گویا جغرافیا ولایت کے رنگ کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے۔ گرم برآعظم افریقاکے ملک آئيوری کوسٹ کے دور دراز ساحلی علاقوں سے دو زائرحسین علیہ السلام مشتاق دلوں کے ساتھ امام کی مہمانی میں پہنچے ۔ یہ زائر راہ عشق طے کرکے کربلا میں ایران کے شہر اراک کے مومنین کی طرف سے لگائے گئے امام رضا علیہ السلام کے موکب میں پہنچے تھے اور خدام کے ساتھ اس طرح گھل مل گئے تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ آل محمد علیھم السلام کی خدمت کے راستے میں صرف دل اور عشق کی زبان ہی ایک دوسرے کو سمجھتی ہے
آستان نیوز کے مطابق افریقی ملک آ ئيوری کوسٹ سے کربلامیں امام رضا علیہ السلام کے موکب تک ہزاروں میل کا فاصلہ ہے لیکن جس چیز نے ان افریقی زائرین کو اس موکب تک پہنچایا تھا وہ جغرافیا اور جغرافیائي نقشہ نہيں تھا بلکہ صرف اور صرف حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کا عشق تھا جو عشق حسینی سے سرشار دلوں کے ساتھ کربلا پہنچے تھے اور وہاں قائم موکب امام رضا علیہ السلام میں گویا اپنے گھر پہنچ گئے ہوں ۔ اس موکب میں ان کی موجودگی اس حقیقت کی گواہ تھی کہ امام حسین علیہ السلام کا نام ایک نام سے بالاتر ایک ایسا قطب نما ہے جو تشنہ دلوں کو دنیا کے دور دراز ترین علاقوں سے لوگوں کی خیمہ خدمت کی جانب رہنمائي کرتا ہے
مختلف انداز کے خندہ پیشانی والے خدام کا گروپ مگر مقصد ایک
ان ایام کے دیدنی اور اشکبار مناظرمیں سے ایک یہ تھا کہ ان دونوں مسافروں نے ایک زائر کے بجائے ایک خادم کا لباس خدمت پہن کر ایران کے شہر اراک کے مومنین کی جانب سے کربلا میں لگائے گئے اس موکب میں زائرین کو چائے پلانے کی ذمہ داری سنبھال لی ۔ اور یہ وہ منظر تھا جو شیعوں کے عالمی اتحاد اور اخوت کا جلوہ پیش کررہا تھا جس میں نہ تو رنگ و زبان کا فرق رہ گیا تھا اور نہ ہی ملک و جغرافیا کا فاصلہ حائل تھا
حتی ان کے چھوٹے چھوٹے کام بھی بڑے نظر آرہے تھے اور جب اپنے مضبوط اور توانا ہاتھوں سے موکب کے اندر برتنوں کی صفائي کرتے تھے تو گویا وہ دیگر خدام کی خستگی اور تھکن کو ان کے جسم سے دھو رہے ہوں اور اس میں شک نہيں کہ یہ منظر یہ کہہ رہا تھا کہ امام کی خدمت کے لئے زبان و کلام کی ضرورت نہيں ہے بلکہ کافی ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں کو خدمت کے لئے آگے بڑھائيں اور لبوں کی مسکراہٹ کے ساتھ اور دلوں کو عشق حسین(ع) کے ساتھ کھولیں ۔