آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حرم امام رضا(ع) کے بلڈنگ اسٹرکچر اینڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جناب جعفر فرزانہ ہیں جو کہ رواق حضرت امیرالمؤمنین کے ڈیزائن اور ساخت کےبھی ذمہ دار ہیں،یہ منصوبہ حرم امام رضا(ع) کے صحن جمہوری اسلامی کے مینارکی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے ساتھ تھا ، اسی وجہ سے اس منصوبے کو فنی اور تعمیراتی لحاظ سے بہت زیادہ باریک بینی اور دقیق توجہ کی ضرورت تھی جس سے کام مزید مشکل لگ رہا تھا ، تاہم انہوں نے یہ کام حرم امام رضا(ع) میں اور اپنے پیشے میں 16 سالہ تجربے کے باعث کامیابی سے نبھایا ، ذیل میں ان کے ستھ اس عظیم پروجیکٹ کے بارے میں ہونے والی گفتگو کو قارئین کے لئے پیش کیا جارہا ہے ۔
کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں آپ کی ذمہ داری کیا تھی؟
میں نے 16 سال پہلے حرم امام رضا علیہ السلام میں کام شروع کیا اس وقت میری ذمہ داری عمارتوں کی ڈاکومنٹشن کرنا تھا،میں نے خود بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یونیورسٹی سے بلڈنگ اسٹرکچر پر ماسٹر کرنے کے بعد اپنا کام عمارتوں کی ڈاکومنٹشن سے شروع کروں گا،یہ موضوع میرے لئے دلچسپ تھا اس لئے میں نے ڈاکومنٹشن کو سادہ انداز سے بدل کر ٹکنیکل انداز میں لانے کی کوشش کی، اس سلسلے میں میرا پہلا قدم ’’صحن جمہوری‘‘ کی ڈاکومنٹشن سے متعلق تھا اور اس کے بعد میں نے حرم امام رضا علیہ السلام میں مختلف تاریخی ادوار کے ساتھ ساتھ جدید دور میں تعمیر ہونے والی بہت ساری عمارتوں کا جائزہ لیا اور کوشش کی کہ مناسبت دستاویزات تیار کروں جو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں قابلِ قبول ہوں۔
رواقوں(ہالز) کی توسیع و ترقی میں آپ کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے اورکیا کام انجام دیا ہے ؟
کسی بھی چیز کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے دقیق شناخت اور دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے ، کبھی کبھار کسی عمارت کی قدامت کی وجہ سے دستاویزات کافی حد تک موجود نہیں ہوتیں اور ہمیں انہیں تلاش کرنا پڑتا ہے مثال کے طوروہ عمارتیں جو پچاس یا ساٹھ سال یا حتی چار سو سال پرانی ہیں جن کے بارے میں کوئی ٹیکنیکل یا انجینئرنگ دستاویزات موجود نہیں ہیں ان کے بارے میں انجینئرز کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے لہذا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم وہ دستاویزات تیار کریں ان دستاویزات میں عمارت کی ہندسیات (Geometry)، عمارت میں موجود نقائص (عارضے)، اور اس میں ممکنہ تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان کا بغور مشاہدہ کریں اور انہیں تحریری شکل دیں اور انجینئرز کے اختیار میں قرار دیں جنہوں نے عمارت کی مضبوطی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے اس لیے، عمارت کی ٹیکنکل شناخت کا کتابچہ تیار کرنا ایک ڈاکومنٹشن کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔
یہ ذمہ داری جب آپ کو سونپی گی تو آپ نے اسے کس طرح سے انجام دی؟
جب ہم مختلف عمارتوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں مثال کے طور پر گوہر شادجیسی تاریخی عمارت کی ڈاکومنٹشن کرنا چاہتے ہیں تو ان عمارتوں کے بانیوں کے واقعات کو بھی پڑھتے ہیں ،ان واقعات سے ان کے اخلاقی اور انتظامی اصولوں کا پتہ چلتا ہے جنہیں تعمیر کرتے وقت رعایت کی جاتی تھی ، شاید دنیا میں کہیں اور اس طرح نہ ہوتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے کام شروع کیا تو تین مختلف گروپس نے حرم امام رضا(ع) سے متعلق علیحدہ علیحدہ ڈاکومنٹشنز تیار کیں،مجھے شدید تشویش تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ میں پیش کر رہا ہوں اس میں کوئی کمی رہ جائے ، خوش قسمتی سے جس ٹیم نے ہماری دستاویزات حاصل کیں انہوں نے میری پیش کردہ رپورٹ کو انتہائی مکمل سمجھا اور یہ رپورٹ حرم امام رضا(ع) کی ڈاکومنٹشن کے لئے ایک ماڈل بن گئی، میں نے اس رپورٹ میں نہایت توجہ اور باریک بینی کے ساتھ تفصیلات مرکوز کرنے کی کوشش کی تھی جن میں عمارتوں پر موجود دراڑیں، شکلیں اور نقائص تک شامل تھے۔
حتی ٹیکنیلی طور پر بھی جو فرق تھا جیسے اینٹوں کی ترتیب کا انداز ایک جگہ کا دوسری جگہ سے مختلف ہوتا ہے ان سب کو ذکر کیا ،اس نقطہ نظر نے مجھے اپنے کام کو ایک تخصصی اور تجزیہ محور کام کے طور پر انجام دینے میں مدد ملی اور میں نے کوشش کی کہ اس تجزیاتی نظر کو ڈاکومنٹشن میں بھی منتقل کروں اور عینی مشاہدات پر بھی ایک تجزیاتی انداز سے نظر ڈالوں۔
رواق(ہالز) کی ڈیولپمنٹ اورچھت پر زیارت کے منصوبے اور رواق امیرالمؤمنین کی تعمیر کے منصوبے کا خیال کیسے آیا؟
زائرین کے لئے جگہ کی توسیع و ترقی ، زائرین کے مسلسل بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کو مدّ نظر رکھتے ہوئے انجام دی گئی ہے ،2009 میں پہلی بار زائرین کے لئے چھت والے مقامات کی توسیع کا پہلا منصوبہ بست شیخ بہائی(رہ) کی صورت میں پیش کیا گیا ، اس پر جب مطالعات انجام پائے تو پتہ چلا کہ یہ منصوبہ بہت سارے چیلنجز کا شکار ہے کیونکہ بحرانی حالات میں یہ خود بحران پیدا کر سکتا ہے اس لئے 2011 اور 2013 میں صحن جمہوری کی حدود میں چھت والے مقامات کو توسیع دینے کے لئے منصوبہ ڈیزائن کیا گیا تاکہ موجودہ کمیوں کو پورا کیا جا سکے۔
2022 میں رواق امیرالمؤمنین(ع) سے متعلق سنجیدگی سے مطالعات شروع کئے گئے اور 2023 تک اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی۔2024 میں چھت پر زیارت کرنے کے مفروضے کو ڈیزائن کرنے میں کامیاب ہو گئے ، اس بارہلکی اور انڈسٹری چھت کی بجائے ایک مضبوط چھت ڈیزائن کی گئی جو زائرین وسیع بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل ہو ،2024 سے یہ منصوبہ جاری ہے ۔
یہ رواق جو کہ صحن جمہوری کے نیچے واقع ہے اس کی تعمیر کے وقت صحن کے مینار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسے ممکن ہوا؟
گزشتہ برسوں میں ہمیں جو انڈر گراؤنڈ عمارتوں کی تعمیر سے تجربہ حاصل ہوا وہ بہت ہی قیتمی تھا ،حرم امام رضا(ع) میں منتقل کرنے کا مسئلہ کوئی نیا موضوع نہیں تھا مثال کے طور پر شیخ بہائی (رہ) منصوبے میں ہم نے کئی دروازوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جن میں سے بعض کا وزن ساڑھے تین ہزار ٹن تک تھا۔
رواق امیرالمؤمنین کی تعمیر کے لئے ضروری تھا کہ مینار کو مسمار یا منتقل کیا جائے ،موجودہ دستاویزات کی بنا پر ہم یہ جانتے تھے کہ مینار کنکریٹ سے بنا ہوا ہے اور مضبوط ہے اگرچہ اس کا وزن تقریباً150 ٹن تھا اور جو منتقلی ہم نے حرم کے دیگر مقامات پر انجام دی تھی ان کی نسبت زیادہ تشویش نہیں تھی۔
ہم نے مکمل مطالعہ کے بعد عملی نقطہ نظر سے یہ اعلان کیا کہ اس مینار کا اس جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہے حتیٰ کہ ابتدائی طور پر انتظامیہ کے شعبے کو پیش کیے گئے گرافکس میں ہم نے واضح کیا کہ ریل سسٹم کا استعمال ضروری ہے اور یہ مضبوطی (مهار) اس طرح ہونی چاہیے کہ جیسا گرافک ڈیزائن میں دکھایا گیا ہے، یہ قابلِ عمل اور ممکن ہے۔اور اس ستر میٹر کی منتقل کا کام انجام دیا جا سکتا ہے ۔
اگرچہ حرم امام رضا(ع) میں اس طرح منتقلی کا موضوع کوئی نیا تجربہ نہیں تھا بلکہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مدرسہ عباسقلی خان کو منتقل کرنے پر بھی بحث ہوئی تھی تاہم، ہماری منتقلی مختلف تھی اور ہم اسے ساتھیوں کی مدد سے انجام دینے میں کامیاب رہے۔
مینار کی منتقلی کے معاملے میں کیا خدشات تھے اور کیا ابتدائی آئیڈیا حتمی آئیڈیا سے مختلف تھا؟
اگرچہ ہم اس پراجیکٹ کو عملی شکل دینے والے نہیں تھے لیکن ہم نے واضح کہا تھا کہ عمارت کا ڈھانچہ مضبوط اور پائیدار ہے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ، تاہم جب ہم نے یہ کام منتقل کرنے والی کمپنی کے سپرد کیا تو انہوں نے کچھ خدشات ظاہر کئے اور کہا کہ اگر ہم یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مینار کے نچلے حصے کو بھی بیک وقت آگے بڑھانا ہوگا۔ اس لیے، عملی پیرامیٹرز کے مجموعے نے یہ فیصلہ کرایا کہ مینار کا ایک اور حصہ بھی منتقل کیا جائے۔
یہ فیصلہ عملی کام دینے والے شعبے پر کیا گیا اس لئے ہم نے مینار کا وزن مزید بڑھا دیا تاکہ منتقلی کے عمل کے لئے مشکل پیش نہ آئے ،اس پر بھی مختلف تجزیے ہوئے اور زلزلے اور دیگر مسائل کے خدشات کو بھی مدّ نظر رکھا گیا۔
ابتدائی آئیڈیا صحنِ جمہوری کے ستونوں کی بنیاد پر تشکیل پایا تھا لیکن مزید مطالعہ اور جانچ پڑتال کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ مینار کے بوجھ کو مختلف ستونوں کے اندر منتقل کرنا ضروری ہے ،مینار اور اس کی مضبوطی، ریلیوں اور منتقلی کے معاملے میں مختلف ماہرین موجودگی میں کئے گئے جائزے میں ڈھانچے کی مضبوطی پر سب مطمئن تھے،وزن کو متعدد نکات پر منتقل کیا گیا ، درحقیقت منتقلی کے عمل میں پچیس سے تیس ستون شامل تھے ۔
رواق امیرالمؤمنین (ع) کی تعمیر کے وقت آپ کو کن چینلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور آپ نے انہیں کیسے حل کیا؟
مطالعاتی شعبے میں رواق کی ترقی و توسیع کا معاملہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ،میں یہ بتانا چاہوں گا کہ حرم مطہر کی توسیع و ترقی کے لئے جو بھی اقدام کرنا چاہتے ہیں ضروری نہیں ہے کہ اس لئے پہلے سے بنیادی اسٹرکچر موجود ہوں، مثال کے طور پر جب شیخ بہائی کے احاطے سے دارالحجہ رواق تک ایک رابطہ راستہ بنانے کی بات ہوئی تو پہلا چیلنج یہ تھا کہ ہم کہاں سے گزاریں ، کتنا گہرائی سے گزاریں کیا یہ ایک سادہ راستہ ہے یا مٹی کے حجم میں بنی ہوئی سرنگ؟
ہم اس جیسے نمونوں کی تلاش کرتے ہیں البتہ انجینئرنگ میں بعض اقدامات کی اجازت نہیں ہوتی لیکن حرم امام رضا(ع) کے مسائل معمول کے مطابق انجینئرنگ کی سطح سے بالاتر ہوتے ہیں۔
اگر ہم انجینئرنگ کے درجات کو تجرباتی،ضابطہ جاتی اور تجزیاتی تین حصوں میں تقسیم کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں زیادہ تر ضابطہ جاتی خطوط کی پیروی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ تجزیاتی اور تحلیلی سطح ضوابط سے ایک قدم آگے ہوتی ہے اور عام طور پر انہیں خاص حالات میں استعمال کیا جاتا ہے ، لیکن حرم میں بہت سارے مسائل ضابطہ جاتی سطح سے بالاتر ہوتے ہیں اور انہیں پیچیدہ اور متنوع تجزیوں کی شکل میں انجام دیا جاتا ہے ۔
ہم نے اس کام کے لئے ایسی کمپنیوں کا انتخاب کیا جو پہلے سے اس طرح کا کام خاص مقام جیسے عتبات عالیات وغیرہ میں انجام دے چکی تھی اور حرم کے حالات اور زائرین کی کثرت کے حالات کو بخوبی جانتی تھیں ، خوش قسمتی سے یہ کمپنیاں کامیاب ہوئیں اور منصوبہ ڈیزائن ہوا اور ان کی نگرانی میں کام جاری ہے ۔
کس طرح کی جانچ پڑتال ہوئی اور کس طرح سے اطمینان حاصل ہوا کہ ایرانی انجینئرز اس کام کو انجام دینے کے قابل ہیں؟
اس کا جواب ڈاکومنٹشن پر منحصر ہے اگرچہ جو رواق بنایا گیا تھا وہ ایک کھلے صحن پر بنایا جانا تھا،تاہم یہ سوال تھا کہ کیا پہلے بھی ایسے کوئی تجربہ کیا گیا تھا؟ تو جواب واضح ہے نہیں،کیونکہ جب ہم پچھلے نقشے کو دیکھتے ہیں تو اس میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا تھا کہ اس عمارت کے اوپر ایک اور طبقہ بھی تعمیر کیا جائے گا۔
لیکن یہ کہ کس چیز سے اطمینان حاصل ہوا؟ ہمیں پرانے اسٹرکچرز کی شناخت تھی ،اگرچہ پہلے زمانے کے انجینئرز کے پاس فقط ابتدائی نقشہ ہوتا تھا لیکن ان کی کوشش یہ تھی کہ حرم امام رضا(ع) میں بہترین چیز تعمیر ہو جس کی وجہ سے عمارتوں کو مضبوطی سے تعمیر کیا گیا تھا۔
ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کے لئے ہم نے ایک ستون پر ٹیسٹ کیا جس کے بعد ہم نے یہ کہا کہ ہم اس پرانی عمارت پر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
یہ سب کچھ اس خام نقشے اور ٹیسٹ کی گئی دستاویزات کی بدولت ممکن ہوا ، اگرچہ ہم نے اس منصوبے کے لئے ملک کے ماہر انجینئرز سے بھی مشاورت کی اور رواق امیرالمؤمنین (ع) کی تعمیر کے لئے تمام آپشنز کا بغور جائزہ لیا اور مختلف طریقوں سے یہ ثابت کیا کہ یہ کام ممکن ہے اور ہم نے اسے آخری مرحلے تک پہنچایا۔