’’ایک امت مسلمہ کی تشکیل میں افغان شیعوں کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقدہ نشست میں افغانستان کے شہر ہرات کے امام جمعہ نے مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان شیعہ اس واحد امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور تمام اسلامی مکاتب فکر کے مابین اتحاد ویکجہتی کے استحکام سے عالم اسلام کو عزت و اقتدار ملے گا۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حرم امام رضا(ع) کے ادارہ غیرملکی زائرین کے شعبہ برصغیر اورادارہ تبلیغات اسلامی کی معاونت سے ’’ایک امت مسلمہ کی تشکیل میں افغان شیعوں کا کردار‘‘ کے عنوان سے حرم امام رضا(ع) کے رواق دارالمرحمہ میں ممتاز شخصیات کی ایک نشست منعقد ہوئی ۔
اس نشست میں افغانستانی ممتاز شخصیات، طلباء،علمائے کرام اور ثقافتی کارکنان نے شرکت کی اور افغانستان کے شیعوں کے اسلامی اتحاد اور اسلامی امت کی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے میں کردار پر گفتگو اور تبادلہ خیال کیا۔
افغانستان کے شہر ہرات کے امام جمعہ حجت الاسلام حاج محمد روحانی نے اپنی گفتگو کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے تمام امت مسلمہ کو ایک امت کی تشکیل کی دعوت دی ہے اور یہ تصور عالم اسلام کی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ترین حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔
شیعہ و سنی اتحاد پر زور
ھرات کے امام جمعہ نے کہا کہ شیعہ اور سنی ،عالم اسلام میں ایک وجود کے دو حصے ہیں، اس لئے مذہبی اختلافات کو تفرقے کا سبب نہیں بننا چاہیے اور مسلمانوں کو باہمی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے ہمدردی اور تعاون کی راہ پر چلنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغان شیعوں نے ہمیشہ خود کو واحد امت مسلمہ کا حصہ سمجھا ہے اور مسلمانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی کو مستحکم کرنے کی راہ میں کوششیں کی ہیں۔
تکفیر سے بچنے پر تاکید
حجت الاسلام روحانی نے مسلمانوں کے درمیان اخلاقی رویّے اور باوقار تعاون کو وحدت کے حصول کے اہم عوامل میں سے قرار دیتے ہوئے زور دیا: محبت بھرا برتاؤ، خلوص اور ہم آہنگی اسلامی مکاتب فکر کے درمیان قربت کو بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کےدوسرے حصے میں خطے میں گزشتہ برسوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ، فلسطین، لبنان اور یمن سے متعلق واقعات مسلمانوں میں مزاحمتی جذبے کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے ظلم کے خلاف مزاحمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ حق کا محاذ باطل کے محاذ کے مقابلے میں کھڑا ہونا چاہیے اور امت مسلمہ اتحاد اور ہمدردی کو برقرار رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔