آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ شب شہادت حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا(ع) کے موقع پر روایتی خطبہ خوانی کے پروگرام میں جو مؤرخہ 12 اگست2026 بروز بدھ کو حرم امام رضا(ع) کے صحن پیامبر اعظم(ص) میں منعقد ہوا ،آیت اللہ احمد مروی نے خطاب کیا اور رحلت پیغمبر گرامی اسلام(ص) اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام رضا(ع) کی شہادت کے ایّام کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتے ہوئے قومی اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم دنیا کے تمام مظلوموں اور ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے افراد کی حمایت کے لئے ایک نمونہ ہے ،لیکن اس راہ میں ہمیں اتحاد و یکجہتی اور اعتماد کو برقرار رکھنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد و یکجہتی اور ملکی حکام اور ذمہ داران پر اعتماد کرتے ہوئے عزت و عظمت اور استقلال و آزادی کے راستے پر چلتے رہیں تاکہ انشاءاللہ امام زمانہ (عج) کے ظہور کا راستہ ہموار کرسکیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں مایوسی، بدگمانی اور شکوک و شبہات پیدا کرنا ، دشمن کی خدمت اور اسے خوش کرنے کے سوا اور کچھ نہیں، اسی طرح دشمن کو اچھا دکھانا اور اسے بے ضرر ظاہر کرنا بھی ملت ایران لئے کوئی فائدہ نہیں رکھتا ، اس لئے یہ دونوں طرز عمل قبول نہیں ہیں۔
انہوں ںے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی قوم کو اہلبیت(ع) کی تعلیمات سے جڑا رہنا چاہئے ،ہمیشہ استقامت،میدان میں حاضر رہنے اور دشمن ستیزی کے جذبے کو برقرار رکھنا چاہئے ۔
شہید رہبر(رح) کی استقامت و شجاعت کا سبب امام معصوم سے ان کا تمسک تھا
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنے خطاب میں شہید رہبر کی استقامت، دشمن ستیزی، بہادری اور عوام دوستی کو ان کے امام معصوم سے گہرے تعلق کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فضیلتیں صرف اس لیے تھیں کہ خدا کے اس نیک بندے کا امام معصوم سے تعلق تھا؛ انہوں نے اپنی ذات، مقام اور عہدہ کو امام ہشتم (ع)، رسول گرامی اسلام (ص) اور امیرالمؤمنین (ع) کی تعلیمات کی خدمت میں وقف کر رکھا تھا۔
آیتاللہ مروی نے شہید رہبر کی شہادت کے عالمی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عبد خدا کی شہادت کی برکت سے جو تبدیلی دنیا میں آئی، وہ صرف ایران، عراق، شیعوں یا حتیٰ مسلمانوں تک محدود نہیں تھی؛ بلکہ اس نے دنیا بھر کے تمام ستم رسیدہ لوگوں کو متاثر کیا اور یہ سب کچھ امام معصوم کی پیروی اور امام معصوم کے ساتھ باطنی اور گہرے تعلق کی وجہ سے تھا۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کی شہادت کی برکت سے دنیا میں کتنی تحریکیں وجود میں آئی ہیں ؛ ہم ابھی راستے کے آغاز پر ہیں اور انشاءاللہ یہ تحریکیں ظلم کو جڑ سے ختم کر دیں گی اور ظالموں، مستکبروں اور جابروں کا تختہ الٹ کر رکھ دیں گی۔
ایرانی قوم دشمنوں کے جرائم اور مظالم کے مدّ مقابل مزید مستحکم ہو چکی ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے ایرانی قوم کی دشمن کے جرائم کے خلاف مزاحمت اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمن نے ایرانی قوم پر جتنی زیادہ سختیاں ، مشکلات اور پابندیاں بڑھائی ہیں اس سے نہ صرف لوگوں میں تزلزل،مایوسی اور نا امیدی پیدا نہیں ہوئی بلکہ ان کی وجہ سے لوگوں کے عزم پختہ ہوئے ہیں اور استقامت و ایمان میں اضافہ ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ اہلبیت(ع) کی تعلیمات سے جڑے رہنے کی برکت سے ہے اس لئے ہمیں اس تعلق کو برقرار رکھ کر اس قیمتی سرمائے کی حفاظت کرنا ہوگي ۔
آیت اللہ مروی نے شہید رہبر(رح) ، میناب اسکول کے بچوں،عام شہریوں اور فوجی کمانڈروں اورجوانوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم ان عزیزوں کے خون کو اتنی آسانی سے نظر انداز کر سکتے ہیں؟ کیا ہم انتقام نہیں لے سکتے ؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں دشمن کو یہ احساس دلانا ہوگا، جیسا کہ اب تک ہم اس حقیقت کو دکھا بھی چکے ہیں کہ اگر سب سے بڑے مجرم کے پاس اعلیٰ وسائل ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ جو چاہئے کر سکے، ہم نے یہ ثابت کیا ہے اور انشاء اللہ ہم انتقام بھی لیں گے۔
امام رضا(ع) کے زائر کو امام کی معرفت اور امام کی اتباع کے راستے پر چلنا چاہئے
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں حضرت امام علی رضا(ع) کے زائرین کے مقام ومرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا(ع) نے فرمایا:’’إنَّ زُوّارَ قَبْرِی لَأَکْرَمُ الْوُفُودِ عَلَی اللهِ یَوْمَ الْقِیامَةِ‘‘(میری قبر کے زائرین ، قیامت کے دن سب سے معزز ترین گروہ میں سے ہوں گے)۔
آیت اللہ مروی نے اس بات پر زور دیا کہ امام رضا(ع) کے زائر کا مقام و مرتبہ اس کی معرفت اور امام کی اتباع پر موقوف ہے ،زائر کو جتنی معرفت ہو گی اور جتنا وہ امام کی تعلیمات پر عمل کرے گا،اس کا مقام اتنا ہی بلند اورممتاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خداوند متعال نے ہمیں حضرت امام علی رضا(ع) کے زائر ہونے کا شرف عطا کیا ہے لیکن ہمیں فقط اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ، ہمیں اپنی معرفت کو بڑھانا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ امام کی اتباع کو بھی زیادہ سے زیادہ جاری رکھیں۔
اولیاء اللہ کا قرب اتباع سے حاصل ہوتا ہے
آستان قدس رضوی کے متولی نے قرآن کریم کی آیت شریفہ ’’ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوهُ‘‘( بے شک لوگوں میں سے ابراہیم سے قریب وہ ہیں جنہوں نے ان کی اتباع کی) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ صرف جگہ یا نسب کا قرب حقیقی قرب پیدا نہیں کرتا بلکہ انسان اور ولی خدا کے درمیان ہم آہنگی ، مشابہت اور یکسانیت ہونی چاہئے اور یہ قرب ولی خدا کی معرفت، محبت اور اتباع و پیروی سے حاصل ہوتا ہے ۔
انہوں نے اُویس قرنی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُویس، پیامبر اکرم (ص) کی حیات مبارکہ میں موجود تھے، لیکن انہیں آپ کی زیارت کا موقع نہیں ملا؛ تاہم معرفت اور پیامبر (ص) کی تعلیمات پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچے کہ رسول خدا (ص) خود ان کی ملاقات کے مشتاق تھے۔
آیتاللہ مروی نے اُویس قرنی کو مؤمن انسان کے لیے ایک نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے انسان کا سماجی اور معاشی مقام بہت کم ہو، لیکن وہ ترقی کر کے معراج تک پہنچ سکتا ہے؛ اُویس قرنی ہمارے لیے ایک حجت اور نمونہ ہیں۔
زیارت ؛ اپنی زندگی کو امام رضا(ع) کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا بہترین موقع ہے
آيت اللہ مروی نے کہا کہ آج امام رضا(ع) کے اقوال اور تعلیمات ہمارے پاس موجود ہیں اگرچہ ہم امام رضا(ع) کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھتے اور معمول کے مطابق آپ کا کلام نہیں سنتے، لیکن جو الہیٰ احکامات آپ نے دنیا اور آخرت میں ہماری سعادت اور خوشبختی کے لئے بیان فرمائے ہیں وہ ہمارے پاس موجود ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم ان تعلیمات کو کتنا جانتے ہیں اور کتنا ان پر عمل کرتے ہیں؟
آستان قدس رضوی کے متولی نے زیارت کو روح اور زندگی کو امام (ع) کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا بہترین موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیارت کا مطلب ہے کہ اپنی روح کو جلا بخشیں، اپنے دل کو پاکیزہ کریں اور اپنی ذات، روح، دل اور باطن کو اس مقدس حرم میں پاکیزگی بخشیں، اپنے آپ سے آلودگیوں کو دور کریں اور نفرتوں کینوں، اخلاقی رذائل کو اپنی ذات سے نکال باہر کریں تاکہ ہم ’’حقیقی زائر‘‘ کا مقام حاصل کر سکیں ۔
شہید رہبر(رح) کی حرم امام رضا(ع) کی آخری زیارت سے متعلق آیت اللہ مروی کا بیان
آیت اللہ مروی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے شہید رہبر(رح) کی آخری زیارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو سال قبل وہ ضریح مطہر کی صفائی کی تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے اور ضریح مطہر کے اندر تشریف لے گئے ،زیارت جامعہ کبیرہ اور ذکر توسل ختم ہونے کے بعد اگرچہ پروگرام ختم ہو چکا تھا اس کے باوجود بیس منٹ تک اپنے جد(امام رضا(ع)) کی قبر مطہر کے پاس کھڑے رہے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے رکھا ۔
انہوں نے بتایا کہ جب دعا و زیارت کی آواز سنائی دینا بند ہو گئی تو آپ نے کہا کہ کیا ہمیں جانا چاہئے؟ میں نے عرض کی ؛ اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ رہنا چاہیں تو تشریف رکھیں تو پھر کچھ دیر اور ٹھہرے ،مجھے نہیں معلوم کہ وہاں کیا گزری اور ان کے اور حضرت امام علی رضا(ع) کے درمیان کیا ہوا، یہ باتیں میرے لئے قابل ادراک نہیں ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ مجھے کئی بار ان کی موجودگی میں ضریح مطہر کی صفائی کا موقع ملا ہے لیکن یہ زیارت ان کی تمام زیارتوں سے مختلف تھی، مجھے نہیں معلوم انہوں نے کیا محسوس کیا تھا کہ یہ ان کی آخری زیارت ہے اور اب وہ دوبارہ اس حرم مطہر میں تشریف نہیں لا سکیں گے، وہ زیارت ان کی آخری زیارت ثابت ہوئی۔
آخر میں آیت اللہ مروی نے کہا کہ اہل معنا(عرفا) اور اہل باطن حضرت امام علی رضا(ع) سے گہرا اور ناقابل بیان تعلق رکھتے ہیں ، شاید ہم میں سے بہت سے لوگ اس کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔