 
ضامن آھو کی داستان؛مینی ایچر کے فریم میں عشق کا قصہ
شاید ایران کے دینی آرٹ کی تاریخ میں ’’ضامن آھو‘‘ جیسا کوئی اور قصہ نہیں جس نے لوگوں کے دلوں میں اتنی جڑیں مضبوط کی ہوں اوراس میں استاد فرشچیان کا کردار ناقابلِ انکار ہے ۔ 
انہوں نے اس واقعہ کو مینی ایچر فریم میں اتنی باریک بینی سے تخلیق کیا کہ وہ ایک قومی بصری اسطورہ میں تبدیل ہو گیا ، استاد فرشچیان کے فن پارے زیارتی کتابوں، ثقافتی پوسٹرز، مذہبی کلینڈرز اور حتیٰ ڈیجیٹل میڈیا میں بھی بار بار شائع ہوئے جنہوں نے نسلوں کو رحمت، پناہ اور امام رضا(ع) کی عنایت جیسے مفاہیم سے متعارف کرایا۔ 
اساتذہ کے فن پارے اورفنکار نسلوں پر اس کے اثرات
محمود فرشچیان کا نام نہ صرف ایران کی مینی ایچر تاریخ میں روشن ہے بلکہ مشہد مقدس،تہران، اصفہان اور حتیٰ بین الاقوامی یونیورسٹیوں کی آرٹ کلاسزز میں دینی فن کے طور پر سرفہرست ہے ، انہوں نے ایرانی نگارگری کی روایت، ماڈرن ایناٹومی اور شیعی عرفانی گہرائی کو ملا کر ایک ایسا مکتب تخلیق کیا جسے آج درجنوں نوجوان فنکار اپنے کام کے لیے سب سے بہترین آئيڈیل سمجھتے ہيں ۔ 
رنگ و خط سے ماورا میراث
استاد فرشچیان کی روضہ منورہ امام رضا(ع) کے لئے خدمات محض تصویر یا تخلیق کی حد تک نہیں ہیں،انہوں نے اپنے فن سے رضوی زیارت کی بصری شناخت کی از سرِ نو تعریف کی ہے اور اپنے اخلاق سے فن کا نیا نمونہ پیش کیا اور اپنی فکر سے روایت اور عصری روحانیت کے درمیان پل تعمیر کیا۔ 
آج ہر محقق اور ہر زائر جب حرم کے سائے میں ان کی تخلیقات کو دیکھتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ فرشچیان نے فن کو عشق دہلیز تک پہنچایا اور عشق کو فن کے ذریعہ جاوداں کردیا،ان کی خدمت آرکائیوز میں نہیں بلکہ رضوی عاشقوں اور محبّوں کی نگاہوں میں سانس لیتی ہیں۔ 
آج بھی جب زائرین، حرم میں قدم رکھتے ہیں تو دیواروں اور کینوسوں پر ان کے قلم کے نشانات پاتے ہیں فرشچیان آج اس دنیا میں نہيں ہیں لیکن ان کا فن جاوداں ہوگیا۔
انہوں نے ثابت کر دیا کہ جب فن عشق میں ڈھلتا ہے تو نہ فانی ہوتا ہے نہ فراموش ہوسکتا ہے بلکہ نسیم بہشت کی طرح تاریخ کی رگوں میں دوڑتا ہے ،اور آج جب کوئی حرم میں ’’یاضامن آھو‘‘ کا زمزمہ کرتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ ایک قلم اب بھی پینٹنگ میں مصروف ہے وہ قلم جو خاک سے نور تک پہنچا اور اب حرم کی خاموش فضا میں سرگوشی کرتا نظر آتا ہے ،یہاں عشق کی منظر کشی کی گئی اور یہ پینٹنگز مجسم زیارت بن گئیں۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح رضوی یونیورسٹی  اور جامعہ المصطفی مشہد برانچ کے درمیان مشترکہ تعاون کا آغاز نقل و حمل، رہائش اور پارکینگ کی توسیع کے لئےحکومت،پارلیمنٹ اورصوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہیں؛صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ کا بیان ایران اور ہندوستان کے مابین باضابطہ فارسی زبان کی تعلیم کے لئے باہمی تعاون کا آغاز حرم امام رضا(ع) میں نصب جالیوں کی زیارت اور فن تعمیر سے متعلق تفصیلات آستان قدس رضوی کے ریسرچ معاونین کا بین الاقوامی امور کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافے پر زور صفوی دور کے وقف  حمام دروازہ کا تعارف ایران سے متعلق میرے ذہن میں پائے جانے والے منفی تاثرات مکمل  طور پرتبدیل ہو گئے؛سنی انفلوئنسر کا بیان تنزانیا سے امام رضا علیہ السلام کے حرم تک عشق و محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ   حرم امام رضا(ع) میں چالیسویں وحدتِ اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب ہندوستان کے ممتاز عالم دین کی جانب سے اسلامی وحدت کی ضرورت پر تاکید/ برصغیر اوردنیا میں اسلامی بیداری کی ایک جھلک   عالم اسلام کی وحدت میں حضرت امام علی رضا(ع) کی شخصیت کا لافانی عنصر      قائد شہید امت کی دانشمندانہ اسٹریٹیجی نےدشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد حرم رضوی میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن "میلاد صادقین" کا انعقاد لبنانی رکن  پارلیمنٹ کی آستان قدس کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ سے ملاقات علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی باہمی تعاون کی توسیع کے راستے پر گامزن افغان شہری کی جانب سے نایاب ڈاک ٹیکٹس آ‎ستان قدس رضوی کو ہدیہ حرم امام رضا(ع)میں عرب زبان زائرین  کے لئے’’امین الامہ، امام المقاومہ‘‘ کے عنوان سے ادبی محفل کا انعقاد