آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 7مئی2026 بروزجمعرات کو عوامی اجتماعات میں سرگرم کارکنوں کے اعزاز میں ’’باغ اردوگاہ امام رضا (ع)‘‘ میں تقریب کا انعقاد کیا گیا،تقریب کے آغاز میں آیت اللہ احمد مروی نے سورہ حشر کی چند ایک آیات کی تلاوت کی اور امریکی بالا دستی کے زوال اور دشمن کے مدّ مقابل ایران کی فتح و کامیابی میں عوامی کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے آیہ شریفہ «لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدُرٍ...» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج یہ آیت دنیا میں حقیقت بن چکی ہے ،دشمن کے بحری بیڑے ایرانی سمندر سے سینکڑوں کلومیٹر دور جا چکے ہیں اور امریکیوں کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے امریکہ کے خلاف یورپی ممالک کے حالیہ موقف کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی ممالک کے مابین ہونے والا اتحاد ایران کے ہاتھوں ٹوٹ چکا ہے ،آج یورپی سیاستدان کھل کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا پر ایک نیا نظام حکمفرما ہو چکا ہے اور امریکی بالادستی ختم ہو چکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات سے پہلے یورپی ممالک امریکہ کے سامنے ایسی باتیں کرنے کی جرات نہیں رکھتے تھے لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں نئی فوجی طاقت تشکیل دینی چاہئے کیونکہ وہ مزید امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے۔
آیت اللہ احمد مروی نے حالیہ تبدیلیوں اور واقعات کو انقلاب اسلامی، رہبرشہید معظم انقلاب اسلامی کی قیادت اور عوامی استقامت کا نتیجہ قرار دیا اورجنگ میں کامیابی اور فتح کے معیار بیان کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی نقصان کی مقداراور تعداد سے نہیں بلکہ مقاصد کے حصول سے ناپی جاتی ہے ،امریکہ کا ہدف ایران کو تباہ اور تقسیم کرنا تھا لیکن دشمن نہ صرف ان اہداف تک نہ پہنچ سکا بلکہ وہ اپنے پروردہ علیحدگی پسند گرپوں کو ایک چھوٹی سی کارروائی کےلئے بھی استعمال نہ کر سکا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے تاکید کرتے ہوئے کہا دنیا بھر کے سیاستداں اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران جنگ میں فاتح ہے ، انہوں نے امریکی صدر کی طرف جیت کا ڈھنڈھورا پیٹنے کے موقف سے لے کر آبنائے ہرمز کھلوانے کی درخواست تک کے موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے سپر پاورہونے اور اس کی بیبت کا بت ایران نے پاش پاش کردیا ہے ، یہ کام کسی ہم پلّہ سپر پاور نے نہیں بلکہ ایک ایسے ملک نے کیا جس کا فوجی بجٹ امریکہ کے ہزار ارب ڈالر کے بجٹ کے مقابلے میں قابلِ قیاس نہیں ہے ۔
عوام کا میدان میں حاضر رہنا؛ الہیٰ نصرت اور دنیا کے لئے نمونہ
آستان قدس رضوی کے متولی نے سڑکوں پرعوام کی موجودگی کو الہیٰ نصرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام بصیرت اور شعور میں کئی سیاست دانوں سے آگے ہیں ،عوام کا سڑکوں پر نکلنا دنیا بھر کے مظلوموں اور حریت پسندوں کے لئے مثال بن گیا ہے ،وہ عوام جو بغیر اسلحے کے صرف ایک پرچم کو ہاتھ میں لئے امریکہ کے سامنے ڈٹ گئے ۔
آیت اللہ مروی نے موجودہ حساس صورتحال میں قومی یکجہتی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت جنگ کی حالت میں ہیں اور جنگی حالات میں اتحاد و یکجہتی ناگزیر ہے ، یہ وہ نعمت ہے جو رہبرشہید(رح) کے پاک خون کی برکت سے حاصل ہوئی اس لئے اسے ختم نہیں ہونے دینا چاہئے۔
انہوں نے آیہ شریفہ «وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِیحُکُمْ» کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی جھگڑے اور تنازعات سے اسلامی معاشرے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے معاشرہ کمزور پڑ جاتا ہے اور دشمن کے اندر طمع اور لالچ شروع ہو جاتی ہے ہم اس وقت جنگ کے وسط میں ہیں اس لئے ہر اس چیز سے بچنا چاہئے جو تنازعہ کا باعث بنے۔
قومی یکجہتی کے تحفظ کی ضرورت
آستان قدس رضوی کے متولی نے رہبرشہید معظم انقلاب اسلامی(رح) کی شہادت کے بعد وطن کی حفاظت اور دفاع کے لئے مختلف طبقات کی میدان میں موجودگی کا ذکر رکتے ہوئے کہا کہ اس وقت با پردہ اور بے پردہ خواتین سمیت حتی کچھ سیاسی مخالفین جو غلط فہمی کا شکار تھے سب وطن کے دفاع میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کا تحفظ ضروری ہے ۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بے پردہ خواتین بھی اجتماعات میں شریک ہوکر ایران کا پرچم اٹھائیں اور مردہ باد آمریکہ اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے لگائیں تو یہ بات نیتن یاہو اور ٹرمپ کے لئے تکلیف کا باعث ہے ،ایسی خواتین کی میدان میں موجودگي کا استقبال کیا جائے ، دشمن کو پتہ چلے کہ ایران کی پوری قوم مختلف ظواہر کےساتھ اس نظام کی حامی اور پشت پناہ ہے ۔
آیت اللہ مروی نے رہبر شہید معظم انقلاب اسلامی(رح) کے کشف حجاب سے متعلق بیان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرمایا تھا’’ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے؛ اگر وہ جان لیں کہ اس معاملے کے پیچھے کون لوگ ہیں تو یقیناً وہ ایسا نہیں کریں گے ،میں جانتا ہوں کہ ان میں سے بہت لوگ دین دار،ماہ رمضان کےروزوں کے پابند اور اہل دعا و مناجات ہیں ،دشمن کے جاسوس ان سیاستوں کے پیچھے ہیں ،بہرحال یہ معاملہ حل ہو جائے گا‘‘۔
آیت اللہ مروی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے طرز زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام علیہ السلام،دین اسلام کی بقا کے لئے خلافت کے غاصبوں کی بھی مدد اورانہيں مشورہ دیتے تھے ،اس لئے ہمیں بھی برداشت کا دامن وسیع رکھنا چاہئے۔
ذمہ داران پر اعتماد اور حکام کی حمایت
آستان قدس رضوی کے متولی نے جنگی حالات میں ملکی نظام کے ذمہ داران پر اعتماد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ذمہ داران بھرپور محنت کر رہے ہیں اور رہبر معظم انقلاب کی اطاعت میں ہیں ،صدر مملکت نے بھی بارہا تاکید کی ہے کہ وہ نئے رہبر کے ساتھ وہی عقیدت اور اطاعت کا جذبہ رکھتے ہیں جو شہید رہبر کے ساتھ رکھتے تھے۔
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کرو اور نہ ہی کہتے ہیں کہ مذاکرات نہ کرو، نہ کہتے ہیں صلح کرو اورنہ کہتے ہیں جنگ کرو، ہم ولی فقیہ کے تابع ہیں، اس لئے ہمیں مذاکراتی ٹیم پر اعتماد ہے ،ہم ان سے فقط یہ کہتے ہیں کہ وہ اقتدار، طاقت اور عزت کے ساتھ ایران کا موقف پیش کریں۔
آیت اللہ مروی نے امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے فرمان سے استناد کرتے ہوئے کہ جس میں آپ(ع) نے فرمایا’’جنگ میں ہر چیز راز ہے‘‘کہا کہ اس لئے نظام کے ذمہ داروں پر اعتماد کرنا چاہئے ، کیا وہ رہبر معظم کی اجازت کے بغیر کوئی کام کر سکتے ہیں؟پارلیمنٹ کے سربراہ نے رہبر کے حکم پر پاکستان جاکر مذاکرات میں شرکت کی اور آپ نے دیکھا ان کے خلاف کتنی باتیں کی گئیں ،قیامت کے دن ہمیں اپنے فیصلوں کا جواب دینا ہوگا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی صحت کے بارے میں کہا کہ رہبر معظم انقلاب صحیح و سالم اور تندرست ہیں البتہ ان کے لئے حفاظتی پہلوؤں کا مکمل انتظام کیا گیا ہے اس لئے کوئی فکر کی بات نہیں ہے ۔
معاشی جنگ ؛فوجی جنگ کا تسلسل ہے
آیت اللہ احمد مروی نےاپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اقتصادی اور معاشی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اس ہتھیارپر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ایران کی بحری ناکہ بندی کرنا چاہتا ہے لیکن خدا کے فضل و کرم سے یہ ناکہ بندی ٹوٹ چکی ہے ، لیکن دشمن کو امید ہے کہ وہ ایران کو معاشی طور پر کمزور کر دے گا۔
انہوں نے تاجروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تجّار اللہ کے دوست اور محبوب ہیں اس لئے اللہ کے محبوب افراد کو اللہ کے بندوں کی فکر ہونی چاہئے ،الحمد للہ ایران کے تاجروں نے ہمیشہ مکتب تشیع، علمائے کرام،مرجعیت، امامت اور ولایت کا دفاع کیا ہے ، اس لئے تاجروں کو چاہئے کہ وہ موقع پرستوں کا مقابلہ کریں ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر تاکید کی کہ جنگی حالات میں بچت اور قناعت کی ضرورت ہے ہم جنگ میں ہیں اس لئے بچت کو مدّ نظر رکھا جائے ایک دوسرے کی مدد کریں ،جو بے روزگار ہوئے ہیں ان کی مدد کریں تاکہ کامیابی سے ان حالات سے گزر سکیں۔