آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ شہیدرہبر انقلاب اسلامی(رح) کے پیکرمطہر کی تشییع جنازہ اور تدفین کی رسومات کی مناسبت سے آستان قدس رضوی کے متولی کی علمی،ثقافتی اور سماجی شخصیات سے مشہد مقدس میں خصوصی ملاقات کا انعقاد ہوا۔
اس دوران آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طالبی نے مشہد مقدس کی روحانی فضا اورمقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشہد مقدس حضرت امام علی رضا(ع) کے روضہ منورہ کی برکت سے عالمی سطح پر شیعوں کا روحانی مرکز ہے ،اور اب اسی مقدس شہر میں شہید رہبر کے پیکرمطہر کی تشییع و تدفین کی رسومات منعقد کئے جائیں گے جس نے اپنی پوری عمر اسلام، ولایت اور اہلبیت(ع) کی تعلیمات کو فروغ دینے میں گزار دی۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر(رح) سے وصال کی رسومات محض تشییع کی رسم نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ امت مسلمہ کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اور دنیا کے حریت پسندوں کے ضمیر میں ہمیشہ باقی رہے گا ۔
آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر نے مشہد مقدس میں شہید رہبر انقلاب اسلامی (رحمۃ اللہ علیہ) کے پیکرمطہر کی تشییع و تدفین کو عصر حاضر کا سب سے بڑا تاریخی واقعہ قرار دیا اور کہا کہ مشہد، جو ہمیشہ حضرت رضا (ع) کے روضہ منورہ کی روشنی سے پہچانا جاتا ہے، اس بار ایک ایسے امامِ امت کے پیکرمطہر کی میزبانی کا اعزاز حاصل کرے گا جس نے اہل بیت (ع) کے اہداف و مقاصد اور جدید اسلامی تمدن کے حصول کی راہ میں انتھک جدوجہد کی۔
جناب طالبی نے کہا کہ مشہد کے عوام کی جانب سے شہید رہبر انقلاب(رح) کی تشییع جنازہ کی میزبانی اس شہر کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے ، یہ عظیم واقعہ خدمت، جہدمسلسل، اسلامی نظام کی سربلندی اور اہلبیت(ع) کے معارف اور تعلمیات کو فروغ دینے کی راہ میں مزید توفیقات کا سبب بنے گا اس لئے تمام خدمت گزاروں کو چاہئے کہ وہ اس تاریخی واقعہ کو بہترین انداز میں منعقد کروانے میں شریک ہوں۔
آخر میں انہوں نے شہید رہبر (رح) کے حضرت امام علی رضا(ع) کی نورانی بارگاہ کی شان میں لکھے گئے اشعار میں سے چند اشعار بھی پڑھ کر سنائے۔