آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 481
20:08

2026/10/04

ایسے ملک میں نماز قائم کرنا جس میں اسلامِ نابِ محمدی(ص) کا پرچم بلند ہے ،اہم ترین امور میں شامل ہے؛ رہبر معظم انقلاب کا بیان

بثیص
نماز کا 33 واں عالمی اجلاس جس کا موضوع ’’شہید رہبر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے افکار اور عمل کی روشنی میں نماز کا قیام‘‘ تھا ،آج صبح قدس ہال میں منعقد ہوا ، اجلاس کے آغاز پر رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای(حفظہ اللہ)کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ یکم اکتوبر2026 بروز جمعرات کو نماز کا 33 واں عالمی اجلاس منعقد ہوا اور اس اجلاس کے پہلے حصے میں رہبر معظم انقلاب(حفظہ اللہ تعالیٰ) کا پیغام رہبر معظم انقلاب کے دفتر کےشعبہ بین الاقوامی امور  کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محسن قمی نے پڑھ کر سنایا، پیغام میں درج ذیل نکات شامل تھے:
’’بسم‌الله‌الرّحمن‌الرّحیم‘‘
نماز کے قیام کی اہمیت پر توجہ دینا خاص طور پر نماز سے متعلق اجلاس کا انعقاد ،ان ضروری اور لازمی اقدامات میں سے ہے جو نوّے کی دہائی کے آغاز سے ایک مجاہد عالم دین اور قرآنی اسکالر و مبلغ حجت الاسلام والمسلمین قرائتی(دامت برکاتہ) کی تلاش اورکاوشوں سے تشکیل پایا۔
گذشتہ 32 اجلاسوں میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی خصوصی توجہ اور مسلسل تاکید بھرے بیانات سے اس کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے ۔
یقیناً نماز کے بارے میں بولنا یا لکھنا ، وحیِ الہیٰ اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی شان کے مطابق ہے، اور مجھ جیسے افراد کا قلم اس مقام سے بہت چھوٹا ہے کہ وہ نماز کے معارف کی گہرائی سے متعلق کچھ کہہ سکیں، لیکن اسلامی معاشرے کی شناخت اور اس کے خادموں کی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ میں اس حوالے سے اپنے لیے، عوام اور ذمہ داران کے لیے چند جملے بطور یاد دہانی پیش کروں۔
نماز، خداوند متعال کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے ، دین کا سب سے بڑا ستون اور علامت ہےاور خالق سے براہ راست تعلق کا ذریعہ ہے ،یہ فلاح اور کامیابی کا جوہر ہے اور نفسانی شیطان اور دنیاوی شیطانوں کے خلاف جنگ میں انسان کا مضبوط ترین سہارا اور ڈھال ہے ، یہ محبت، امید، مہربانی اور سکون کا سرچشمہ بھی ہے، اور نماز کے قیام اور استغفار کے ذریعے ہی اللہ کی رحمتوں اور رزق کی فراوانی کا نزول ہوتا ہے۔
تاہم نماز کا فریضہ محض ایک انفرادی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق؛ نماز کا قیام صالحین کی حکومت کا پہلا ثمرہ اور علامت ہے ، جیسا کہ ارشاد رب العزّت ہے«اَلّذینَ اِنْ مَکَّنّاهُم فی الأرضِ اَقاموا الصَّلاة».
سورہ مبارکہ حج میں خداوند متعال کے دوستوں اور ان کے جہاد کے بارے میں الہیٰ نصرت کے وعدے کی آیت کے فوراً بعد اس آیت کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ نماز قائم کرنا، ذکر خدا، امید اور اس پر بھروسہ کرنے کے عنوان سے جہاد کے میدان میں، خاص طور پر اس وقت جو میدان مقابلہ ایرانی قوم کے سامنے ہے ، کامیابی کے لئے ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔
 آج جب ایران کے عزیز عوام کی طاقت اور اقتدار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، تو ہر ایک ایرانی شہری اس الہی حکم کا مخاطب ہے کہ ’’نماز قائم کرو‘‘(اقیموا الصلواۃ) ۔ اس کے علاوہ معاشرے کے تمام بااثر افراد، جن میں والدین، اساتذہ، دوست، ماہرین، علمی و ثقافتی شخصیات، مساجد، جمعہ کے خطباء، اسکول، یونیورسٹیاں، مدارسِ علمیہ، ٹی وی، ثقافتی و سماجی کارکنان اور بالخصوص وہ جو نوجوانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ان سب کی ذمہ داری دوگنی ہے۔
معاشرے اور ملکی سطح  پر نماز کا قیام، اسلامِ محمدی (ص) کے پرچم کو بلند کرنے والے ملک میں، انتہائی اہم امور میں شامل ہے۔ اسلام کی تحریک اور انقلاب سے لے کر اسلامی معاشرے تک کے سفر میں نماز کا قیام ناگزیر ہے، اور اسی کے ذریعے اسلامی تہذیب کے مقام تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
نماز کو عام کرنا اور اس کے معیار کو بہتر بنانا، اس مقصد کے حصول کے لیے دو اہم پہلو ہیں۔ مساجد اور دیگر مقامات کی تعمیر و آباد کاری، اور نمازِ جماعت اور جمعہ کی تعداد اور معیار کو بڑھانے کی کوششیں، اس اہم منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری مقدمات ہیں۔ ان تمام معاملات میں ائمہ جماعت اور خطباء کا کردار بہت نمایاں ہے، کیونکہ انہیں عوام کی پناہ گاہ اور ان کے دکھ درد سننے والا ہونا چاہیے۔
امید ہے کہ پروردگار عالم کے فضل و کرم اور امام زمانہ(عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)کی خاص توجہ اور دعا سے ہماری عزیز ملت اور ملک نماز قائم کرنے اور اس کی برکات سے بہرہ مند ہونے میں کامیاب ہوگا ۔
نماز کی ترویج کے لئے عملی کردار پر تاکید
اس عالمی اجلاس کے تسلسل میں آستان قدس رضوی کے متولی آیت اللہ احمد مروی نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے نماز سے متعلق گذشتہ اجلاس کے بیانات کے کچھ حصوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے فکری نظام میں اس فریضے کی اہمیت پر گفتگو کی اور حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی کی نماز سے متعلق اجلاس کی تشکیل اورانہیں جاری رکھنے اور ان کی دیگر کاوشوں کو سراہا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے تاکید کی کہ نماز کی ترویج صرف فضائل کے بیان اور معرفتی مواد تیار کرنے سے ممکن نہیں ہے، بلکہ معاشرے کے ایک حصے کی اس فریضے سے بے اعتنائی کی وجوہات کا تعلیم و تربیت، سماجیات اور نفسیات کے ماہرین کی مدد سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نمازیوں کا رویّہ،گفتاراور سماجی طرزِ عمل نیز دینی اداروں کی کارکردگی دوسروں کے نماز اور دینی اقدار کے بارے میں نقطہ نظر پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اور پاکیزہ، آراستہ اور نماز کی شان کے مطابق مقامات فراہم کرنا خود اس فریضے کی عملی دعوت کا ایک حصہ ہے۔
نماز کی ترویج کے لئے نئی نسل کی طرف جانے کی ضرورت
نماز کے اس عالمی اجلاس کے تسلسل میں ملک کی نماز کمیٹی کے چیئرمین حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی سے منسوب ایک تفسیری نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم (ع) قرآن میں دو مرتبہ اپنی اولاد کے بارے میں بات کرتے ہیں؛ ایک بار امامت اور رہبری کے مسئلے میں اور دوسری بار نماز قائم کرنے اور اپنی نسل کے نمازی ہونے کے بارے میں، جو نسل کی تربیت میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے ۔
انہو ں نے امام رضا(ع) کی سیرت پر روشنی ڈالتےہوئے کہا کہ حضرت کی صائبین کے ایک بزرگ کے ساتھ ہونے والے اہم مناظروں میں سے ایک میں، بحث ایک نازک مرحلے پر پہنچ گئی تھی اور وہ ، امام (ع) کی بات قبول کرنے کے لیے تیار ہو چکا تھا، لیکن نماز کا وقت ہوتے ہی، امام رضا (ع) نے بحث جاری رکھنے کی بجائے نماز کو ترجیح دی۔
حجت الاسلام قرائتی نے کہا کہ ایک اور مثال میں، امام رضا (ع) لکھتے وقت اذان کی آواز سن کر کام چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے؛ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ نماز کا مقام عمل اور طرزِ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے، نہ یہ کہ صرف اس کی اہمیت کے بارے میں باتیں کی جائیں۔
ملک کی نماز کمیٹی کے چیئرمین  نے دینی معارف کی تبلیغ کے طریقہ کار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مخاطبین سے ایک ہی زبان میں بات نہیں کی جا سکتی، اور بچوں اور نوجوانوں سے لے کر معاشرے کے دیگر طبقات تک مختلف گروہوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ان کے مطابق روش اور زبان تلاش کرنی ہوگی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ رابطے کے لیے یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ وہ دینی اداروں کے پاس آئیں؛ بلکہ ہمیں ان کے پاس جانا چاہیے اور تبلیغ کو فعال طریقے سے اور گھر گھر جاکر انجام دینا چاہئے۔
حجت الاسلام قرائتی نے ’’تبلیغ تن بہ تن‘‘یا گھر گھر جاکر تبلیغ اور خصوصی نشسوں کو دینی معارف کی توسیع میں اہم صلاحیتوں میں شمار کیا اور کہا کہ بہت سے مؤثر تربیتی اور دینی رابطے انہی چھوٹے اجتماعات اور افراد سے براہِ راست رابطے میں تشکیل پا سکتے ہیں۔
انہوں نے ذمہ داریوں کی انجام دہی کے بارے میں قرآنی اصل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کام کو جہاں تک ممکن ہو درست اور مکمل طور پرانجام دینا چاہئے اور اگر اسے مکمل انجام دینا ممکن نہ ہو تو اصل کام کو ترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ جتنا ہو اتنا ہی کرنا چاہئے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں انقلاب سے پہلے کے برسوں میں شہید رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) سے مشہد مقدس میں اپنی آشنائی کا ذکر کیا اور تبلیغ کے طریقوں اور نئی نسل کے ساتھ رابطے میں رہنے کے تجربات بیان کئے ۔
شہداء کے معزز گھرانوں اور نماز کے شعبے میں فعال بہترین اداروں کو خراج تحسین
نماز سے متعلق 33 ویں عالمی اجلاس کے دوران شہداء کے کخھ اہل خانہ  اور نماز کے قیام کی کارکردگی کے جائزے میں منتخب اداروں کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔
قابل توجہ ہے کہ یہ تقریب  حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی،آستا ن قدس رضوی کے نائب متولی مصطفی فیضی، آئمہ جمعہ کی پالیسی کونسل کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محمد جواد حاج علی اکبر، وزیر تعلیم و تربیت علیرضا کاظمی اور صدرمملکت کے نائب اور جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی اور چند ایک دیگر حکام کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
شہداء کے گھرانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے دوران  شہید زہرا حداد عادل،  شہید  جنرل حسین سلامی اور شہیدان شوشتری کے خاندانوں کی قدردانی کی گئی اور حاضرین کے درمیان ان شہداء کی یاد تازہ کی گئی۔ اس کے علاوہ،  سردار شہید محمد کاظمی کوخراج عقیدت پیش کیا گیا۔
اس تقریب میں شہداء کے گھرانوں اور منتخب افراد کو حجت الاسلام والمسلمین قرائتی کی ’’تفسیر نور‘‘ شہید رہبر معظم انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالی علیہم) کی طرف سے متبرک انگوٹھی اور تعریفی اسناد بطور تحفہ پیش کی گئیں۔
اس کے بعد، نماز کے قیام کی کارکردگی کے جائزے میں قابلِ تعریف اداروں کو متعارف کرایا گیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وزارت تعلیم و تربیت، ایران کی جوہری توانائی کا ادارہ، ملک کامحکمہِ جیل خانہ جات و اصلاح و تربیت، وزارت ثقافت و ارشاد اسلامی، امام خمینی (رح) امداد کمیٹی، وزارت اقتصادی امور و دارایی، فاؤنڈیشن برائے امورِ شہداء و ایثارگران، اور وزارتِ توانائی ان مجموعوں میں شامل تھے جنہیں اس حصے میں سراہا گیا۔
اس کے تسلسل میں، بینک کشاورزی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، وزارت ارتباطات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ادارہ اوقاف و امور خیریہ بھی منتخب اداروں میں شامل تھے جنہیں سراہا گیا اور ان اداروں کے نمائندے ایوارڈ اور اجلاس کے تحائف وصول کرنے کے لیے اسٹیج پر حاضر ہوئے۔
اس تقریب کے دوران صدرمملکت کے نائب اور ایٹمی توانائی ادارے کے چیئرمین نے شیلڈ وصول کرنے کے بعد اس ادارے کی قرآنی معارف کی ترویج پر توجہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2022 سے اس ادارے کے قرآنی پروگراموں میں حجت الاسلام والمسلمین قرائتی کی تفسیر نور سے استفادہ پر توجہ دی گئی اور کارکنوں کو روزانہ ایک صفحہ قرآن ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ حجت الاسلام والمسلمین قرائتی کا رواں اور واضح بیان قرآن کے مفاہیم کو بہتر سمجھنے میں مدد کرتا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ ملازمین میں قرآن اور اس کے معارف سے انس مسلسل پروگراموں کے ذریعے مضبوط کیا جائے۔
نماز کے بغیر معیاری تربیت کا کوئی مطلب نہیں
وزیر تعلیم و تربیت علیرضا کاظمی نے 33 ویں عالمی نماز اجلاس کے دوران نماز کی ثقافت کو فروغ دینے میں اسکولوں کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت تعلیم و تربیت،نماز کے قیام کے کلچر کو فروغ دینے کو اپنے اہم ترین فرائض میں سے ایک سمجھتی ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیمی نظام میں نماز کے قیام کا روڈ میپ مرتب کیا گیا ہے۔
انہوں نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی نئی نسل کو نماز سے مانوس کرنے میں اسکولوں کے اہم کردار سے متعلق تاکیدات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسکول صرف عبادات کی ادائیگی کی جگہ نہیں ہونے چاہئے بلکہ اسے طلباء کا نماز سے حقیقی انس پیدا کرنے کے لئے زمین ہموار کرنی چاہئے اور اساتذہ و اسکول پرنسپلز کو دوسروں سے پہلے اپنے کردار اور عمل سے طلباء کو نماز کی دعوت دینی چاہئے۔
وزیر تعلیم و تربیت نے اس بات پر زور دیا کہ اسی تناظر میں اس وزارت کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ طلباء اسکول کے ماحول میں نماز پڑھیں، بلکہ ہم ‘حقیقی نمازی’ تیار کرنے اور طلباء کی ذات میں نماز کو رچانے بسانے کے خواہاں ہیں؛ ایک ایسا ہدف جو اسکول، خاندان، مسجد اور نمازِ جمعہ کے درمیان موثر رابطہ قائم کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکے گا۔
جناب کاظمی نے شناخت اور آگہی سے لے کر انس، مشق اور تربیتی مواقع کی تشکیل تک کے عمل کے پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمینز، اساتذہ، مربیوں اور بالخصوص اسکولوں کے ائمہ جماعات کے لیے نماز کی دعوت کی مہارتوں کی تعلیم، تعلیم و تربیت کے پروگراموں کے اہم محوروں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے اس وزارت کے عملی پروگراموں کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے اسکولوں میں 68 ہزار سے زیادہ نماز جماعت منعقد ہوتی ہے اور بغیر نماز خانہ والے اسکولوں کی تجہیز اور نئے اسکولوں میں نماز کے لیے مناسب جگہ کی پیش بینی بھی ادارہ تعمیر و تجدیدِ مدارس’ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
وزیر تعلیم و تربیت نے مسجد و اسکول کے باہمی تعلق کو اس وزارت کے پروگراموں کا ایک اہم محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں تقریباً 10 ہزار مسجدوں اور اسکولوں کو ہدف بنایا گیا ہے، اگرچہ یہ تعداد کافی نہیں ہے اور اس رابطے کو مزید سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 60 ہزار سے زیادہ اسکولوں میں طلباء کے نماز کے اجلاس منعقد ہوئے ہیں اور 700 تعلیمی اضلاع اور 32 صوبوں میں نماز سے متعلق پروگراموں کو معرفت میں اضافے، تجربات کی منتقلی اور نماز قائم کرنے کے کلچر کو فروغ دینے کے نقطہ نظر سے آگے بڑھایا گیا ہے۔
جناب کاظمی نے نوجوانوں اور طلباء کی نماز کے بارے میں معرفت میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلباء کو نماز کے فلسفے، مادی اور معنوی زندگی پر اس کے اثرات اور نماز ترک کرنے کے نتائج سے واقف ہونا چاہیے اور اسی بنا پر اس میدان میں مواد اورکتابوں کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت پر توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے گذشتہ سال دوہزار سات سو  سے زائد ’’جشن تکلیف‘‘(بلوغ شرعی کے جشن) کے انعقاد اوراسکولوں کے سربراہان اور مربیان کے ساتھ تقریباً چار ہزار نشستوں کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ نماز سے متعلق تعلیمی و معرفتی پروگرام مختلف مجموعوں کے تعاون سے جاری ہیں۔
وزیر تعلیم و تربیت نے وزارت کے مختلف شعبوں میں کام تقسیم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم و تربیت کے ذیلی اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں تاکہ ہر شعبہ نماز کے کلچر کو فروغ دینے میں اپنا ایک مخصوص حصہ ادا کرے۔
جناب کاظمی نے ملک کے اسکولوں میں 1800 اعزازی نماز گائیڈ کرنے والوں پر مشتمل ایک نیٹ ورک کے قیام کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ یہ افراد اسکولوں کی کوریج کے ذریعے نماز کے قیام کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اسکولوں کو نماز کے پروگراموں کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
گفتگو کے آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ طلباء اور معاشرے کی سعادت کا واحد راستہ نماز کا قیام ہے؛ اول وقت کی نماز، نمازِ جماعت اور معیاری نماز۔
وزیر تعلیم و تربیت نے کہا کہ نماز کے بغیر معیاری تربیت کا کوئی معنی نہیں ہے اور نماز کا قیام ، اسلامی جمہوریہ ایران کے نظامِ تعلیم و تربیت  کی سب سے اہم ترجیح ہے ۔
شہید رہبر(رح) کی سیرت اور افکار میں نماز کی اہمیت
اجلاس کے دوران ڈاکٹر غلام علی حداد عادل نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ)کی عبادی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نماز پر توجہ صرف باتوں میں نہیں تھی بلکہ روزانہ کے پروگراموں کی ترتیب میں بھی اس طرح عمل کرتے تھے کہ پروگرام نماز سے پہلے ختم ہوں یا نماز کے بعد شروع ہوں اور نماز کا وقت کسی اور کام کے لیے مخصوص نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ نماز جماعت، نوافل اور نماز کے وقت کی پابندی پر اہتمام، شہیدرہبرمعظم انقلاب اسلامی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی اس فریضے سے سنجیدہ توجہ کی علامت تھی اور یہ توجہ ان کے رویے اور منصوبہ بندی میں عملی طور پر نظر آتی تھی۔
جناب حداد عادل نے کورونا کے قریب کے دورانیے میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی بچیوں کے جشن عبادت میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہ موجودگی بھی معاشرے کے لیے ایک پیغام رکھتی تھی اور اب بھی اس تقریب کی تصاویر اور فلموں سے اسکولوں میں نماز کی ثقافت کی توسیع کے لیے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
شہید رہبر(رح) کی نظر میں نماز کا مقام
مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کے رکن جناب غلام علی حداد عادل نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے افکار میں نماز کی اہمیت اور مقام پر گفتگو کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ دینی اور غیر دینی حکومت میں کیا فرق ہے ؟ اور کہا کہ دینی حکومت الہی حدود کے قیام اور احکامِ الہی کے نفاذ کے لیے قائم ہوتی ہے، اور اگر اس کی یہ ذمہ داری نہ ہو تو اس پر ‘دینی’ ہونے کی صفت کا اطلاق اپنا معنی کھو دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں دین کو قائم کرنے اور احکام الہیٰ کو نافذ کرنے کے دو راستے ہیں؛ ایک راستہ ثقافتی، اعتقادی اور فکری کام ہے جس کا مقصد ایمان، یقین، آخرت پر ایمان اور انسان کا خدا سے تعلق مضبوط کرنا ہے، اور دوسرا راستہ قانون سازی اور ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہے جو الہی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
حداد عادل نے تاکید کی کہ دونوں راستے ضروری ہیں، لیکن دینی حکومت میں اصل اور ترجیح انسانوں کے اندرونی ایمان کی بنیاد پر تربیت ہے؛ اگر لوگ خدا شناس، خدا پرست اور مطیعِ خدا بن کر تربیت پائیں تو دینی رویوں کا ایک بڑا حصہ خود معاشرے کے اندر سے ہی تشکیل پاتا ہے اور قانونی کارروائی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے حجاب کےمسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر معاشرے میں لڑکیاں حجاب پر یقین کے ساتھ تربیت پائیں تو یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ اس مسئلے کا حل صرف قانون سازی سے ممکن ہے ، اصل چیز اندرونی یقین کا پیدا ہونا اور دینی تربیت ہے اور قانون ان موارد کے لئے ہے جو اس عمومی قاعدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
نماز ، اندرونی ایمان کی تشکیل کا راستہ
حداد عادل نے نماز کو اس تربیت کے اہم ترین راستوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نماز انسان کو خدا سے متعارف کرانے اور اس کی اطاعت و عبادت کی مشق کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ خداوند متعال قرآن میں فرماتا ہے: ’’إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ‘‘ (بے شک نماز فحاشی اور برائی سے روکتی ہے)؛ لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں فحاشی اور برائی کم ہو، تو ہمیں نماز کے راستے سے لوگوں کو خدا سے روشناس کرانا چاہیے۔
انہوں نے نماز پر توجہ کو دینی حکومت کے لیے ایک بنیادی امر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی حکومت کو نماز کے ذریعے وسیع پیمانے پر لوگوں کی ایمانی تربیت کا راستہ ہموار کرنا چاہیے تاکہ افراد اپنے اندرونی یقین کی بنیاد پر گناہ اور لغزش سے دور رہیں۔
عوامی یقین کے بغیر قانون کافی نہیں
جناب حداد عادل نے قانون سازی کے میدان میں اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر قانون اس وقت قابلِ عمل اور مفید ہوتا ہے جب اس سے تجاوز کرنے والے اقلیت میں ہوں؛ اگر کسی معاشرے کی اکثریت کسی قانون پر یقین نہ رکھے اور اس کے سامنے جھک نہ جائے، تو قانون تنہا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے لوگوں کو اس کے موضوع کے بارے میں احترام اور اندرونی یقین ہونا چاہیے۔ قانون ان لوگوں کے لیے ہے جو عمومی قاعدے سے تجاوز کرتے ہیں، لیکن قانون بنا کر لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا نہیں کیا جا سکتا؛ ایمان کی تشکیل کے لیے طویل تربیتی کام کی ضرورت ہے اور نماز اس کے بہترین راستوں میں سے ایک ہے۔
سادہ نماز خانوں سے غافل نہ ہوں
جناب حداد عادل نے  1971 کے دوران طبس کے ایک سفر کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ اس وقت، اس شہر کے کچھ لوگوں نے اپنے گھر کا ایک سادہ سا حصہ مسافروں کی نماز کے لیے تیار کر رکھا تھا؛ ایک سادہ سی جگہ بنیادی سہولیات کے ساتھ، جو لوگوں کے لیے نماز کے قیام کا موقع فراہم کرتی تھی۔
انہوں نے شیراز میں بھی اسی طرح کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 20 سال پہلے بھی شیراز کے ایک محلے میں ایک شخص نے اپنے اپارٹمنٹ کو نماز خانے میں تبدیل کر دیا تھا اور محلے کے لوگوں نے اس کو بہت سراہا تھا۔
جناب حداد عادل نے کہا کہ ان سادہ اور قابلِ رسائی نماز خانوں کے قیام سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے پارکوں، تفریحی مقامات اور سڑکوں  پر جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، نماز پڑھنے یا وضو کرنے کے لیے سادہ سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کبھار ایک خاندان روڈ پر طویل سفر کرتا ہے، لیکن راستے میں کوئی مناسب نماز خانہ دستیاب نہیں ہوتا؛ ان مسائل کے لیے تدبیر اور انتظام کی ضرورت ہے۔
گفتگو کے آخر میں جناب حداد عادل نے نماز کے شعبے کے لئے کارآمد انتظام کو ایک سنجیدہ ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس میدان میں بھی با تدبیر انتظام اور موثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، اور ان تمام لوگوں کو جو حضرت امام خمینی (رحمت اللہ علیہ) اور شہید رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے راستے کو جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں، نماز کے مسئلے پر سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔
دینی تربیت اور اولاد کا نماز سے مانوس ہونے میں خاندان کا اہم کردار
شہیدہ زہرا حداد عادل کی والدہ محترمہ طیبہ ماہر زادہ نے نماز کے 33ویں عالمی اجلاس میں اولاد کی دینی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاندان عام طور پر اپنی اولاد کے مادی مستقبل کے لیے منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کرتے ہیں، جبکہ معنوی سرمایہ کاری زیادہ گہری اور دیرپا اثر رکھتی ہے اور ان کے لیے دنیا اور آخرت کی خیر کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے 1984 میں حرم امام رضا(ع) میں اپنی حاضری کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ اس دور میں، اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے مختلف خدشات کے درمیان، میں نے قرآن کھولا تو اس آیت کا سامنا ہوا: «رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَ ذُرِّیّاتِنا قُرَّةَ أَعْیُنٍ وَ اجْعَلْنا لِلْمُتَّقینَ إِماماً»؛ یہ وہ آیت ہے جو صرف بچوں کے صالح ہونے کی بات نہیں کرتی، بلکہ ان کے متقین کی پیشوائی (امامت) کے مقام تک پہنچنے کی بات کرتی ہے۔
محترمہ ماہر زادہ نے قرآنی تعلیمات میں ایمان بالغیب،نماز کے قیام اور انفاق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی تربیت اخلاقی اثرات کے علاوہ، انسان کی ذہنی صحت، سماجی تعلقات اور زندگی کے مفہوم و سمت پر اثر انداز ہوتی ہے اور خدا پر ایمان اور اس پر توکل، اضطراب، مایوسی اور خوف سے نکلنے کے لیے ایک سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔
شہیدہ زہرا حداد عادل کی والدہ نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں نماز کے حوالے سے حضرت امام خمینی(رح) اور شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے افکار و نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضورِ قلب اور نماز کے معانی پر توجہ عبادت کے بنیادی اجزاء میں سے ہے اور نماز اپنی حقیقت کے تب قریب ہوتی ہے جب وہ قلبی توجہ اور بندگی کی روح کے ساتھ ہو۔
انہوں نے  کہا کہ نماز مؤمن کی معراج ہے اور دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کے سرمایہ میں سے ہے، اور بندگی کی حقیقت بھی تب انسان کے وجود میں تشکیل پاتی ہے جب اس کا کردار اور انتخاب، اللہ کی اطاعت کے راستے پر ہو۔
محترمہ ماہر زادہ نے بچوں کی دینی تربیت کے بارے میں شہید مرتضیٰ مطہری کے نقطہ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عبادت سے انس بچپن کے برسوں سے ہی شروع ہو جانا چاہئے تاکہ بچوں کے لئے دینی فرائض کی ادائیگی ایک پائیدار عمل بن جائے ، لیکن عبادت کو صرف عادت  بناکر رکھنا اور نیت و توجہ کے بغیر ایک عمل میں محدود نہیں کرنا چاہئے ۔
انہوں نے تاکید کی کہ دینی تربیت میں صرف عبادتی اعمال کی کثرت معیار نہیں ہے اور صداقت، امانت داری، اخلاص اور قلبی توجہ بھی اہمیت رکھتی ہے؛ لہٰذا نماز اور دیگر عبادات کو اخلاقی تربیت اور دینی رویے کی تشکیل کے ساتھ ملا کر توجہ میں رکھنا چاہیے۔
محترمہ ماہر زادہ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر توکل کو ایمان کے اہم ترین آثار میں سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو انسان خداوند عالم کو اپنا سہارا سمجھتا ہے، زندگی کی دشواریوں کے سامنے اس کے پاس ایک معنوی سہارا ہوتا ہے جو اس کے سکون اور ذہنی صحت میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
مسجد؛ تربیت،معاشرہ سازی اور تہذیب سازی کا مرکز
ملک کی نماز جمعہ پالیسی ساز کونسل کے چیئرمین حجت الاسلام والمسلمین محمد جواد حاج علی اکبری نے نماز سے متعلق 33 ویں عالمی اجلاس میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے نماز سے متعلق منعقدہ اجلاسوں میں دیئے گئے بیانات اور پیغامات کے مجموعے کو نماز کے شعبے میں ایک جامع مجموعہ قرار دیا جو اس فریضے کے تربیتی، سماجی، حکومتی اور ثقافتی پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔
 انہوں نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی مسجد کی اہمیت پر خاص تاکید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نقطہ نظر سے مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ ایک الہیٰ ادارہ اور مومن کی تربیت، سماجی رابطے، سیاست،بھائی چارہ  ،انفاق،مہربانی اور ظلم کے خلاف استقامت کا مرکز ہے۔
جناب حاج علی اکبر نے  کہا کہ مسجد ، مومن کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ، معاشرہ سازی میں بھی حصہ دارہے اور اسلامی تہذیب کی طرف حرکت کی راہ بھی ہموار کرتی ہے ، ایسی راہ کو ہموار کرتی ہے جس پر رہبر معظم انقلاب اسلامی(حفظہ اللہ تعالیٰ) کے امسال کے اجلاس کے پیغام میں بھی توجہ دی گئی ہے ۔
انہوں نے نماز کے سماجی اثرات پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ  جب ہم اسلامی معاشرے کی بات کرتے ہیں، تو اجتماعی نماز، نماز جماعت اور نماز جمعہ اس کے اہم ترین آثار میں سے ہیں اور مسجد بھی وہ مرکز ہے جہاں دینی اور سماجی زندگی کے مختلف پہلو ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مساجد کو ایک بار پھر اسی نقطہ نظر سے پہچانا اور زندہ کیا جانا چاہیے؛ موجودہ مساجد کو روحانی تعمیر اور اپنی سماجی صلاحیتوں کو فعال کرنے کی ضرورت ہے اور نئے علاقوں اور شہروں میں بھی ان کارکردگیوں کے مطابق مساجد تعمیر کی جانی چاہیئے۔” حاج علی اکبری نے مساجد کے امور کو منظم کرنے کے لیے ایک مشترکہ ڈھانچے کی تشکیل کی خبر دی اور کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران، متعلقہ اداروں کے تعاون سے ‘قرار گاہِ مرکزی مسجد(مرکزی مسجد ہیڈکوارٹر) اور اس کے صوبائی اور ضلعی ڈھانچے تشکیل پائے ہیں اور اس حوالے سے ایک مشترکہ دستاویز بھی مرتب کی گئی ہے۔
انہوں نے مساجد کے  انفارمیشن سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 75 ہزار سے زائد مساجد کی معلومات اس سسٹم میں درج کی گئی ہیں اور یہ صلاحیت مساجد کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تقریبا دس ہزار مساجد کو سماجی سرگرمیوں اور باہمی امدادکے میدان میں کردار ادا کرنے اور اپنے گردونواح کے ماحول میں سرگرمیوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس تجربے کو بتدریج دوسری مساجد تک بھی پھیلایا جائے۔
انہوں نے ’’محراب پراجیکٹ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مساجد کا ارادہ ہے کہ وہ بھائی چارہ  ، خدمت گزاری، امداد و نجات اور ہنگامی حالات کے لیے تیاری جیسے شعبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں اور ان تمام سرگرمیوں کا مرکز نماز اور مؤمنین کی جماعت ہو۔
جناب حاج علی اکبری نے اپنی گفتگو کے اختتام پر تاکید کہ مسجد کو محلے میں اللہ کے ذکر، اسلامی تربیت، قرآنی تعلیمات کی نشر و اشاعت، خدمت اور سماجی سرگرمیوں اور مزاحمت  کے جذبے کو تقویت دینے کے لیے ایک زندہ مرکز میں تبدیل ہونا چاہیے۔
نماز کے قیام اور سماجی مزاحمت کے مابین تعلق پر تاکید
مشہد مقدس کے امام جمعہ اور صوبہ خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے نماز سے متعلق عالمی 33 ویں اجلاس میں حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نماز کے قیام، قرآن کی تفسیر اور زکات جیسے شعبوں میں ان کی سرگرمیوں نے ملک میں ہمہ گیر اور مؤثر تحریکوں کی تشکیل کی راہ ہموار کی ہے۔
انہوں نے حضرت ابراہیم (ع) کی دعا «رَبَّنا لِیُقیمُوا الصَّلاة» کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ نماز قائم کرنا انفرادی نماز پڑھنے سے بالاتر ہے اور اس وقت حقیقت پاتا ہے جب نماز کے اثرات لوگوں کی انفرادی اور سماجی زندگی میں نمایاں ہوں۔
جناب علم الہدیٰ نے کہا کہ نماز کی ترویج کے لیے کی گئی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، معاشرے میں نماز کے قیام کی صورتحال کی بھی شناخت کرنی چاہیے اور جانچنا چاہیے کہ اس فریضے کے تربیتی اور سماجی اثرات طرزِ زندگی، کام کے ماحول، دفاتر، بازار اور دیگر سماجی میدانوں میں کس حد تک موجود ہیں۔
انہوں نے آیت «إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْکَرِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نماز کے قیام کے حصول کی نشانیوں میں سے ایک ثقافتی اور سماجی نقصانات کو کم کرنے اور دینی اقدار کو مضبوط کرنے میں اس کا اثر ہے اور ذمہ دار اداروں کو بھی نماز کے قیام کے اس پہلو پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
مشہد مقدس کے امام جمعہ نے رہبر معظم انقلاب(حفظہ اللہ) کا اسلامی تہذیب کی جانب معاشرے کی حرکت میں نماز کے قیام کے اہم کردار پر تاکید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نماز کو سماجی زندگی کے مرکز میں ہونا چاہئے اور اس کے اثرات عمومی رویوں اور سماجی ڈھانچوں میں نظر آنے چاہیئں  ۔
انہوں نے دشمن کے مقابلے میں وحدت کی حفاظت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سماجی وحدت دینی اقدار اور مبانی کے دائرے میں تشکیل پانی چاہئے اور معاشرے کے اتحاد و انسجام پر توجہ ، دینی و ثقافتی ذمہ داریوں کے کمزور ہونے کا سبب نہیں بننی چاہئے ۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں نماز اور مزاحمت کے مابین تعلق پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی مزاحمت کو استمرار اور پائیداری کے لیے روحانی پشت پناہی کی ضرورت ہے اور نماز اس پشت پناہی کو مضبوط کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی میدان میں نماز کی موجودگی مزاحمت اور استقامت کے جذبے کو تقویت دیتی ہے اور اس صلاحیت کو جاری رکھنے کے لیے سماجی زندگی میں نماز کے قیام کی علامات کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جانا چاہیے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ کے خطاب کے اختتام پرنماز کے 33 ویں عالمی اجلاس کے صبح کا سیشن بھی اختتام پذیر ہوا۔
نماز کے 33 ویں عالمی اجلاس میں انتظامی اور عملی تجربات اور خصوصی تحقیقات کی پیشکش
نماز کے 33 ویں عالمی اجلاس کا شام کا سیشن حرم امام رضا(ع) کے قدس ہال میں منعقد کیا گیا جس میں منظمین اور سربراہان نے خطاب کیا اور انفرادی،سماجی اور عملی میدانوں میں نماز کی اہمیت پر اپنے اپنے نظریات پیش کئے ۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ یکم اکتوبہ 2026 بروز جمعرات کو نماز سے متعلق 33 واں عالمی اجلاس کا دوسرا سیشن بوقت عصر حرم امام رضا(ع) کے قدس ہال میں تلاوت قرآن کریم سےشروع ہوا، اس سیشن کے پہلے مقرر صوبہ خراسان رضوی کے گورنر جناب غلام حسین مظفری تھے۔
نماز جماعت؛ عوام سے بلا واسطہ رابطے کا موقع
جناب مظفری نے اپنے انتظامی تجربات ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نماز جماعت عبادی کارکردگی کے ساتھ ساتھ منتظمین کے لیے عوام کے درمیان موجود رہنے، ان کے مسائل کو سمجھنے اور انتظامی اداروں کی صورتحال کا براہ راست جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔
انہوں نے ضلعی حکومت میں اپنی ذمہ داری کے دور کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ میں بغیر اطلاع دیے نماز کے وقت کے قریب مختلف دفاتر کا دورہ کرتا تھا اور نمازِ جماعت میں شرکت سے پہلے، دفتر کے حالات، خدمات فراہم کرنے کا طریقہ اور مراجعه کنندگان  کی صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کرتا تھا۔
صوبہ خراسان رضوی کے گورنر نے مزید یہ بتایا کہ اس طریقے نے تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے میں یہ موقع فراہم کیا کہ شہر کے تمام دفاتر کا کئی بار دورہ کیا جائے اور نمازِ جماعت، عبادی کام کے ساتھ ساتھ دفاتر کی صورتحال اور عوام کو جوابدہی کے طریقے کو سمجھنے کا موقع بن جائے۔
انہوں نے محلوں کی مساجد میں جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نماز سے پہلے محلے میں جاتا تھا اور پھر مسجد میں لوگوں کی باتیں سنتا تھا؛ بعض اوقات متعلقہ اداروں کے حکام کو بھی اسی مسجد میں بلایا جاتا تھا تاکہ وہ عوام کے مسائل کے جواب دے سکیں۔
جناب مظفری نے کہا کی کہ ہم نے نماز کے بارے میں بہت باتیں کی ہیں، لیکن جو زیادہ اہم ہے وہ ان لوگوں کے رویے اور کارکردگی میں نماز کے اثرات کا مشاہدہ ہے جو لوگوں کے سامنے ذمہ داری رکھتے ہیں۔
انہوں نے  کہا کہ دینی تعلیمات کو خدمت کی نوعیت، دفتری رویے اور ذمہ داران کے عوامی رابطے میں ظاہر ہونا چاہئے اور نماز بھی عمل میں احساس ذمہ داری  اور معاشرے کی زیادہ موثر خدمت کا سبب بننی چاہئے۔
نماز اور نئی نسل کے بارے میں طلبا کی تحقیق
اجلاس کےدوران مشہد مقدس کے امیرکبیر ٹیلنٹ اسکول کے گیارہویں جماعت کے طالب علم محمد قاسمی نے اپنے تحقیقی مقالے کو جس کا موضوع ’’ نئی نسل کے ساتھ سلوک اور بچوں اور نوجوانوں کو امام شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی فکر اور عمل میں نماز قائم کرنے کی ترغیب‘‘ تھا ، اس کا کچھ حصہ پیش کیا۔
انہوں نے نوجوان نسل کی معنوی و روحانی صلاحیتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دینی تربیت میں نئی نسل کو منفی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے اور نماز کے مفاہیم اور معارف کو فنکارانہ انداز میں، نوجوان کی زبان کے مطابق اور جبر سے دور رکھ کر پیش کرنا چاہیے۔
جناب قاسمی نےکہا کہ عملی نمونہ سازی، محبت بھری دعوت اور جبر سے اجتناب نئی نسل کو نماز کی طرف کھینچنے کے اہم ترین عناصر میں سے ہیں اور شہید رہبر انقلاب اسلامی، حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی عملی سیرت بھی صرف نصیحت کرنے کی بجائے عمل اور عینی نمونے پیش کرنے پر زور دیتی ہے۔
انہوں نے اس تحقیق میں حاصل شدہ رہنما اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اول وقت نماز کا اہتمام، زندگی کو نماز کے وقت کے مطابق ترتیب دینا، نماز میں توجہ اور حضورِ قلب، اور قرآن و دعا کے ساتھ مستقل انس و تعلق کو نوجوانوں کے نماز سے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی قرار دیا۔
اس محقق طالب علم نے نئی نسل کی دینی تربیت کے لیے خاندان، اسکول اور میڈیا کے درمیان ہم آہنگی کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ خاندان عقائد کی تشکیل کا پہلا مرکز ہے، اسکول نماز کے اجتماعی تجربے کا ماحول فراہم کر سکتا ہے، اور میڈیا بھی نئی نسل کی زبان کے مطابق پرکشش مواد تیار کر کے اس میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
جناب قاسمی نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں تاکید کی کہ نئی نسل کو نماز کی دعوت دینے میں عملی مظاہرہ اور نمونہ سازی، زبانی نصیحتوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تربیتی اداروں کی جانب سے محبت اور ہمراہی پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے نماز خانوں کے لیے زیادہ توجہ اور وسائل مختص کرنے، نوجوانوں کے سوالات اور شبہات کے جوابات کے لیے پلیٹ فارم بنانے اور نماز کے بارے میں طلباء اور ذمہ داران کے درمیان مکالمے پر مبنی نشستیں منعقد کرنے کو اس تحقیق کی عملی تجاویز قرار دیا۔
نماز کی رہنمائیوں اور تعلیمی اداروں کی انتظامی ذمہ داریوں کے مابین فاصلے کا جائزہ
ملیحہ ترزفان نے اپنے مقالے «رہنمائی سے ذمہ داری تک؛ شہید رہبر (رحمت اللہ علیہ) کے عالمی اجلاسِ نماز کے پیغامات اور تعلیمی اداروں کی سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان پالیسی ترجمے کے خلا کا جائزہ» کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے، نماز کے پیغامات میں دیے گئے رہنما اصولوں اور تعلیمی نظام میں ان کو انتظامی ذمہ داریوں میں تبدیل کرنے کے طریقے کے درمیان موجود فاصلے کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے 32 پیغامات اور بیانات کا چار تعلیمی اداروں یعنی وزارت تعلیم و تربیت، وزارت علوم، وزارت صحت اور آزاد اسلامی یونیورسٹی کی ذمہ داریوں اور اجرائی اسناد سے موازنہ کیا گیا ہے۔
ترزفان نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ان پیغامات میں تاکید کردہ تقریباً کوئی بھی اہم موضوع اجرائی تکلیف کے بغیر نہیں رہا، لیکن اصل مسئلہ رہنماؤں کو اجرائی پالیسی میں تبدیل کرنے کے مرحلے میں تشکیل پاتا ہے؛ جہاں کچھ اہداف سادہ اور قابلِ شمار اعشاریوں تک محدود کر دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مثال کے طور پر مسجد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر(رح) کے پیغامات میں مسجد صرف ایک فزیکل فضا نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کی موجودگی، رابطے اور فعالیت کی جگہ ہونی چاہئے، لیکن عملی دستاویزات میں یہ مطالبہ زیادہ تر نماز خانےکی موجودگی، مسجد کی تعمیر یا فزیکل گنجائش کی فراہمی تک محدود کر دیا گیا ہے ۔
ترزفان نے تاکید کی کہ جگہ بنانا اور سہولیات کی فراہمی ضروری ہے، لیکن تنہا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ تربیتی مقصد حاصل ہو گیا ہے؛ جیسا کہ کتاب خانے کی تعمیر لازماً طلبہ کے کتاب خوان ہونے کے معنی نہیں رکھتی۔
انہوں نے اس تحقیق میں شناخت کردہ دیگر مسائل میں سے ایک «فعالیت کی رپورٹ» کا «نتیجے کی پیمائش» پر غلبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نشستوں، فیسٹیولز یا مقابلوں کی تعداد کا اعلان فعالیت کے حجم کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات نے طلبہ اور طالبات کی شرکت اور ان کے نماز سے تعلق میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔
ترزفان نے  کہا کہ رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی (رحمت اللہ علیہ) کے پیغامات میں اقدامات کے نتائج اور اثرات کی پیمائش پر زور دیا گیا ہے اور صرف پروگرام کا انعقاد کامیابی کا معیار نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے امام جماعت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ  کچھ دستاویزات میں امام جماعت کی موجودگی کو ایک انتظامی اعشاریہ کے طور پر دیکھا گیا ہے؛ جبکہ زیرِ جائزہ رہنما اصولوں میں ان کا کردار نماز پڑھانے سے کہیں بڑھ کر مخاطب کے ساتھ تعلق اور تربیتی اثر اندازی پر مبنی ہے۔
ترزفان نے تعلیمی اداروں کے موازنے کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے جامع نماز پلان کی بدولت، وسائل کی منصوبہ سازی اور نتائج کی پیمائش پر توجہ دینے سمیت کچھ میدانوں میں زیادہ منظم صورتحال رکھتی ہے۔
آخر میں انہوں نےہائیر ایجوکیشن کے لئے ایک درمیانی تربیتی دستاویز کی تدوین کو تحقیقی کی اہم تجویز قرار دیا اور تاکید کی کہ ایسی دستاویز کلیدی رہنما اصولوں کو ضابطہ جاتی زبان سے نکال کر واضح، قابل عمل اور قابل تحقیق تربیتی پروگراموں میں تبدیل کر سکتی ہے ۔
مسجد؛ عبادت اور سماجی خدمت کو جوڑنے کا مرکز
نماز قائم کرنے والی کمیٹی کے علمی و ثقافتی مشیر حجت الاسلام والمسلمین سید جواد بہشتی نے نماز کے 33 ویں عالمی اجلاس کے خصوصی پینل میں عبادت اور سماجی خدمت کے مابین رابطے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تعلیمات میں، نماز کو سماجی ذمہ داریوں اور لوگوں کی خدمت کے ساتھ رکھا گیا ہے، اور یہ تعلق شہید رہبر معظم انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی سیرت میں بھی عملی طور پر دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے شہید رہبر انقلاب اسلامی (رحمت اللہ علیہ) کی حوادث اور بحرانوں میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب اور زلزلے جیسے واقعات میں، مسجد امداد رسانی، عوامی امداد کی تنظیم اور لوگوں کی ضروریات کی دیکھ بھال کا مرکز بن سکتی ہے اور عبادت کی خدمت کے ساتھ یہ ہمراہی مسجد کی سماجی صلاحیت کو آشکار کرتی ہے۔
بہشتی نے شہید رہبر انقلاب اسلامی (رحمت اللہ علیہ) کی جدوجہد اور قید کے برسوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یادوں میں، سخت حالات اور جیل کے دور میں نماز، قرآن اور دعا کو مشکلات برداشت کرنے اور جدوجہد جاری رکھنے کے لیے ایک پشت پناہ (سہارے) کے طور پر اہمیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ  شہیدِ رہبر معظم انقلابِ اسلامی (رحمت اللہ علیہ) کی نگاہ میں مسجد صرف نماز قائم کرنے کی جگہ نہیں تھی، بلکہ یہ ہدایت، تربیت، لوگوں سے رابطے اور سماجی خدمت کا ایک مرکز سمجھی جاتی ہے  اور یہ نقطہ نظر انقلاب سے پہلے کے برسوں سے ان کی عملی سیرت میں دکھائی دیتا تھا۔
نمازقائم کرنے والی کمیٹی کے علمی و ثقافتی مشیر نے خدا، پیغمبر اکرم (ص)، اہل بیت (ع)، قرآن اور مسجد کی محبت کے باہمی تعلق کے بارے میں ایک حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ توحید، سیرتِ پیغمبر اکرم (ص)، معارفِ اہل بیت (ع)، قرآن اور مسجد کے شعبوں میں خصوصی اہتمام رکھتے تھے اور مسجد اس نظام میں ایک مرکزی مقام حاصل کرتی ہے۔
بہشتی نے آخر میں، ایک خاندانی سفر کے دوران شہید رہبر معظم انقلابِ اسلامی (رحمت اللہ علیہ) کی موجودگی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ ایسی صورتحال میں بھی مسجد اور نمازِ جماعت پر ان کی توجہ برقرار رہتی تھی اور جس مسجد میں امامِ جماعت موجود نہیں ہوتے تھے، وہاں وہ نمازِ جماعت پڑھانے اور دینی معارف بیان کرنے کی ذمہ داری سنبھال لیتے تھے۔
اوّل وقت میں نماز؛ ایسا نمونہ جو کردار میں دکھائی دینا چاہئے
صوبہ خوزستان میں ولی فقیہ کے نمائندے اور اہواز شہر کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین سید محمد نبی موسوی فرد نے اس خصوصی پینل میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی عملی سیرت میں نماز اوّل وقت کی اہمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نماز کی اہمیت معاشرے کے لیے تب قابلِ محسوس بنتی ہے جب یہ افراد، خاص طور پر ذمہ داران (حکام) کے روزمرہ کے رویے اور فیصلوں میں نظر آئے۔
انہوں نے شہید رہبر معظم انقلاب (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی زندگی کے نمونوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ نماز کے بارے میں ان کا اہتمام صرف نصیحت اور باتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف حالات میں، یہاں تک کہ سفر اور مصروف ترین پروگراموں کے دوران بھی، نماز کے وقت کو دیگر امور پر مقدم سمجھا جاتا تھا۔
جناب موسوی فرد نے عوامی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ جب حکام لوگوں کے مسائل حل کرنے یا کسی علاقے میں موجود ہونے کے لیے جمع ہوئے ہوں، تو نماز کا وقت آنے پر اسے حاشیے پر نہیں جانا چاہیے، اور نمازِ اول وقت قائم کرنا خود اس فریضے کے مقام کے بارے میں ایک عملی پیغام ہو سکتا ہے۔
اہواز شہر کے امام جمعہ نے تاکید کی کہ لوگوں کو نماز کی دعوت دینے میں عملی نمونہ سازی، زبانی نصیحت سے زیادہ اثر رکھتی ہے اور جب معاشرہ دیکھے کہ کوئی شخص عملاً نمازِ اول وقت کو اہمیت دیتا ہے، تو یہ رویہ ایک تربیتی نمونہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے اس مسئلے پر خاندانوں اور تربیتی مجموعوں کی توجہ کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نماز کے ساتھ انس بچپن سے ہی پیدا ہونا چاہیے اور اس ضمن میں والدین، اساتذہ اور حکام کا رویہ ان کی باتوں سے زیادہ نئی نسل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جناب موسوی فرد نےاپنی گفتگو کے آخر میں حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی کو نماز پر توجہ کے عملی نمونوں میں شمار کیا اور انفرادی اور سماجی زندگی میں اول وقت   نماز پڑھنے کے کلچر کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اہم الفاظ: ، ، نماز، ،حرم امام رضا(ع)، مسجد، آیت اللہ احمد مروی، گورنر، صوبہ خراسان رضوی، مشہد مقدس، امام جمعہ، اہواز، حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
ایسے ملک میں نماز قائم کرنا جس میں اسلامِ نابِ محمدی(ص) کا پرچم بلند ہے ،اہم ترین امور میں شامل ہے؛ رہبر معظم انقلاب کا بیان نماز کی ترویج کا آغاز نمازیوں کے کردار و عمل سے ہوتا ہے؛ آیت اللہ احمد مروی  صدرمملکت کا اقوام متحدہ میں خطاب باعثِ افتخار تھا؛ آیت اللہ مروی ’’اِنعاشُ العَقل‘‘ کے ابتدائی دورے کی اختتامی تقریب کا انعقاد « مصحف الحسین (ع)»؛ امام حسین (ع) کے دست مبارک سے تحریرکردہ قرآں کے کچھ اوراق کی اشاعت آيت اللہ العظمی شبیری زنجانی کی رحلت پر آستان قدس رضوی کے متولی کا تعزیتی پیغام   امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے کی صلاحیت موجودہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے  عطیات کے عمل میں شفافیت؛آستان قدس رضوی کے لئے عوامی عطیات میں اضافے کا باعث بنی حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم کے پرچم کی تبدیلی کی رسم رضوی سیرت میں حکیمانہ مینجمنٹ اور استقامت؛دینی طرز حکمرانی کا مکمل نمونہ مزاحمتی محاذ کا ناقابل شکست ہونے کا دارومدار’’جہاد تبیین‘‘ اور رضوی تعلیمات پر ہے رضوی سیرت؛ انسانی کرامت کی بنیاد پر انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لئے ایک عملی نمونہ امام رضا(ع) آج بھی اقوام اور ادیان کے مابین یکجہتی کا مرکز ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع)؛امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ملک کے جدید ترین ہاسٹل کا افتتاح عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک آستان قدس رضوی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح