آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ فیسٹیول تقریب آستان قدس آستان قدس رضوی کے نمائشی اور کانفرنس مرکز میں منعقد ہوئی جس میں حوزہ علمیہ خراسان کے سربراہ حجت الاسلام علی خیاط نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل اور ورچوئل اسپیس میں میڈیا محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ذہنوں کی تعمیر،معانی کی تخلیق اور گہرے اثرات مرتب کرنے کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے ۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ سلمان فیسٹیول ،ورچوئل اسپیس کے ایکٹیو اہلکاروں کے لئے ایک اہم راستے کا آغاز ہے وہ ایسے اجتماعات کے ذریعہ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بہتر میڈیا مواد تخلیق کر سکتے ہیں ۔
حوزہ علمیہ خراسان کے سربراہ نے میڈیا اور ڈیجیٹل اہلکاران کو مخاطب قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ کبھی بھی حق اور حقیقت کے راستے سے جدا نہ ہوں اورامام عصر(عج) کے زمانے میں اسے اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انجام دیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ میڈیا ماحول میں سامعین اور ناظرین کے ذہن کی تشکیل طاقت کے بنیادی عناصر میں شمار ہوتی ہے اور عالمی طاقتیں اس حقیقت پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں ۔
حوزہ علمیہ خراسان کے سربراہ نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کے اکھٹے ہونے کا مقصد نیٹ ورک سازی ہے اگرچہ ڈیجیٹل اہلکاران حق بیان کرتے ہیں اور ان کے موضوعات حق پر مبنی ہوتے ہیں لیکن یہی حق اس وقت زیادہ بابرکت ہوجاتا ہے جب میڈیا اہلکاران ایک دوسرے کے ساتھ مل کرکام کریں اور ایک حقیقی نیٹ ورک تشکیل پائے ۔
به گفته وی، همدلی و دلدادگی از جمله جلوههای زیبایی است که در ابتدا از خود فرد آغاز میشود، اما لازمه آن، برخورداری از انصاف است، افراد باید خود و دیگران را دوست داشته باشند تا بتوانند با رعایت انصاف، همدلی را در جامعه اجرایی کنند.
سلمان فیسٹیول کے لئے با معنی اور خوبصورت عنوان؛ ہمدلی
ممتاز مذہبی اسکالرحجت الاسلام شہاب مرادی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ ’’ہمدلی‘‘ کا عنوان اس فیسٹیول کے لئے ایک بامعنی اور خوبصورت عنوان ہے ۔ یہ عنوان ایرانی تہذیب و ثقافت اور اسلامی تعلیمات دونوں میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دفاع مقدس کے زمانے میں عوامی ’’ہمدلی‘‘ نے ملک کو بڑے بڑے بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،اسی طرح حالیہ بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی عوام نے جس طرح سے ہم دلی کا مظاہرہ کیا وہ غیر متوقع اور بے حد مؤثر ثابت ہوئیں۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمدلی اور دلی لگاؤ کا آغاز ایک فرد سے ہوتا ہے مگر اس کی بنیاد انصاف پر مبنی ہے اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ خود سے اور دوسروں سے محبت کرے تاکہ معاشرے میں انصاف کے ساتھ ساتھ ’’ہمدلی‘‘ کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔
کفر کے مدّ مقابل عالمی سطح پر ’’ہمدلی‘‘ نیٹ ورک کا تشکیل پانا ظہورِ امام زمانہ (عج) کا پیش خیمہ
پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے دوسرے بین الاقوامی سلمان میڈیا اینڈ ورچوئل اسپیس فیسٹیول کے جنرل سیکرٹری حجت الاسلام احسان کفشدار طوسی نے اس فیسٹیول کا ہدف عالمی سطح پر کفر اور ظلم کے مدّ مقابل ’’ہمدلی‘‘ کا نیٹ ورک قائم کرنا اور ظہور امام زمانہ(عج) کے لئے زمینہ سازی کرنا ہے ۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارہ روزہ جنگ اور خطے کی تبدیلیوں کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کس طرح سے دنیا کو منظم شدہ کفر اور ظلم کے تسلط سے نجات دی جا سکتی ہے ۔
انہوں ںے کہا کہ دشمن اپنی پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ اسلام،مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں خصوصاً اہلبیت(ع) کے شیعوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ۔
اسی تناظر میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ عالمی ’’ہمدلی‘‘ کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں ہے کیونکہ جب دل سب کے ایک دوسرے کے قریب ہوں گے تو مشترکات نمایاں اور اختلافات کم ہو جائیں گے اس طرح سے دشمن بھی شکست کھائے گا اور امام زمانہ(ع) کے ظہور کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگا۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے فرمان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ’’ہیت یعنی محبت کے نام پر تمام احساسات کا اکھٹا ہونا‘‘کہا کہ یہ جملہ اہلبیت(ع) کی تعلیمات کا خلاصہ ہے ،دنیا کا سب سے طاقتور نیٹ ورک ؛ہیت کا نیٹ ورک ہے جو مفاد پر نہیں بلکہ محبت پر قائم ہوتا ہے ۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم امام زمانہ(عج) کے لئے کوئی مستقل اور مؤثر قدم اٹھانا چاہتے ہیں اور عالمی سطح پر ہمدلی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اجتماع اور یکجہتی ضروری ہے ۔
انہوں نے آیت اللہ بہجت(رہ) کے قول کو ذکر کرتے ہوئے کہ’’آخر الزمان کی سختیاں اس وقت کم ہو جاتی ہیں جب لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آجائیں‘‘کہا کہ حالیہ بارہ روزہ جنگ نے دلوں کو قریب کیا ہے اگرچہ دشمن نے بعد کے واقعات کے ذریعے اس ہم دلی کو توڑنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے دیکھا کہ ہم دلی دوبارہ سے برقرار ہوئی ہے ۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اصل مواقع انہی بحرانوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں جن سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔