آستان نیوز کے مطابق علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی ایران اور عراق کے درمیان علمی اور ثقافتی رشتوں کی تقویت کے لئے اسٹریٹجک قدم کے طور پر سرحدوں سے باہر تعاون کو عملی شکل دینے کے لئے نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ۔ یہ عمل جو << زیارت ڈیپلومیسی >> کے قالب میں انجام پارہا ہے بیک وقت دو راستوں سے آگے بڑھ رہا ہے ۔
نجف اشرف کے ساتھ حوزوی تعاون کی تقویت
اس سلسلہ کے پہلے حصے میں، حوزہ علمیہ نجف اشرف کے دروس عالیہ کے اساتذہ کے ایک وفد نے علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں پہنچ کر اس یونیورسٹی کے سربراہ ڈآکٹر ڈاکٹر حسین فرزانہ اور ان کے معاونین سے ملاقات کی ۔
اس ملاقات میں علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے سربراہ نے اپنے اعلی تعلیمی ادارے کی حوزوی ماہیت پر تاکید کرتے ہوئۓ نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کے طلبا کو علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں داخلہ دینے کے لئے اپنی توانائیوں کا ذکرکیا ۔
دوسری جانب زیارت کی ڈیپلومیسی کے زیرعنوان سیمینار کے موقع پر علمی سمجھوتے پر بھی دستخط ہوئے ۔ علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات کے سربراہ ڈاکٹر محمد رضا قائمی نیک نے اپنے دورہ عراق میں اور <<زیارت ڈیپلومیسی؛ اربعین کا تربیتی اور تمدنی کردار >> کے زیرعنوان سیمینار کے موقع پر حلّہ اور نجف کی یونیورسٹیوں کے ساتھ دو سمجھوتے منعقد کئے ۔ اس موقع پر عراق کی مذکورہ دونوں یونیورسٹیوں کے سربراہ بھی موجود تھے ۔
قابل ذکر ہے کہ یہ اقدامات علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کی جانب سے اعلی تعلیمی ادارے کو علاقے کے تمدنی اور حوزوی میدان میں ایک علمی قطب میں تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔