آستان نیوز کے مطابق حرم مطہر رضوی کی ضریح کے غلاف کی تبدیلی ایک ایسی معنوی رسم ہے جو مختلف مناسبتوں اور ایام کے پیش نظر انجام پاتی ہے
محرم اور صفر کے ایام عزا کے خاتمے کے ساتھ ہی ضریح مطہر کے سیاہ غلاف کو اٹھادیا جاتا ہے اور تین ربیع الاول کو ضریح مبارک پر سبز غلاف چڑھا دیا جاتا ہے ۔ لیکن ان غلافوں میں سے ہر ایک کے اندر فن و ھنر تاریخ اور عشق و عقیدت سے متعلق ایک الگ قصہ اور داستان پوشیدہ ہے ۔ ایسے پارچے جو کبھی کبھی انتہائی نفیس کڑھائي اور بنائي سے آراستہ ہوتے ہیں اور حرم رضوی کے تاریخی حافظہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہيں
50 نفیس فن پارے جو تاریخ فن اور زیارت کی ثقافت کی ترجمانی کرتے ہیں
امام رضا علیہ السلام کا حرم مطہر پوری تاریخ میں امام ھشتم سے عشق و عقیدت رکھنے والے ماہرین فن کی اس امام ھمام سے عقیدت و محبت کی تجلی گاہ رہا ہے ایسے ھنرمند اور آرٹسٹ جنھوں نے اپنی مہارت اور ذوق پر تکیہ کرتے ہوئے ایسے فن پارے تخلیق کئے جو غیر معمولی ظرافت اور بے بدیل فن و ھنر کے حامل تھے چنانچہ ضریح کے غلاف اور صندوق پوش انہی فن پاروں میں شامل ہيں ۔
لیکن ضریح کے سیکڑوں غلاف اور صندوق پوشوں میں پچاس غلاف اور صندوق پوش اور شیروانی پوش ان تاریخی فن پاروں میں ممتاز حیثيت رکھتے ہيں اور یہ سبھی پچاس غلاف اور صندوق پوش وغیرہ حرم مطہر رضوی میں فن و ھنر کی تاریخ اور زیارت کی ثقافت کی روایت بیان کرتے ہيں
صفوی دور کے صندوق پوش سے عصر حاضر کے نفیس یادگار فن پاروں تک
حضرت امام رضا علیہ السلام کی تربت منور کی مختلف تاریخی ادوار میں دو طرح کی حفاظتی پوشش سے حفاظت ہوتی رہی ہے ، ایک صندوق اور دوسرے ضریح ۔
صندوق مرقد مطہر کی پہلی نشانی اور علامت جو ماضی میں مکعب مستطیل شکل میں لکڑی سے تیار ہوتا تھا اور آج اس صندوق کو سنگ مرمر کو تراش کر تیار کیا گیا ہے اور اس پر کتبیہ بھی موجود ہے اور ضریح بھی اسی صندوق کے چاروں طرف واقع ہے اور صندوق کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے اور اب تک پانچ ضریحیں حرم مطہر رضوی میں نصب ہوچکی ہیں
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صندوق اور ضریح کو ایسے پارچوں اور غلافوں سے آراستہ کیا جاتا رہا ہے جو اپنے اپنے دور کی تاریخ اور فن سے عبارت ہوا کرتے تھے حتی ان غلافوں اور پارچوں پر جو قرآنی آيات، احادیٹ یا اشعار کڑھائي کی شکل میں لکھے جاتے تھے وہ بھی اپنے اپنے دور کےفن کی عکاسی کرتے تھے اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی اور اسلامی ھنر و روایت اور مقدس آستانے کے زائرین کا عشق و محبت امام رئوف سے کس قدر ایک دوسرے سے وابستہ ہے ۔
ان صندوق پوشوں میں سے ایک قدیمی ترین صندوق پوش 956 ہجری قمری سے مربوط ہے جس پر خوبصورت اور منفرد کڑھائي میرنظام کاشانی نے کی تھی اور حاجی اسوار لاھیجی نے وقف کیا تھا اور دوسرا صندوق ابریشمی زربفت کا ہے جسے فتحعلی شاہ نے آستان قدس رضوی کو وقف کیا تھا
لیکن ضریح مبارک کا جو غلاف آج ضریح مطہر پر چڑھا ہوا ہے وہ اصفہان کے معروف ماہرفن استاد ایران پور کے ہاتھوں کا تیار کردہ ہے اس غلاف کا وزن 60 کیلوگرام ہے اور اس کی سلائي اور کڑھائي میں شیشے یا کرسٹل کی موتیوں اور نگینے کا استعمال کیا گيا ہے اور اس کے وسط میں << یا علی ابن موسی الرضا(ع)>>اور چاروں طرف امام رضا علیہ السلام کی صلوات خاصہ کڑھائی اور بنائی کی شکل میں لکھی ہوئي ہے۔