آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 30 مئی 2026 بروز ہفتے کی شام ایران کے شہر کاشمر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کی حمایت میں عظیم الشان عوامی اجتماع منعقد ہوا جس میں آیت اللہ احمد مروی نے شہید آیت اللہ سید حسن مدرس(رح) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس مجاہد عالم دین کو شیعیت کے لئے اعزاز اور فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید مدرس(رح) ایک ماہراسلام شناس، فقیہ، بابصیرت سیاست دان اور بہادر مجاہد تھے جنہوں نے انتہائی سخت حالات میں بھی استبداد اور ظلم و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اورملکی خود مختاری اور عوامی حقوق کا دفاع کیا۔
انہوں نے اس عظیم مجاہد عالم دین کی جلا وطنی اور قید و بند کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید مدرس ؒ نے رضاخانی دورحکومت میں بے شمار مشکلات برداشت کیں اور جلاوطنی و قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اپنے الہیٰ اہداف سے دستبردار نہیں ہوئے ، ان کی پائیداری اور دوسروں پر ان کے اثرات کا راز یہ تھا کہ انہوں نے بیرونی دشمن سے لڑنے سے پہلے اپنے نفس پر قابو پالیا تھا اور کبھی بھی عہدہ اور ذمہ داری نے انہیں دنیا کا حریص نہیں بنایا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے حضرت امام رضا (ع) کے اس نورانی فرمان «إنَّ الإمامَةَ زِمامُ الدِّینِ وَنِظامُ الْمُسْلِمینَ وَصَلاحُ الدُّنْیا وَعِزُّ الْمُؤمِنینَ» سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ امامت اسلامی معاشرے کے اتحاد کا ذریعہ، مؤمنین کے لیے باعث عزت اور امت اسلامی کے مفادات کی ضامن ہے، اور جو بھی معاشرہ ولایت اور دینی رہبری کی نعمت سے بہرہ مند ہو، وہ دشمنوں کی سازشوں اور خطرات کے مقابلے میں مضبوطی سےڈٹا رہے گا۔
انہوں نے ایرانی قوم کے خلاف جاری دشمنیوں اور عداوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی کے دشمنوں نے مختلف مسلط کردہ جنگوں میں ملک کو بہت زیادہ نقصانات پہنچائے ہیں، لیکن وہ کبھی بھی اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر سکے۔ وہ جنگ رمضان میں جرائم کا ارتکاب، دہشت گردی اور خوف پیدا کر کے ملت ایران کو مایوس کرنا اور مزاحمت کے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے، لیکن اس کا نتیجہ عوام کی بصیرت، استقامت اور میدان میں موجودگی میں اضافے کے سوا کچھ نہیں نکلا۔
آیت اللہ مروی نے پچھلی دو صدیوں کی ایران کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ قاجار اور پہلوی دور میں، حکمرانوں کی کمزوری اور اغیار سے ان کی وابستگی کی وجہ سے ایران کے کچھ حصے اس ملک سے الگ ہو گئے، لیکن جمہوری اسلامی کے دور میں، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ اور تمام عالمی طاقتوں کی طرف سے دشمن کی حمایت کے باوجود، ایک بالشت بھی ایران کی زمین دشمن کے قبضے میں نہیں جاسکی ۔
انہوں نے مزید کہا: دشمن نے 12 روزہ جنگ اور جنگ ماہ رمضان میں بھی ملک کے کمانڈروں اور اہم شخصیات کو شہید اور ملک کی شہری تنصیبات خاص طور پر عام شہریوں کے رہائشی مکانات کونشانہ بنا کر ایرانی قوم کے ارادے کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن عوام اور مسلح افواج میدان میں مضبوطی سے ڈٹی رہیں اور ایک بار پھر دشمن اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ آج کا ایران قاجار اور پہلوی دور کا ایران نہیں ہے،بلکہ یہ ایک آزاد، با عزت اور بااثر ملک ہے جو ولایت اور عاشورائی ثقافت کی برکت سے دباؤ اور خطرات کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے ۔
انہوں نے ولایتِ فقیہ کو عصرِ غیبت میں پیغمبر اکرم (ص)، امیرالمؤمنین (ع) اور ائمہ اطہار (ع) کی نورانی ولایت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا وسیع پیمانے پر میدان میں موجود رہنا، مزاحمتی جذبہ اور قومی یکجہتی؛ ایرانی عوام کی اہلبیت(ع)کی تعلیمات و ثقافت اور ولایت سے گہرے تعلق کی برکات ہیں۔
آیت اللہ مروی نے اپنی گفتگو کے اختتامی حصے میں قومی وحدت اور ہمدردی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی بات یا اقدام جو تفرقہ اور اختلاف کا باعث بنے، خواہ وہ دانستہ یا نادانستہ ، دشمن کے اہداف کی راہ میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے تنقیدیں اور مطالبات بجا ہوں لیکن یہ وقت قومی وحدت و یکجہتی کے تحفظ اور ایرانی قوم کے متحدہ محاذ کی حمایت کا وقت ہے ۔ عزت،سلامتی،استقلال وخود مختاری اور ملکی ترقی کا راستہ ولایت کی راہ پر چلنے ، قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے اور رہبر کی اطاعت کرنے میں ہے ۔