آستان نیوز کے مطابق بعض روایتیں صرف کتابوں کے صفحات تک ہی باقی نہیں رہتیں بلکہ یکے بعد دیگرے نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں تاکہ عام لوگوں کے حافظہ میں باقی رہيں ۔
امام رضا علیہ السلام کے یوم شہادت کی صبح نوغان کے علاقے کی خواتین کا عظیم اجتماع انہی تاریخی اور جاودانی روایتوں میں سے ایک ہے جو ہرسال امام رضا علیہ السلام کے یوم شہادت کی صبح اس حریم امن الہی میں منعقد ہوتا ہے تاکہ وہ یہ ثابت کریں کہ خواتین بھی مردوں کی طرح اس کریم و مہربان خاندان سے عقیدت و محبت میں ثابت قدم ہيں اور وہ اپنی عقیدت و محبت کے پھول امام مہربانی و رئوف کے حضور نچھاور کرتی ہیں
انتقام کے سرخ پرچموں کو فضا میں لہرانا
اس اجتماع میں شریک خواتین نے جو سیاہ لباس میں تھیں غمزدہ دل اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ عزاداری و نوحہ خوانی کی اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے کاندھوں پر انتقام کے سرخ پرچم اٹھا کر تاریخی اور عظیم راستے کو مضبوط قدموں کے ساتھ طے کیا اور حرم امام رضا علیہ السلام تک خود کو پہنچایا جہاں پہنچ کر انہوں نے امام ھشتم کے یوم شہادت پر عزاداری و سوگواری کی اور ساتھ ہی رہبرشہید کے خون کا انتقام لینے کے اپنے عزم کا اعلان کیا۔
نوغان کی خواتین کے اجتماع کا شکوہ اور عظمت
اس اجتماع میں جہاں مائيں تھیں وہیں جوان لڑکیاں بھی تھیں جہاں بوڑھی خواتین تھیں وہیں نواسیاں اور پوتیاں بھی تھیں تاکہ وہ شیعیت کی تاریخ میں خواتین تاریخی اور جاودانی میراث کو بیان کرسکیں اور انہيں آئندہ نسلوں تک بھی منتقل کریں
اور یہ اجتماع صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ مشہد اور نوغان کے عوام کی امام رضا علیہ السلام سے غیر معمولی عشق و عقیدت کی علامت بن چکا ہے ۔
شہر بہشت کی خواتین کی شرکت سے ایک اور عظیم اجتماع
اسی سلسلہ میں مشہد کی خواتین نے بھی مسجد امام رضا(ع) میں اجتماع کرکے ((رستاخیز زنان ایران )) کے زیرعنوان مجلس عزا برپا کی اور سوگواری کا اجتماع کیا ۔
اس پروگرام میں مذہبی اور سوگ کے اشعار پڑھے جانے کے ساتھ ساتھ تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہدا خاص طور پر میناب کے مدرسہ شجرہ طیبہ کے شہید بچوں اور بچیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور آخر میں امام رضا علیہ السلام کے حرم کی جانب انہوں نے مشی یا مارچ کیا ۔ان خواتین نے وہاں پہنچ کر رواق دارالمرحمہ میں جاری خصوصی پروگرام میں شرکت کی ۔
امام رضا علیہ السلام کی ضریح مبارک کے پاس خواتین کی عزاداری
اس پروگرام کے اختتام پر عزادار خواتین نے حرم مطہر کے رواق دارالمرحمہ میں اجتماع کیا اور امام رئوف کی شہادت کے غم میں اشک ماتم بہائے۔
اس پروگرام میں فضہ سادات حسینی نے مرثیہ خوانی کی اور امام صادق (ع) یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر فائزہ عظیم زادہ نے خطاب کرتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کے اعلی مقام و منزلت پر روشنی ڈالی اور امام ھشتم کو ہدایت ، بصیرت اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کا واضح نمونہ قرار دیا ۔
عزاداری کے اس اجتماع کے آخر میں سید علی حسینی نے بھی مرثیہ اور نوحہ خوانی کی اور امام رضا علیہ السلام کے مصائب پڑھ کر حرم کے تمام صحنوں اور رواقوں کی فضا کو سوگوار اور عزادار بنادیا ۔