آستان نیوز اور صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کی میڈیا رپورٹ کے مطابق؛ صوبہ خراسان رضوی کے پارلیمانی ارکان کے بورڈ سربراہ نے آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ مروی کی حالیہ تاکیدات کا ذکر کرتے ہوئے کہ نقل و حمل، رہائش، پارکینگ اور زیارت میں سہولت کے بنیادی ڈھانچوں کو انتظامی اداروں کے ذریعے توسیع و ترقی دی جائے ، انہوں نے اس بیان کو اہم مطالبہ قرار دیا اور اسے حکومت، پارلیمنٹ،گورنریٹ اور میونسپلٹی کے ساتھ تعامل میں صوبہ خراسان رضوی کے ارکان پارلیمان کے بورڈ کے منصوبوں کا مرکزی محور قرار دیا۔
انہوں نے مشہد مقدس میں سالانہ تین کروڑ زائرین کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر صرف ایک بڑا شہر نہیں ہے بلکہ ایک مقدس اور زیارتی شہر ہے جو نہ فقط پورے ملک بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں اور زائرین کےلئے ملجا اور پناہ گاہ ہے،اس لئے اس شہر میں زائرین کی میزبانی کے لئے بہترین وسائل و انتظامات فراہم کئے جانے چاہئیں ۔
ہائی اسپیڈ ٹرین اور حرم تا حرم روڈ
صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ نے آستان قدس رضوی کے متولی کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے مذکورہ بورڈ کے عملی پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہائی اسپیڈ ٹرین، جس کا شہید رئیسی کی حکومت میں سنجیدگی سے مطالبہ کیا گیا تھا، اسے نمائندوں کی حمایت اور حتی نجی شعبے کی مشارکت سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا، اور ‘حرم تا حرم’ روڈ پروجیکٹ جو بدقسمتی سے شاہرود سے مشہد تک رک گیا ہے اور اس کے ابتدائی مراحل کو 10 سے 15 سال گزر چکے ہیں، اس کے لئے فوری تدبیر اور دوبارہ بحالی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مشہد ایئرپورٹ اور سبزوار ایئرپورٹ کو بطور متبادل ائیرپورٹ، اور ایئرپورٹ سٹی کی توسیع کو بھی ایجنڈے میں شامل قرار دیا اور خراسان میں شہری ٹرینوں کی ترقی اور ریل نیٹ ورک کے استعمال پر زور دیا۔
زائرین کے لئے رہائش گاہوں اور فلاحی خدمات کی توسیع و ترقی پر تاکید
محبی نجم آبادی نے زائرین کے لیے رہائش گاہوں اور فلاحی خدمات کی توسیع و ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ ان تمام شعبوں اور حصوں میں سرمایہ کاری کی حمایت کرے گا جو بہتر خدمات، وسیع تر سہولیات اور موثر تر بنیادی ڈھانچے کی فراہمی، زیارت میں سہولت اور زائرین کی میزبانی کے معیار میں اضافے کا باعث بنیں؛ کیونکہ یہ آستان قدس رضوی کے محترم متولی اور عزیز زائرین کے مابین ایک مشترکہ تشویش ہے اور اسے سنجیدگی سے پورا کیا جانا چاہیے۔ صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کے بورڈ کے سربراہ نے محترم صوبائی گورنر اور مشہد کی انتظامیہ کو اسے عملی جامہ پہنانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پارلیمانی بورڈ باقاعدہ اجلاسوں کے انعقاد، ڈائریکٹرز جنرل کے ساتھ مسلسل رابطے، عملی رکاوٹوں کا جائزہ لینے اور پورے صوبے میں سہولیات کی منصفانہ تقسیم پر نگرانی کے ذریعے، انتظامی اداروں کے مابین زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کا خواہاں ہے اور زیارت میں سہولت اور زائرین کو مناسب خدمات کی فراہمی سے متعلق شعبوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حمایت کرے گا۔
آستان قدس رضوی میں پارلیمانی ادارے کا قیام
آستان قدس رضوی میں پارلیمانی ادارے کے قیام کی ضرورت کے حوالے سےگفتگو کرتے ہوئے محبی نجم آبادی نے کہا کہ یہ تجویز آیت اللہ مروی کے ساتھ صوبہ خراسان رضوی سے منتخب ارکان پارلیمان کی پہلی ملاقات میں پیش کی گئی تھی اور آنے والی ملاقاتوں میں اس پر دوبارہ گفتگو کی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ پہلا اور سب سے اہم قدم، آستان قدس رضوی کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم کرنا ہے تاکہ اس آستانہ کی عظیم صلاحیتوں کو صوبے کے عوام کے مفاد اور زائرین کی زیارت کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جناب محبی نجم آبادی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر تاکید کی کہ صوبہ خراسان رضوی کا پارلیمانی بورڈ ،با اثر کمیشنز میں بشمول کمیشن’’اصل 90‘‘میں اپنے اٹھارہ نمائندوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہوتے ہوئے آستان قدس کے متولی کے مطالبات کے مطابق حکومت، پارلیمنٹ، گورنریٹ اور میونسپلٹی کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا ۔
آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام اداروں ہم دلی اور ہم آہنگی کے ساتھ ،خراسان رضوی اپنے حقیقی مقام تک پہنچ پائے گا اور امام رضا(ع) کے زائرین، اطمینان سے زیارت کر یں گے۔