آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 480
20:05

2026/10/04

نماز کی ترویج کا آغاز نمازیوں کے کردار و عمل سے ہوتا ہے؛ آیت اللہ احمد مروی

ریس
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ نماز کی ترویج فقط تعلیمات بیان کرنے اور زبان کی حد تک نصیحتیں کرنے سے ممکن نہیں ہے کہا کہ نمازگزاروں کو چاہئے کہ وہ اپنے کردار،اپنی گفتار،عمل اور طرز زندگی کے ذریعے دوسروں کو نماز قائم کرنے کی ترغیب دیں ، کیونکہ لوگ باتوں سے زیادہ نمازیوں کے عمل پر توجہ دیتے ہیں۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ یکم اکتوبر2026 بروز جمعرات کوحرم امام رضا(ع) کے قدس ہال میں نمازسے متعلق  33 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں آیت اللہ احمد مروی نے خطاب کرتے ہوئے نماز کے حوالے سے منعقدہ اجلاسوں میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے پیغامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نماز سے متعلق منعقدہ اجلاس وہ واحد اجلاس ہے جس کے لئے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) ہر سال پیغام دیا کرتے تھے اور رواں سال میں ان کے صالح جانشین حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے پیغام سے اجلاس کا آغاز ہوا ، جونہ فقط اس اجلاس کے لئے باعث برکت ہے بلکہ آئندہ کا راستہ بھی روشن کرتا ہے ۔
انہوں نے ہفتہ دفاع مقدس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم دفاع مقدس کے آٹھ برسوں کے دوران شہید ہونے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان برسوں کے دوران زخمی ہونے والے جانبازوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے شہدائے مقاومت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید سرفراز سید حسن نصر اللہ(رح) کی دوسری برسی کی مناسبت سے انہیں بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا’’کہ وہ عرب کے بہادر کمانڈر‘‘(امیر قھرمان عرب) اور مزاحمتی محاذ کی سب سے بڑی علامت تھے ہم اس عظیم شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اسلامی حکومت میں نماز کی اہمیت پر شہید رہبر(رح) کی تاکید
آیت اللہ احمد مروی نے اپنی گفتگو کے دوران شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے گذشتہ چند برسوں میں نماز سے متعلق منعقدہ اجلاسوں میں دیئے گئے پیغامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلے اجلاس میں نماز کو قائم کرنے کو صالحین کی حکومت کی پہلی نشانی اور ثمرہ قرار دیا اور اس بات پر تاکید کی کہ نماز کو لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے ۔
انہوں نے بتایا کہ 1976کے اجلاس میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح)نے حکومت کے کلیدی اور مرکزی پروگراموں میں نماز کے قیام کو ترجیحی حیثیت دینے پر زور دیا تھا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2004 میں نماز کے لئے سافٹ وئیرز کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے پر توجہ دی گئی ۔
آیت اللہ احمد مروی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے بیانات میں نماز سے متعلق منعقدہ اجلاس کو ایک مبارک اور کارساز اقدام قرار دیا گیا ہے کہا کہ حقیقت پر مبنی اور دانشمندانہ انداز میں جائزہ لیاجانا چاہئے اور باقاعدہ طور پر اس کے نتائج کو دیکھنا اس اقدام کا ایک اہم حصہ ہونا چاہئے ۔
انہوں نے حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی کے ذریعے نماز کے اجلاس منعقد کرنے اور دیگرکاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حضرت آقای قرائتی کے اس اقدام اور دیگر کاوشوں پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، وہ ایک مخلص،محنتی اور پرعزم انسان ہیں جن پر مجھے رشک آتا ہے ، آج کے رہبر معظم انقلاب کےپیغام میں اور شہید رہبر(رح) کے دیگر پیغامات میں اس بزرگ شخصیت کو تکریم و تجلیل کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔
نماز کی تعلیمات کو فروغ دینے کے حوالے سے کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے
آیت اللہ احمد مروی نے نماز کی تعلیمات کو فروغ دینے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نماز کے حوالے سے یہ کہنا کہ مضامین، قرآنی اور روائی اعتبار سے کوئی کام نہیں ہوا،، نا انصافی ہے ، بہت زیادہ کام ہوا ہے ، بزرگان قوم و مذہب، علماء، عارفین، مصنفین اور اہل قلم، ہر ایک نے اپنی توانائی کے مطابق نماز اور اس عظیم الہی فریضے کی اہمیت کے بارے میں لکھا ہے اور اسے لوگوں تک پہنچایا ہے۔
انہوں نے  کہا کہ میرے خیال میں نماز کے معارف اور تعلیمات کو بیان کرنے کے لحاظ سے ہمارے پاس کوئی کمی نہیں ہے ،شاید معاملہ یہ نہیں ہے کہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے، وہ نماز کی اہمیت کو نہیں جانتے ،بلکہ اگر ہم انہیں چند کتابیں دیں اور وہ پڑھ لیں تو نمازی بن جائیں گے ؛ ایسا نہیں ہے ، اگر مسئلہ یہ ہوتا تو کام بہت آسان ہے اور ان افراد کی ضرورت کے مطابق کتابیں تحریر کر کے شائع کی جاسکتی ہیں اور ان تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے معاشرے میں نمازسے غفلت کی وجوہات کا جائزہ لینے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے، ہمارے عزیز علماء، تعلیم و تربیت کے ماہرین، مفکرین، سماجیات کے ماہرین اور ماہرینِ نفسیات کو یہ تحقیق کرنی چاہیے کہ معاشرے کے ایک حصے (اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو) کی اس عظیم الہی فریضے سے بے اعتنائی کی وجہ کیا ہے اور کون سے عوامل اس میں کارفرما ہیں؟ کیا صرف اس الہی فریضے سے ناواقفیت ہی اس بے اعتنائی کا سبب بنی ہے یا دیگر عوامل اور مسائل بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں؟۔
 آیت اللہ احمد مروی نے نماز کی ترویج میں ایک اہم مسئلے کو نمازیوں کا رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید نماز کی ترویج میں ایک اہم مسئلہ نمازیوں کی اپنے اعمال کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ ہے۔ نماز پڑھنے اور نماز قائم کرنے میں فرق ہے؛ ہم نماز پڑھتے ہیں، لیکن کیا ہم نماز قائم بھی کرتے ہیں؟ نماز کی ترویج کے لیے میری سفارش یہ ہے کہ نمازیوں کو نماز قائم کرنے کی تلقین کریں۔
انہوں نے آیت شریفہ ’’إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نماز گزار حقیقت میں اس آیت پر عمل کریں، تو بہت سے لوگ جو نماز نہیں پڑھتے، نماز پڑھنے کی ترغیب پائیں گے۔
انہوں نے نمازیوں کی نماز کے آداب اور شرائط پر زیادہ توجہ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نماز کے آداب اور شرائط پر زیادہ توجہ اور اہتمام کرنا چاہیے۔ ہمارا عمل، رویہ، گفتار اور طرز زندگی ایک نمازی فرد کے طور پر ایسا ہو جو دوسروں کو دینی فرائض کی انجام دہی کی ترغیب اور تشویق دے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے  کہا کہ جب ایک نوجوان دیکھے کہ میں بطور نمازی، ایک ایسے فرد کے ساتھ جو نماز نہیں پڑھتا، گفتار، کردار، رویے، سماجی اور خاندانی سلوک اور لوگوں کے ساتھ معاشرت کے طریقے میں کوئی فرق نہیں رکھتا، تو یہ معاملہ بالواسطہ طور پر اس میں نماز کے بارے میں کم توجہی پیدا کر سکتا ہے۔
اسلام مسلمانوں کے عمل سے ہندوستان پہنچا
آیت اللہ مروی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے دین کی ترویج میں عمل کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ہندوستان میں اسلام پھیلنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کون سا عامل تھا جس نے اسلام کو سرزمین ہندوستان میں پھیلایا اور پروان چڑھایا؟
کتابوں میں جو کچھ درج ہے، وہ ایران اور ہندوستان کے تاجروں کے درمیان معاملات کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ ہندوستان کے لوگوں نے مسلمان تاجروں میں صداقت، امانت داری، خوش اخلاقی، وعدہ وفائی اور دیگر عمدہ اخلاقی خصوصیات کو دیکھا اور اسلام کی طرف مائل ہو گئے۔ اس طرح اسلام ہندوستان میں داخل ہوا اور آج اس ملک میں کئی سو ملین مسلمان آباد ہیں۔ شاید ابتدا میں کتاب ہندوستان نہیں گئی تھی؛ ابتدا میں مسلمانوں کے عمل نے ہندوستان میں اسلام کی ترویج کی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نماز قائم کرنے کے مقامات اور ان کی اہمیت کے حوالے سے اچھے اقدامات انجام دیئے گئے ہیں ، لیکن ہم اب بھی مطلوبہ مقام تک پہنچنے سے دور ہیں۔ ابھی بھی بہت سے شہروں میں مساجد، نماز کے اوقات کے علاوہ بند رہتی ہیں۔ نیز راستوں میں قائم مساجد عام طور پر شہروں سے دور ہوتی ہیں اور فضا، صفائی اور بنیادی سہولیات کے لحاظ سے قابل قبول سطح پر نہیں ہیں۔ یہ صورتحال بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیتی ہے کہ نماز کو ضروری اہمیت حاصل نہیں ہے، امام زادہ کا احترام اس کے متولی کے ہاتھ میں ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے تاکید کی کہ ہمیں نماز قائم کرنے کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرنی چاہیے؛ سب سے صاف اور خوبصورت مقامات نمازیوں کے اختیار میں قرار دینے چاہیے۔ قالین اور مسجد یا نماز خانہ کی صفائی سے لے کر دیگر سہولیات تک، سب کچھ نماز کے شایانِ شان ہونا چاہیے؛ کیونکہ یہ اقدامات بالواسطہ طور پر نماز کی اہمیت کو معاشرے تک منتقل کرتے ہیں۔
چادر کی اہمیت
انہوں نے آستان قدس رضوی میں خواتین زائرین کے لئے چادر فراہم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حرم امام رضا(ع) کے پروگراموں میں سے ایک یہ ہے کہ جو خواتین چادر کے ساتھ تشریف نہیں لائیں انہیں چادر بطور امانت دی جاتی ہے ، سالانہ تقریباً سات ارب تومان چادر فراہم کرنے پر خرچ ہوتے ہیں اور کوئی خاتون بغیر چادر حرم مطہر میں داخل نہیں ہوتی۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے مزید یہ کہا کہ میں نے ان کمروں کا دورہ کیا جہاں زائرین کو چادریں بطور امانت دی جاتی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ یہ جگہیں بنیادی سہولیات سے محروم تھیں اور حرم مطہر کی خوبصورتی اور فن تعمیر سے ان کا کوئی جوڑ نہیں تھا۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ یہی مسئلہ بالواسطہ طور پر مخاطب کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ چادر غیر اہم ہے۔ زائر خود سے کہتا ہے کہ اگر چادر کی اہمیت اور قدر ہوتی تو آستان قدس میں اس کے لیے زیادہ مناسب جگہ کا تعین کیا جاتا۔
ہم نے کئی ارب تومان خرچ کیے اور چادر کی امانت کے لیے بہترین کمرے تعمیر کیے اور تاکید کی کہ ان کمروں کا فن تعمیر خوبصورت اور حرم مطہر کی فضا کے مطابق ہونا چاہیے۔ امانتی چادریں بھی خوبصورت اور مناسب الماریوں میں رکھی جانی چاہئیں۔
 نیز جب زائر چادر واپس کرے تو اسے ایک طرف نہیں پھینکنا چاہیے یا کوڑے دان میں نہیں ڈالنا چاہیے؛ بلکہ اسے احترام کے ساتھ وصول کرنا چاہیے، تکریم کرنی چاہیے اور مناسب جگہ پر رکھنا چاہیے۔ ہمیں خود چادر کا احترام کرنا چاہیے تاکہ وہ خاتون جو بغیر چادر کے ہے، وہ بھی بالواسطہ طور پر چادر کے استعمال کی طرف ترغیب پائے۔
لوگ باتوں سے زیادہ کردار اور عمل کو دیکھتے ہیں
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں عمل کو دین کی دعوت کا سب سے اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محققین اور سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ لوگ عموماً نبی اکرم (ص) کے منبر کے نیچے مسلمان نہیں ہوئے، بلکہ نبی اکرم (ص) کے عمل اور رویے کو دیکھ کر مسلمان ہوئے۔
آیت اللہ احمد مروی نے کہا کہ ہم قیامت تک، جب بھی پیغمبر (ص) اور ائمہ اطہار (ع) کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں، لوگوں کو ہدایت دیں اور ان میں ایمان کا جذبہ پیدا کرنا چاہیں، تو ہم ان ہستیوں کی سیرت سے بات کریں گے۔ ہمیں حضرات معصومین (ع) کے اس بلند اور گہرے معرفتی مقام تک رسائی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی اسے مکمل طور پر سمجھنے کی طاقت رکھتے ہیں؛ لیکن ان کی یہی ظاہری اور روزمرہ کی سیرت و کردار جسے ہم بیان کرتے ہیں، لوگوں کے لیے پرکشش ہے اور یہ کشش قیامت تک باقی رہے گی۔ 
آیت اللہ مروی نے نئی نسل کے سوالات اور شکوک وشبہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے پاس بے شمار مسائل، سوالات اور شبہات ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تمام سوالات اور شبہات درست اور برحق ہیں ، دشمن کے زہریلے تیروں کو اس میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے؛ لیکن یہی معاملہ ہماری ذمہ داری کو مزید بڑھا دیتا ہے ۔ نوجوان ہم سے بات سے زیادہ عمل چاہتے ہیں۔


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
ایسے ملک میں نماز قائم کرنا جس میں اسلامِ نابِ محمدی(ص) کا پرچم بلند ہے ،اہم ترین امور میں شامل ہے؛ رہبر معظم انقلاب کا بیان نماز کی ترویج کا آغاز نمازیوں کے کردار و عمل سے ہوتا ہے؛ آیت اللہ احمد مروی  صدرمملکت کا اقوام متحدہ میں خطاب باعثِ افتخار تھا؛ آیت اللہ مروی ’’اِنعاشُ العَقل‘‘ کے ابتدائی دورے کی اختتامی تقریب کا انعقاد « مصحف الحسین (ع)»؛ امام حسین (ع) کے دست مبارک سے تحریرکردہ قرآں کے کچھ اوراق کی اشاعت آيت اللہ العظمی شبیری زنجانی کی رحلت پر آستان قدس رضوی کے متولی کا تعزیتی پیغام   امام رضا(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے کی صلاحیت موجودہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے  عطیات کے عمل میں شفافیت؛آستان قدس رضوی کے لئے عوامی عطیات میں اضافے کا باعث بنی حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم کے پرچم کی تبدیلی کی رسم رضوی سیرت میں حکیمانہ مینجمنٹ اور استقامت؛دینی طرز حکمرانی کا مکمل نمونہ مزاحمتی محاذ کا ناقابل شکست ہونے کا دارومدار’’جہاد تبیین‘‘ اور رضوی تعلیمات پر ہے رضوی سیرت؛ انسانی کرامت کی بنیاد پر انسانی حقوق کی نئی تعریف کے لئے ایک عملی نمونہ امام رضا(ع) آج بھی اقوام اور ادیان کے مابین یکجہتی کا مرکز ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع)؛امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے طالبات کا ہاسٹل ’’سرای نجمہ خاتون(س)‘‘ علم و روحانیت کے امتزاج کی علامت ہے آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ملک کے جدید ترین ہاسٹل کا افتتاح عبدالعظیم حسنی (ع) دینی معرفت سے سماجی اتحاد تک آستان قدس رضوی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے عراقی طلبا کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری وزارت خارجہ کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز کے کالج کے طلباء کی حرم امام رضا(ع) میں حاضری ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم میں ’’جہان؛یک پردہ روشن تر‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح