آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آج امام رضا(ع) کا حرم عزادار زائرین سے بھرا ہوا ہے جن کی آنکھیں اشک بار ہیں اور وہ مظلوم کے سوگ میں رو رہے ہیں،وہ مظلوم جس کا مقتل امام رضا(ع) نے صدیوں پہلے روایت کیا تھا۔
وہ زخم جو کبھی پرانا نہیں ہوتا
یہ مصیبت اتنی سنگين ہے کہ کوئی قلم اور کوئی زبان اسے بیان کرنے کی تاب نہیں رکھتی۔ جو کچھ ہم نے ان 14 صدیوں میں سنا اور جس پر روئے ہیں ، اہلِ دل کی زبان میں وہ اس رنج کا صرف ایک گوشہ ہے جو اہلِ بیتِ رسول (ص) پر گزرا، اور یہ امام حسین (ع) اور ان کے پاک خاندان اور عظیم اصحاب کی مصیبت کے پہاڑ کے مقابلے میں ایک تنکے کی مانند ہے۔
حریم خورشید میں سرخ ترین واقعے کی روایت
شہدائے کربلا کے درد ناک مصائب کا سلسلہ عاشورا کی صبح کے ساتھ ہی حرم مطهر رضوی کے رواق امام خمینی (رح) میں شروع ہوگیا۔ صبح 9 بجے سے، جب سورج آسمان کے وسط میں پہنچ رہا تھا، تو مشہد مقدس کے امام جمعہ اور خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندہ آیت اللہ سید احمد علم نے زائرین کے شاندار اجتماع میں تاریخی منابع و ماخذ کے حوالے سے سیدالشہداء (ع) کا مقتل سنایا اور زائرین و مجاورین کے دلوں کو کاروانِ غریبِ کربلا سے ہم سفر کر دیا۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے اشکوں کو ایمان کی نشانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خیال کریں کہ اس وقت کربلا میں ہیں ،جلتے ہوئے خیموں کےپاس کھڑے ہیں اور اس واقعے کو 10 محرم کی صبح سے لے کر امام کی غریب شام اور مظلومانہ شہادت تک اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم کریں۔
انہوں نے گہرے سوز کے ساتھ اس نکتے پر زور دیا کہ یہ رونا محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ اس حق کی مظلومیت کی گواہی دینا ہے جو نینوا میں ذبح کر دیا گیا۔
غریب طوس کی وصیت پر عمل
اشک بار آنکھوں کے ساتھ امام رضا(ع) کے اس فرمان کا تذکرہ "یَا ابْنَ شَبِیبٍ إِنْ کُنْتَ بَاکِیاً لِشَیْءٍ فَابْکِ لِلْحُسَیْنِ..." اے فرزند شبیب! اگر کسی چیز پر رونا چاہتے ہو تو حسین پر گریہ کرو کیونکہ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا گیا ۔
گویا آج خود امام رضا (ع) اس مجلس میں تشریف فرما ہیں اور اپنے زائرین کو اپنے جدِ امجد حسین (ع) کے مصیبت پر رونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ کربلا اور طوس کا یہ رشتہ آج کی مقتل خوانی میں واضح طور پر جلوہ گر ہوا، جہاں ہر ہر آنسو امامِ رئوف (ع) کی اس وصیت پر لبیک تھا۔
حقیقت میں آنکھ سے گرنے والا اشک کا ہر قطرہ امام ہشتم(ع) کی پکار کا جواب ہے ۔
مجلس عزاء کے اختتام پر ذاکر اہلبیت(ع) جناب امیر عارف نے مرثیے اور مصائب پڑھے ،زائرین نے ٹوٹے ہوئے دلوں اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ ’’لبیک یا حسین(ع)‘‘ کہتے ہوئے یہ عہد کیا کہ وہ کبھی اس مقتل کو فراموش نہیں کریں گے۔
آج نینوا طوس سے جڑ ہوا تھا ،حرم امام رضا(ع) میں عاشورا کی مقتل خوانی محض ایک روایت نہیں بلکہ ایک عہد ہے جو صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی دلوں میں باقی ہے ۔
زائرین اشک بار آنکھوں کے ساتھ’’اعظم اللہ اجورنا بمصابنا الحسین(ع)‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے حرم سے باہر تشریف لے گئے لیکن ان کی روحیں کربلا میں رہ گئی تھیں ۔
عاشورا یہی ختم نہیں ہوا بلکہ منتقم خون حسین(ع)کے آنے کی تڑپ شروع ہوئی ہے جس کے ظہور میں تعجیل کے لئے مقتل خوان نےدعا منگوائی۔