آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حضرت امام رضآ علیہ السلام عالمی کانگریس کی اس پری میٹنگ میں قانون، فلسفہ، الہیات اور انسانی علوم کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، محققین اور مفکرین نے رضوی تعلیمات کے تناظر میں انسانی کرامت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
حضرت امام رضآ علیہ السلام عالمی کانگریس کے سیکریٹری ڈاکٹر سعید رضا عاملی نے اس پری میٹنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عالمی بحرانوں میں سے نبرد آزما ہونے کے لئے امام ہشتم کی تعلیمات کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے عدالت محور اقدار اور ادیان کے مابین تعمیری گفتگو کی طرف لوٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر عاملی نے کانگریس کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانگریس چار دہائیوں پر محیط تاریخ کے ساتھ ایران کی قدیم ترینی فکری تنظیموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد امام رضا(ع) کی تعلیمات اور انسانی زندگی کے درپیش اور معاصر
مسائل کے مابین تعلق پر ایک نیا نقطہ نظر پیش کرنا ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کانگریس کا سفر ابتدائی ادوار میں کائنات شناسی اور انسانی علوم کے جائزے سے شروع ہوا اور اب دنیا کے حقیقی چیلنجز جیسے کہ عدم مساوات، جنگ، بھوک اورماحولیاتی بحرانوں کے تجزیئے کی طرف مڑ چکا ہے ۔
ڈاکٹر عاملی نے موجودہ دور میں انسانی کرامت کے بحرانی حالات کا ذکر کرتے ہوئے نسلی تعصبات،مذہبی امتیازات،اسلاموفوبیا اور ایرانوفوبیا جیسے سنگین خطرات پر گفتگو کی اور کہا کہ قوموں اور مذہبی معاشروں کے مابین تفریق کی پالیسیوں نے عالمی چیلنجز کو مزید شدید بنا دیا ہے اس لئے عصر حاضر میں پائیدار حل تلاش کرنے کے لئے ایک جامع اور وسیع فریم ورک کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے ابراہیمی ادیان کے مابین گفتگو کو موجودہ دور کے پیچیدہ بحرانوں سے نکلنے کا اہم ترین راستہ قرار دیا۔
اس پری میٹنگ کے دوران پروفیسر جیان پیٹرو کالیاری، جو قانون اور فلسفہ کے شعبے میں استاد اور محقق ہیں، نے انسانی حقوق کی نظریاتی بنیادوں کا جائزہ لیا اور انسانی حقوق، مابعدالطبیعیات اور الہیات کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا۔
انہوں نے عصر حاضر میں انسانی حقوق کے چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انسانی حقوق کو اپنے تصوراتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی سوالات جیسے کہ انسان کی فطرت، حقیقت اور عدالت کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔
فرانچیسکو ناسینی، جو ایک اطالوی محقق ہیں اور معاشیات و انتظام میں تجزیہ اور ڈیٹا سائنس کے شعبے میں کام کرتے ہیں اور ثقافتی فاؤنڈیشن "فیدس ات راتیو" کے رکن ہیں،انہوں نےبھی ایمان اور عقل کے درمیان تعلق کو انسانی زندگی کے دو تکمیلی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا معلومات تک وسیع رسائی کے باوجود ہمیشہ سے زیادہ حکمت اور بصیرت کی کمی کا شکار ہے۔
انہوں نے حضرت امام رضا (ع) کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے، علم کو معلومات کے محض ذخیرے سے بالاتر قرار دیا اور کہا کہ علم اس وقت قیمتی ہے جب یہ اخلاقی تبدیلی، ذمہ داری اور دوسروں کی خدمت کا باعث بنے۔ ناسینی نے امام رضا (ع) کے مکالمہ محور سیرت کو بھی عصر حاضر کے لیے ایک اہم نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی گفتگو اس وقت تشکیل پاتی ہے جب انسان عقیدے اور ثقافتی اختلافات کے باوجود، ایک دوسرے کو سب سے پہلے انسان کے طور پر پہچانیں۔
مجموعی طور پر اس پری میٹنگ کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی کرامت، عدالت، حقیقت کی جستجو،گفتگو اور سماجی ذمہ داری مذاہب کے مابین سب سے اہم مشترک عناصر ہیں اور امام رضا(ع) کی تعلیمات بین المذاہب گفتگو کو فروغ دینے اور عصر حاضر کے مسائل کے لئے اخلاقی اور انسانی جوابات فراہم کرنے کے لئے ایک مؤثر بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔