محترمہ شریفی نے آستان نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال منعقد ہونے والی دوسری امام ہادی(ع) بینالاقوامی کانگریس میں دسویں امام کی سیرت و زندگی پر بارہ مسابقتی محور تھے۔ اس کے ادبی حصے میں ناول، روایت، مختصر کہانی ، سفرنامہ اور افسانہ شامل تھے، اور میری کہانی «سلالة النبیین» نے مختصر کہانی کے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
’’سلالۃ النبیین‘‘ کہانی ؛ امام ہادی(ع) کی کرامت پر مبنی مستند روایت ہے
انہوں نے بتایا کہ یہ کہانی امام ہادی (ع) کی ایک کرامت پر مبنی ہے اور تاریخی مآخذ کی مدد سے تحقیق کے بعد تحریر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہانی کے مکالموں میں امام ہادی (ع) کی معروف زیارت جامعہ کبیرہ کے بلند مضامین سے استفادہ کیا ہے۔
یہ مصنفہ، جواپنے آپ کو استاد محمد خسروی راد کی شاگرد بتاتی ہیں، مشہد میں «بهنشر» پبلیکیشنز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے «عصرانہ داستاننویسان رضوی» ورکشاپس کے حوالے سے کہتی ہیں کہ اس پبلیکیشن کے ادارے میں ہونے والے تنقیدی اجلاسوں اور ورکشاپس نے میرے جیسے نئے قلم کاروں کو بہت کچھ دیا ہے۔ اساتذہ کے تجربات سے استفادہ کرنے سے میری تحریر میں نکھار آیا اور میں نے کتاب فیسٹیولز میں زیادہ مؤثر طریقے سے شرکت کی ہے۔
محترمہ شریفی نئے قلم کاروں کو ادبی مقابلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان افسانہ نگار ضرور خود کو چیلنج کریں، افسانہ نگاری کے تمام لوازم اچھی طرح سیکھیں اور «بهنشر» جیسے پروگراموں سے فائدہ اٹھائیں جن میں تجربہ کار اساتذہ شریک ہوتے ہیں۔
اس نوجوان مصنفہ نے افسانہ نگاری کے اپنے سفر کے آغاز کے بارے میں بتایا کہ نوعمری میں ادبی اساتذہ اور تربیتی عملے کے اصرار پر میں نے لکھنا شروع کیا اور افسانہ نگاری کے لوازم اور دنیا کے مشہور افسانہ نگاروں کے کاموں سے روشناس ہوئی۔ کچھ سال وقفے کے بعد، چار سال پہلے میں سنجیدگی سے دوبارہ لکھنے لگی اور 2025 میں متعدد قومی، صوبائی اور بینالاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا، جن میں سے بعض میں کامیابی حاصل کی اور بعض میں قابل تعریف قرار پائی۔
گفتگو کے آخر میں محترمہ شریفی نے ’’بہ نشر ‘‘ پبلیکیشنز‘‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے اجلاس اور ورکشاپس کے ذریعے نئے قلم کاروں کی چھپی ہوئی صلاحیتیں نکھریں گی اور امام رضا(ع) کے سائے میں اس ادارے کی برکت سے ہم اہلبیت عصمت و طہارت(ع) کے لئے قابل قدر کام کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس بھی اس مصنفہ کے بہت سارے تحریری کام چھپ کر منظر عام پر آئے تھے۔