امام رضا علیہ السلام کا مرتبہ اور ان کی عظمت ایران اور اسلامی عرفان میں بہت ہی بلند و ممتاز ہے اور برسوں سے برصغیر ھند میں، میں مقیم رہاہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ برصغیر اور وسطی ایشیا سمیت دیگر ملکوں میں امام ھشتم کی شخصیت انتہائی بلندی اور کمال پر فائز نظر آتی ہے اور ان علاقوں میں ایرانی فارسی اور اسلامی عرفان کی بھی کافی گہرائي دکھائي دیتی ہے۔
ایرانی شاعر علی رضا قزوہ کا کہنا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام سے دور دراز کے ملکوں میں بسنے والے بھی خاص عقیدت رکھتے ہيں۔ مثال کے طور پر ہندوستان، تاجیکستان اور پاکستان میں بہت سے افراد کے فیملی نام رضوی ہيں اور خود کو امام کے ہی شجرہ نسب سے منسوب اور امام رضا علیہ السلام سے انتہائي قربت کا احساس کرتے ہیں ۔ حتی ان علاقوں کے بہت سے بزرگ حضرات جن میں شیعہ و سنی سبھی شامل ہيں ماضي میں یہ وصیت کرتے تھے کہ اگر وہ مرجائيں تو انہيں امام رضا علیہ السلام کے حرم میں دفن کیا جائے ۔
میں ہندوستان کے ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں کہ جو اپنے گھروالوں کے ہمراہ مشہد زیارت کے لئے آتے اور کہتے تھے کہ ہمارے اجداد اسی جگہ دفن ہيں ۔
معروف ایرانی شاعر علی رضا قزوہ کا کہنا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی عرفانی منزلت اور مقام بھی بہت بلند ہے اور علم عرفان کے بزرگ علما میں بہت سے ایسے ہیں جو اپنا نسب امام رضا علیہ السلام سے منسوب قرار دیتے ہيں ۔
امام رضا علیہ السلام کی شان میں اشعار بھی خاص طور پر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں بہت زیادہ کہے گئے ہیں جبکہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران انقلابی اشعار اور نظموں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے ۔