آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر نے دونوں یونیورسٹیوں کے باہمی تعاون کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے مشترکہ اجلاسوں میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق، فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک یونیورسٹی اپنی صلاحیتوں کو دوسری یونیورسٹی کے اختیار میں دے گی تاکہ ان قابلیتوں کو علمی، تعلیمی، تحقیقاتی اور بین الاقوامی پروگراموں کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ڈاکٹر داوودی نے کہا کہ بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) عالمی سطح پر مختلف سرگرمیوں، بین الاقوامی طلبا کو داخلہ دینے ، مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں کےساتھ مشترکہ پروگراموں کے انعقاد اور بین الاقوامی سطح پر کانفرنسوں کے انعقاد کا تجربہ رکھتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس تعاون کی عملی مثالوں میں سے ایک، بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کا اربعین کے ایام میں عراق کا حالیہ دورہ تھا، جس میں 6 بین الاقوامی پروگراموں میں شرکت اور انعقاد کے ذریعے، رضوی علوم اسلامی یونیورسٹی کی موجودگی اور بین الاقوامی صلاحیتوں سے استفادے کے لیے مناسب زمینہ فراہم ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دورے میں بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کی موج الحسین(ع) میڈیا موکب میں شرکت، یونیورسٹی کے چار اراکین کی جانب سے ’’اربعین زیارت اور ڈیجیٹل دور کی تبدیلیوں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں مقالوں کا پیش کیا جانا اور جامعہ حلہ کے ساتھ مشترکہ علمی پروگراموں کا انعقاد شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس دورے میں طے پانے والی باہمی ہم آہنگی کے نتیجے میں رضوی علوم اسلامی یونیورسٹی اور جامعہ حِلہ اور جامعہ اسلامی نجف کے مابین دو علمی و بین الاقوامی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عراق کے دورے سے واپسی کے بعد علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ نے پروگراموں کی ایک رپورٹ یونیورسٹی کے سربراہ کو پیش کی اور اربعین پروگراموں میں رضوی یونیورسٹی کی شرکت اور بین الاقوامی سرگرمیوں کے لئے زمینہ فراہم کرنے پر بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کے تعاون اور ہم آہنگی کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے دونوں یونیورسٹیوں کے سربراہوں کے حالیہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سرگرمیوں کو توسیع دینا، بین الاقوامی طلبا کا داخلہ، اساتذہ اور طلبا کا تبادلہ، مشترکہ علمی منصوبوں پر عملدرآمد اور عالم اسلام کی سطح پر اہلیت(ع) کی تعلیمات کے فروغ کے لئے دونوں یونیورسٹیوں کی صلاحیتوں کا استعمال ، اس اجلاس کے اہم ترین موضوعات تھے۔
اہوں نے بتایا کہ اجلاس میں مفاہمتی یاد داشتوں کو حتمی شکل دینے اور ان اجلاسوں کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا ۔
ڈاکٹر داؤودی نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کی صلاحیتوں کا امتزاج، خطے اور عالم اسلام کی سطح پر مؤثر مشترکہ پروگراموں پر عملدرآمد کرنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے ۔
واضح رہے کہ اس اجلاس میں بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کے سربراہ ڈاکٹر دانشی فر نے علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حسین فرزانہ کو صدارت ملنے پر مبارک باد پیش کی۔
علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے سربراہ نے بھی عراق اور اربعین کے بین الاقوامی پروگراموں میں بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر دانشی فر اور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔