آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کے سربراہ کا دفتررہبرانقلاب اسلامی کے شعبہ بین الاقوامی امور اور ارتباطات کے سربراہ کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ثقافتی سفارت کاری کے مواقع اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔
اس اجلاس کے آغاز میں آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ فقیہ اسفندیاری نے ادارہ بین الاقوامی امور کی
بین الاقوامی سطح پر سرگرمیوں، مقاصد اور جاری منصوبوں کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے اس شعبے کے فعال منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں جامع بین الاقوامی نظام،جامع بین الاقوامی دستاویز،رضوی سفارت کاری،لائق اور قابل افراد کی سفارت کاری،بین الاقوامی پیشروؤں کے مقدس اہداف کے منصوبہ کی تشریح ،بین الاقوامی سطح پر سہولیات کی فراہمی اوربین الاقوامی سطح پر زیارت کا سیکریٹریٹ شامل ہیں ،ان کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں عالم اسلام کے مابین فکری اور ثقافتی رشتوں کو مستحکم بنانے کے مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوں گے۔
بین الاقوامی سرگرمیوں پر تہذیبی اور اسٹریٹجک پالیسیوں کے ساتھ نگاہ کرنے کی ضرورت ہے
اجلاس کے دوران دفتررہبرانقلاب اسلامی کے شعبہ بین الاقوامی اور ارتباطات کے سربراہ ڈاکٹر سید مہدی مصطفوی نے آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آستان قدس رضوی جیسے مجموعے کو بین الاقوامی سرگرمیوں میں اسٹریٹجک اور تہذیبی نقطہ نظر اپنانا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ آستان قدس رضوی اپنی دینی و ثقافتی منزلت کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کے سافٹ پاور کو فروغ دینے اور رضوی سفارت کاری کے عملی نفاذ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے ۔
جناب مصطفوی نے گفتگو کے آخر میں اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اگر انٹرنیشنلائزیشن کو قومی و ثقافتی میدان میں نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک ناقابل تلافی غلطی ہوگی ،انہوں نے اس بات زور دیا کہ کہ بین الاقوامی پہلوؤں کو مستقل اور منظم انداز میں ثقافتی ارتباطاتی اور مواصلاتی پالیسیوں کا حصہ بنایا جانا چاہئے ۔