آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آیت اللہ احمد مروی نے مؤرخہ 27 ستمبر2026 بروز اتوار کو حرم امام رضا(ع) کی مسجد جامع گوہر شاد کے شبستان میلانی میں درس خارج فقہ کے آغاز میں صدر مملکت کے اقوام متحدہ میں خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب نے اس خطاب کو سراہا اور یہ سراہے جانے کے لائق بھی تھا۔ صدر نے ایسے موقف کے ساتھ تقریر کی جو عزت، اقتدار، حکمت، منطق اور صلابت پر مبنی تھی، انہوں نے ایسا کام کیا کہ کوئی بھی، چاہے دوست ہو یا دشمن، یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے امریکہ سے ذرہ برابر بھی نرمی برتی ہو، مرعوب ہوئے ہوں یا کہیں سے بھی امریکہ کا رعب ان پر طاری ہوا۔
انہوں نے کہا کہ صدرمملکت نے خطاب کے لئے ایک تحریری مسودہ تیار کر رکھا تھا ، لیکن امریکہ کے رذیل و پست اور بد کردار صدر کے بیان کے بعد، انہوں نے اس تحریری مسودے کو ایک طرف رکھ کر ایسا خطاب کیا ،ایسا دلیرانہ اور منطقی خطاب جو ہمارے لئے باعث افتخار تھا۔
آيت اللہ مروی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں اس طرح کا خطاب بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی صدر ، طاقت و اقتدار اور منطق کے ساتھ خطاب کرے ، کوئی بھی منصف اور باضمیر انسان جب یہ باتیں سنے گا تو فیصلہ کرے گا کہ یہ باتیں منطقی ہیں۔
خارجہ پالیسی کے تین عناصر؛عزت، حکمت اور مصلحت
آیت اللہ احمد مروی نے شہید رہبر(رح) کی خارجہ پالیسی سے متعلق تین عناصر’’عزت،حکمت اور مصلحت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تین عناصر ہماری خارجہ پالیسی میں بنیادی عناصر ہونے چاہئیں اور یہ خطاب بھی اسی فریم ورک اور دائرہ میں تھا؛ اس میں عزت بھی تھی اور مصلحت بھی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے موضوع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے کہا کہ میں ایران کے صدر سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں، شاید کچھ لوگوں نے کوشش بھی کی کہ ایسا ہو جائے۔ لیکن ایران کے صدر نے کہا کہ مذاکرات کیسے؟ اس امریکی صدر کے ساتھ جو بھی وعدہ اور معاہدہ کیا جائے، وہ چند دن بعد اسے پھاڑ دیتا ہے؛ میں اس کے ساتھ کیا مذاکرات کروں؟
انہوں نے کہا کہ کتنے ممالک کے صدور لائن بنائے کھڑے تھے کہ امریکی صدر سے ملاقات ہو جائے تاکہ جب ہم اپنے ملک واپس جائیں تو کچھ لے کر واپس جائیں اور کہیں کہ ’’ہم نے شیطان بزرگ سے ملاقات کی ہے !،ہم نے شیطان بزرگ کے ساتھ ایک گلاس پانی پیا ہے !‘‘لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا ، تاہم ہمارے صدرنے کہا کہ’’ میں تم سے مذاکرات نہیں کروں گا‘‘، یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و اقتدار ہے ۔
آیت اللہ احمد مروی نے اس طرز عمل کی تشکیل میں حضرت امام خمینی(رح) اور شہید رہبر(رح) کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خداوند متعال امام خمینی(رح) اور شہید رہبر(رح) پر رحمت نازل فرمائے جنہوں نے ہمارے لئے اس طرح عزت قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ عزت کی بھی قیمت ہوتی ہے ،پابندیاں،دباؤ اور اذیتیں موجود ہیں اور عوام کے لئے سخت ہیں بہت سخت ہیں لیکن ایرانی قوم اپنی عزت پر قائم ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ ہم اپنی جانب سے صدر جناب ڈاکٹر پزشکیان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا شاندار خطاب کیا ، مجھے یقین ہے کہ ہمارے شہید اور عظیم رہبر(رح) کی پاکیزہ روح خوش ہوئی ہو گی،اس خطاب میں دشمن کے سامنے ذرا سابھی تزلزل ،بے منطقی یا خوف نہیں تھا۔
آیت اللہ مروی نے شہید رہبر(رح) کی صدر مملکت کے بارے میں بیان کی گئی تعبیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہید رہبر(رح) نے ہمارے ملک کے صدر کے بارے میں جو تعبیرات استعمال کیں ان میں سے ایک ‘صادق’ (سچا) تھی۔ وہی صداقت ان کی مدد کر رہی ہے اور کرے گی۔ انسان اگر خدا کے ساتھ سچا اور مخلص ہو تو خدا اس کی مدد کرتا ہے۔
آستان قدس رضوی کےمتولی نے اقوام متحدہ میں صدرمملکت کے خطاب کو باعث افتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کو یہ سیکھنا چاہیے اور اپنے سربراہوں سے کہنا چاہیے کہ اس طرح جا کر بات کریں، اس طرح تقریر کریں اور ان طاقتوں کے سامنے کھڑے ہوں۔
آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کی رحلت بہت بڑا سانحہ تھا/ان کی علمی محفل آخری رات تک جاری رہی
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں آیت اللہ العظمیٰ سید موسی شبیری زنجانی کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کو ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا اور مرحوم کی علمی، اخلاقی اور زاہدانہ خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تشہیر سے پرہیز کرتے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ علمی مباحثوں، رجالی اور فقہی تحقیق اور فقہی مسائل کی باریکیوں اور گہرائیوں میں گزارا۔
آیت اللہ مروی نے آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کے فقہی آثار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات واقعی بہت بڑا صدمہ تھا ، یہ عظیم مرجع اپنی تشہیر کی اجازت نہیں دیتے تھے اور ان کے یہاں زیادہ تر علمی بحثیں، رجالی اور فقہی مباحثے اور فقہی مسائل میں ان کی باریک بینی اور تحقیق ہی زیرِ بحث رہتی تھی۔
انہوں نے آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی کی اخلاقی خصوصیات اور سادہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت عظیم انسان اور زاہد تھے۔ مشہد میں طبرسی روڈ میں ان کا گھر تھا اور جب بھی وہ مشہد آتے تو میں ان سے ملنے جاتا۔ ان کا گھر بہت پرانا اور خستہ حال تھا؛ اس طرح کہ اگر زلزلہ آتا تو گر جاتا۔ گلیوں میں بھیڑ، اور زائرین اور گاڑیوں کے شور سے ان کی گلی بھی بھری ہوتی تھی ۔ میں نے ان سے کہا کہ اپنا گھر تبدیل کریں، لیکن انہوں نے کہا «نہیں، یہی گھر اچھا ہے۔» میں نے ان سے کہا کم از کم کسی اور محلے میں چلے جائیں جو زیادہ خالی اور پرسکون ہو، لیکن وہ قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ بہت زاہد انسان تھے۔
آیت اللہ مروی نے آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی کی حرم حضرت معصومہ (س) میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ حرم حضرت معصومہ (س) میں امام جماعت تھے اور تنہا حرم آتے، نماز پڑھتے اور واپس چلے جاتے۔
انہوں نے آیتالله العظمیٰ شبیری زنجانی کی علمی تحقیق اور باریک بینی کو قابلِ احترام اور لائقِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی تحقیق اور باریک بینی سب کے لیے قابلِ احترام اور تحسین آمیز تھی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس جلیل القدر مرجع کی علمی سرگرمیوں کا عمر کے آخری ایّام تک جاری رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آخر تک اپنے علمی مباحث کو جاری رکھا اور اپنی وفات سے ایک رات پہلے تک ان کی علمی نشستیں چلتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمر کے آخری حصے میں وہ خود بحث و گفتگو کا آغاز نہیں کرتے تھے ، کوئی بھی شخص رجالی یا فقہی بحث شروع کرتا یا ان کے صاحبزادے جو خود فاضل ہیں، بحث کا آغاز کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ سنتے تھے اور اگر کہیں کوئی اصلاح کرنے یا کوئی نکتہ بیان کرنے کی ضرورت ہوتی تو وہ بحث میں شامل ہو کر کوئی بات بیان کرتے تھے۔ آخری رات تک ان کی علمی نشستیں برقرار رہی ہیں۔
شہید رہبر کے ساتھ زمانہ طالب علمی سے دیرینہ دوستی
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی کی شہید رہبر (رح) کے ساتھ بہت پرانی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہید رہبر معظم (رح) کے ساتھ بہت پرانی رفاقت تھی اور زمانہ طالب علمی سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ مانوس تھے۔ آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی قمری حساب سے 103 سال اور شمسی حساب سے 99 سال کے تھے اور عمر کے لحاظ سے شہیدرہبر(رح) سے تقریباً 12 یا 13 سال بڑے تھے۔
آیت اللہ مروی نے شہید رہبر(رح) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید اور عظیم رہبر(رح) فرماتے تھے کہ زمانہ طالب علمی کے دور میں جب میں قم تھا تو آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کے ساتھ رفیق تھا اور ہم مل کر آقا شیخ مرتضی حائری، رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، کے درس میں جاتے تھے۔ رہبر شہید ان کے ساتھ بہت مانوس اور رفیق تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب شہید آقا قم تشریف لاتے تھے تو مراجع سے ملاقاتیں کرتے تھے اور ہمیں بھی ان کی خدمت میں رہنے کی توفیق حاصل ہوتی تھی۔ آیتالله العظمیٰ شبیری زنجانی کے ساتھ ان کی ملاقات منفرد اور بہت پُرسکون ہوتی تھی۔
آیت اللہ احمد مروی نے آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کے قوی حافظے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حافظہ بہت مضبوط تھا اور ان کے ذہن میں علمائے کرام اور بزرگان کی بہت سی یادیں محفوظ تھیں؛ یہ تمام یادیں درس کی ایک کتاب کی مانند ہیں۔
انہوں نے ان کی یادوں کے مجموعہ’’جرعہ ای از دریا‘‘(دریا کا ایک قطرہ) کے شائع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یادوں پر مشتمل یہ مجموعہ شائع ہو چکا ہے اور یہ چار یا پانچ جلدوں پر مشتمل ہے، آقا رضا مختاری جو ان کے شاگردوں میں سے ہیں اور ایک فاضل طالب علم ہیں، راستے میں گھر سے مسجد تک اور گھر سے درس کی جگہ تک ان کے ساتھ ریکارڈنگ کا آڈیو پلیئر رکھتے تھے اور آیتالله العظمیٰ شبیری زنجانی سے یادیں ریکارڈ کرتے تھے؛ ان گفتگوؤں میں علمی مباحث بھی زیرِ بحث آتے تھے اور اخلاقی و سبق آموز باتیں اور یادیں بھی؛ یہ وہ مجموعہ ہے جو آخرکار چار، پانچ جلدوں پر شائع ہو چکا ہے۔
دفاع مقدس کے آٹھ سال ،اس ملک کا آٹھ سالہ اعزاز
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں ہفتہ دفاع مقدس کا ذکر کرتے ہوئے ان اٹھ برسوں کو اس ملک کے لئے آٹھ سالہ اعزاز قرار دیا اور اس دور کی یادوں کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کے لئے جنگ کی تاریخ کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دفاع مقدس کے آٹھ برسوں کی یادوں کو زندہ رہنا چاہئے، کیونکہ یہ آٹھ سال اس ملک کا اعزاز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے آٹھ سال ملک کا دفاع کیا اور جنگ لڑی ، نہ فقط صدام کے ساتھ بلکہ ان تمام طاقتوں کے ساتھ جو اس کے ساتھ دے رہی تھیں۔ صدام دراصل بڑی طاقتوں کی پالیسی کا نمائندہ اور کارندہ تھا؛ امریکہ اور سابق سوویت یونین سے لے کر مختلف ممالک تک جو اس دور میں ایرانی قوم کے مقابلے میں کھڑے تھے۔
آیت اللہ احمد مروی نے کہا کہ ہم ان تمام طاقتوں کے سامنے ڈٹ گئے؛ وہ بھی ایسی حالت میں کہ اسلامی جمہوریہ ایک نوخیز حکومت تھی۔ اس کے باوجود، ہم نے آٹھ سال مزاحمت کی اور اپنے ملک کی زمین کا ایک انچ بھی نہیں گنوایا۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز اور اس ملت کی تاریخ میں ایک پائیدار دستاویز ہے۔
معاصر تاریخ اور دفاع مقدس کی یادوں کے مطالعےپر زور
آیت اللہ احمد مروی نے شہید رہبر معظم انقلاب(رح) کی جانب سے ایران کی تاریخ کے مطالعہ پر زور دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی تاریخ کے ایک ممتاز اور ماہر تاریخ دان تھے اور ہمیشہ نوجوانوں کو نصیحت کرتے تھے کہ ایران کی معاصر تاریخ کا مطالعہ کریں۔ وہ خود بھی ایران کی تاریخ پر بہت زیادہ عبور رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر معظم انقلاب(رح) اپنی تقاریر میں اشارہ کرتے تھے کہ تقریباً گزشتہ 250 برسوں میں، ایران پر جو بھی جنگ مسلط کی گئی، آخرکار ملک کا کچھ نہ کچھ حصہ ہاتھ سے نکل گیا؛ لیکن اسلامی جمہوریہ کے دور میں، ملک پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی اور اس کے باوجود کہ مختلف طاقتیں ایران کے مقابل تھیں، ملک کی ایک انچ زمین بھی نہیں دی گی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس موضوع کو ایرانی قوم کے لئے اعزازی سند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس قوم کی اعزازی سند ہے،دفاع مقدس کے آٹھ برسوں میں ایرانی قوم مزاحمت، استقامت اور صبر و تحمل کی ایک سند ہے۔
انہوں نے اس زمانےکو یاد کرتے ہوئے اور نئی نسلوں کے لئے از سر نو مطالعہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس زمانے کے عظیم کارناموں کوخراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے، اس کے بارے میں عوام سے بات کی جانی چاہئے اور نئی نسلوں کے لئے جنگ کی تاریخ دوبارہ پڑھی جانی چاہئے۔
آیت اللہ احمد مروی نے دفاع مقدس سے متعلق آثار اور جانبازوں کی جانفشانیوں کے مطالعے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ دفاع مقدس کے دور اور رزمندگان کی یادوں سے متعلق کتابیں پڑھیں۔ رہبر معظم انقلاب نے ان میں سے بہت سی کتابوں پر تقریظ لکھی ہیں اور یہ تقریظیں عوام کو ان آثار کے مطالعے کی ترغیب کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر معظم انقلاب(رح) دفاع مقدس کے زمانے سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے اور پھر ان میں سے بعض پر تفریظ لکھتے تھے ، ان میں سے بعض تقریظیں بہت گہری اور مؤثر ہیں اور دل سوزی اور اخلاص کے ساتھ لکھی گئی ہیں؛ مثال کے طور پر، بعض مقامات پر ان کی تعبیرات اس مضمون کے ہیں کہ کاش میں اس نوجوان کی جگہ ہوتا۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ عوام کو ہفتہ دفاع مقدس میں شہداء، جانبازوں، حریت پسندوں اور مسلح افواج کے خاندانوں سے ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے محلے، شہر یا زندگی کے ماحول میں کسی شہید، جنگي معذور ، صدام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے سپاہیوں اور فوجیوں یا جانباز کا خاندان موجود ہے تو ان کے پاس جائیں؛ حتی ایک ڈبہ مٹھائی لے کر ان سے ملنے جائیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ان خاندانوں اور ان افراد کی تکریم وتجلیل کی جانی چاہئے ، ہمیں ان کے پاس جانا چاہئے ، ان کی باتیں سننی چاہیئے اور اس دور کی یادوں اور قربانیوں کو فراموش نہیں ہونے دینا چاہئے۔