آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 19 جون 2026 بروز جمعہ کو ملک بھرمیں عالمی یوم علی اصغر(ع) منایا گیا اس مناسبت سے حرم امام رضا(ع) میں مائیں اپنے شیر خوار بچوں کے ہمراہ عظیم الشان اجتماع میں شریک ہوئیں۔
اس اجتماع میں، ماؤں نے سید الشہداء (ع) کے شیرخوار طفل کے سوگ میں دل سوز لوریاں پڑھیں جس سے روضۂ منورہ کا پر سوگ ماحول کربلا کی مظلومیت کی تصویر کشی کر رہا تھا۔
خدا کی رحمت معصوم بچوں کی پناہ میں
اس اجتماع میں حجت الاسلام والمسلمین سید مہدی واعظ موسوی نے خطاب کرتے ہوئے خدا کی رحمت کے نظام میں بچوں کے استثنائی مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محبت پر مبنی تربیت، کمال تک پہنچنے اور بچوں کے رویوں کی اصلاح کے لئے ایک شارٹ کٹ راستہ ہے ۔
حجت الاسلام واعظ موسوی کا کہنا تھا کہ کہ شائستہ ماؤں کو چاہئے کہ وہ بچے پیدا کرنے کو اپنی زندگی کی اہم ترجیحات میں شامل کریں ،خداوند متعال شیر خوار بچوں کی معصومیت کی وجہ سے اپنے بندوں سے بلاؤں اور مصیبتوں کوٹال دیتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بچے خدا کے حضور شفیع ہیں اور ان کے ذریعے خدا کی رحمت معاشرے پر نازل ہوتی ہے ۔
خاندانی امور کے ماہر سید مہدی واعظ موسوی نے پیغمبر گرامی اسلام اور آئمہ معصومین (ع) کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ پیار و محبت اور نرمی کے ساتھ برتاؤ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بچوں کے ساتھ سختی، چلانا، اور وعدوں کا وفا نہ کرنا ایسے عوامل ہیں جو بچے اور اس کے پرورش دہندہ کے درمیان تعلق کو توڑ سکتے ہیں ۔
حجت الاسلام موسوی نے کہا کہ بچے، ایک سادہ اور بلاواسطہ نگاہ سے، اپنے والدین کو اور رزق دینے والے کو دیکھتے ہیں، لہٰذا یہ گہرا عقیدہ، بڑوں پر ایک سنگین ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
حجت الاسلام موسوی نے شہید مطہری(رح) کے تجزیوں کاحوالہ دیتے ہوئے تربیت کی اصلاح کا راستہ محبت میں قرار دیا اور کہا کہ محبت ایک مقناطیسی قوت کی مانند ہے جو بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو کم سے کم وقت میں آپس میں جوڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا مقصد کم سے کم لاگت کے ساتھ بچوں کی تیز اور مؤثر تربیت ہے، تو ہمیں محبت اور عشق کے راستے سے گزرنا چاہیے؛ کیونکہ محبت، بچوں کی اصلاح اور الٰہی معرفت کے مقام تک پہنچنے کے لیے ایک شارٹ کٹ راستہ ہے۔
کربلا کی فریاد اور خدائی سسٹم میں بچوں کی شفاعت کا راز
حجت الاسلام واعظ موسوی نے ایک طفل کی معصومیت اور دشمن کی بےرحمی کے درمیان تضاد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی اصغر (ع) کا پاکیزہ خون، بےرحم تیروں کے درمیان، آبِ حیات کا متقاضی تھا۔
انہوں نے کہا کہ کربلا سے فریاد محض غم کا اظہار نہیں ، بلکہ حق کی حقیقت کا از سر نو پڑھنا اور تنہائی اور بے کسی کی انتہا میں پروردگار کے دروازے پر فریاد کرنا ہے ۔
واضح رہے کہ حسینی شیر خوار بچوں کے اس عظیم اجتماع میں اہلبیت(ع) کے مرثیہ خوانوں اور ذاکرین سید قانع اور سید امیر احمد نیا نے کربلا کے سب کم سن شہید حضرت علی اصغر(ع) کے سوگ میں مرثیے اور نوحے پڑھے۔