آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ پری کانفرنس مؤرخہ یکم اکتوبر2026 بروز جمعرات کو آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کے تعاون سے قم میں منعقد ہوئی، اس پری کانفرنس نےعالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کے موضوعات اور مباحث کو فروغ دینے کے لئے حوزہ علمیہ قم کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی راہ ہموار کی ہے ۔
اس پری کانفرنس میں اساتذہ اور محققین نے حضرت امام علی رضا(ع) کی تعلیمات اور سیرت پر عصری سماجی مسائل اور ضروریات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور ان تعلیمات کو زندگی کے جدید سماجی پہلوؤں کے مطابق نئے سرے سے مطالعہ کرنے پر زور دیا۔
اس پری کانفرنس میں ایک اور قابل توجہ موضوع؛ معارف رضوی کے بارے میں علمی لٹریچر کی تیاری اور اسے فروغ دینے میں علمی، حوزوی اور یونیورسٹی مراکز کا کردار تھا، شرکاء نے مکتب اہل بیت (ع) کی معرفتی صلاحیت کو آج کے معاشرے میں پیش کیے جانے والے تحقیقی موضوعات اور قابلِ بحث گفتگو میں تبدیل کرنے میں ان اداروں کے اہم کردار پر زور دیا۔
قم کی علمی صلاحیت کا عالمی کانگریس کے تحقیقی عمل سے تعلق
قم میں اس پری کانفرنس کا انعقاد، حضرت امام رضا (ع) کی عالمی کانگریس کے علمی عمل میں اساتذہ، محققین اور حوزوی و یونیورسٹی کے ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی کوشش کا ایک حصہ تھا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں دانشوروں اور صاحبان نظر کے درمیان علمی گفتگو اور باہمی تعاون، رضوی فکر اور سیرت سے متعلق مباحث کوعلمی حوالے سے مزید مالا مال کر سکتا ہے ۔
آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن نے ملک میں مختلف مقامات پر تخصصی کانفرنسوں کا سلسلہ منعقد کر کے محققین اور علمی مراکز کی شرکت کی راہ ہموار کی ہے تاکہ رضوی تعلیمات سے متعلق موضوعات کو نظریاتی پہلو سے جانچنے کے ساتھ ساتھ ، عصری معاشرے کے مسائل اور ضروریات پر بھی غور کیا جا سکے۔
اس نقطہ نظر نے عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پری کانفرنس کو علمی نقطہ نظر پیش کرنے، محققین کے مابین تبادلہ خیال کرنے اور امام رضا(ع) کی شخصیت، فکر اور سیرت کےپہلوؤں پر نئی تحقیقی صلاحیتوں کی نشاندہی کرنے کے لئے ایک بہترین فضا میں تبدیل کر دیا۔
واضح رہے کہ عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پچیسویں پری کانفرنس سہ پہر تین بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی اور آخر میں شرکاء نے زیر بحث نکات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کانگریس کے علمی و تحقیقی مواد کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز اور راہ حل پیش کئے۔