آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : 34
12:28

2025/10/04

حرم امام رضا(ع) کےجوار میں مرحوم استاد محمود فرشچیان کی یاد میں تقریب کا انعقاد

حرم امام رضا(ع) کےجوار میں مرحوم استاد محمود فرشچیان کی یاد میں تقریب کا انعقاد
آستان قدس رضوی کے متولی کی موجودگی میں ایرانی فن کے درخشاں ستارے مرحوم استاد محمود فرشچیان کے لئے حرم امام رضا(ع) کے جوار میں یادگاری تقریب منعقد کی گئی۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ دو ستمبر2025 شب  رحلت حضرت فاطمہ معصومہ(س) کے موقع پر آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے شیخ طبرسی ہال میں استاد محمود فرشچیان کی یاد میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں استاد محمود فرشچیان کے گھروالوں،اورملکی حکام سمیت آستان قدس رضوی کے متولی نے بھی شرکت فرمائی۔ 
تقریب کے دوران آستان قدس رضوی کےمتولی آیت اللہ احمد مروی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استاد فرشچیان ایسے آرٹسٹ تھے جنہوں نے اپنے آرٹ کو ایمان اور اچھے کاموں اور لافانی انسانی اقدار کی خدمت میں استعمال کیا اور ان کے فن پارے خدائی عشق اور اہلبیت(ع) کے نور کا مظہرہیں ۔ 
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ خداوندمتعال کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام ’’المصوّر ہے (تصویر بنانے والا) ، فنکار اللہ کی مصوّریت کا ایک جلوہ ہوتا ہے ،جس طرح اللہ نے خود کو پہچنوانے کے لئے عالمِ ہستی کو انتہائی خوبصورتی اور نظم کے ساتھ بنایا تاکہ انسان کے ذہن سے جہالت اور تاریکیوں کے پردے ہٹا دے ، اسی طرح فنکار بھی اپنے قلم اور تصویر کے ذریعے حقائق، اقدار، فضائل اور پاکیزگیوں کی نمائش کرتا ہے اور فن کے سانچے میں ڈھال کر ان عالی ترین انسانی مفاہیم کو مجسم کرتا ہے ۔ 
آستان قدس رضوی کے متولی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس کائنات کا حقیقی آرٹسٹ خداوند متعال ہے اور ہر وہ فنکار جو کائنات کی خوبصورتیوں کو مجسم کر رہا ہے وہ خدائی مصوریت کا مظہر ہے ،سچا آرٹسٹ خدا کی صفت مصوریّت کا مظہر ہے ۔ 
انہوں نے استاد فرشچیان کے مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ یادگاری تقریب فقط ایک عظیم ،بے مثال اور با ایمان آرٹسٹ کے اعزاز میں نہیں ہے بلکہ یہ خود آرٹ کی تکریم و تجلیل ہے  ۔
آیت اللہ مروی کا کہنا تھا کہ استاد فرشچیان محض ایک ماہر مصور یا ایک توانا تصویر ساز نہیں تھے؛ وہ ایک مومن فنکار، ایک بصیرت رکھنے والے عارف، اور ایک الٰہی مصور تھے جن کی اہل بیت عصمت و طهارت (ع) سے عقیدت و محبت ان کے تمام فن پاروں میں موجزن ہے۔
انہوں نے اس ممتاز فنکار کے کچھ لازوال فن پاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی رضا(ع) اور حضرت امام حسین (ع) کی ضریح مطہر کا بے مثال ڈیزائن ان کی دلدادگی اور محبت کا ایک واضح نمونہ ہے ، بلا شبہ، ‘عصر عاشورا’ اور ‘ضامن آهو’ جیسے ایسے شاندار اور لازوال شاہکار تخلیق کرنے میں، اہل بیت عصمت و طهارت (ع) کی پاکیزہ روحیں ان کی مددگار اور یاور رہی ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے مزید یہ کہا کہ‘ایک فنکار کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہ نہیں ہے کہ اس کے فن پارے دنیا کے سب سے بڑے گیلریوں میں نمائش کے لیے پیش کیے جائیں؛ بلکہ سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اس کا فن زمین کے سب سے مقدس اور ملکوتی مقام پر، امامان معصوم (ع) کے بدن مبارک کے ساتھ، لازوال ہو جائے، اور یہی وہ اعزاز ہے جو استاد محمود فرشچیان جیسے فنکار کو نصیب ہوا۔
آستان قدس رضوی کےمتولی نے استاد محمود فرشچیان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بابرکت زندگی میں نہ صرف ایران کے مصور سازی جیسے عظیم ورثے کا تحفظ کیا بلکہ اسے بلندیوں تک پہنچایا،ایران کے مصوری سازے کے بڑے بڑے مکتب جیسے ہرات، تبریز اول اور دوم، شیراز اور اصفہان یہ سب کسی نہ کسی ایرانی آرٹ کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن استاد فرشچیان واحد ممتاز معاصر آرٹسٹ تھے جنہوں نے ان تمام جلووں کو اپنے وجود میں اکھٹا کیا اور اپنے فن کو کسی خاص جغرافیائی دائرے سے ماورا ہو کر پیش کیا۔ 
آخر میں آیت اللہ مروی کا کہنا تھا کہ استاد محمود فرشچیان کی یاد ، نام اور فنکارانہ کارنامے ہمیشہ لازوال رہیں گے اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔ 
تقریب کےدوران آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کےسربراہ عبد الحمید طالبی نے بھی استاد محمود فرشچیان کو خراج عقیدت پیش کی اور کہا کہ استاد فرشچیان نے امر اہلبیت(ع) کو زندہ رکھنے اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی کے علمی و ثقافتی مشیر محمد رضا مخبر نے استاد محمودفرشچیان کا تعارف کرانے کے لئے آستان قدس رضوی اور یونیورسٹی کی سطح پر خصوصی نشستوں کے انعقاد پر زوردیا۔ 
تقریب کے دوران استاد محمود فرشچیان کے چند ایک فن پاروں سے نقاب کشائی بھی کی گئی اور آخر میں استاد محمود فرشچیان کی زوجہ محترمہ نے استاد کے ذاتی سامان کا ایک مجموعہ آستان قدس رضوی کے متولی کو پیش کیا تاکہ اسے حرم کے میوزیم میں اس ممتاز فنکار کے عطیہ کردہ فن پاروں کے ہال میں زائرین و مجاورین کے لئے نمائش کے طور پر رکھا جاسکے۔ 
اس دوران آستان قدس رضوی کے متولی کی جانب سے استاد کی اہلیہ کو قیمتی اور متبرک تحائف بھی پیش کئے گئے ۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • مدیر کی پسند
  • تازہ ترین خبریں۔
ایرانی اور عراقی عوام، اسلام اور مقدسات کے دفاع میں ہم عہد اور ہم سفرہیں دشمن ایران اور عراق کے درمیان پائے جانے والے گہرے رشتے کو توڑنے کے درپے ہے؛آیت اللہ احمد مروی عراقی قبائل کے سرداروں کی حرم امام رضا (ع) میں حاضری مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال - ۱ مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال 2 حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان خواتین کےلئے مجلس عزاء کا انعقاد حرم امام رضا(ع) کے بست شیخ بہائی کا افتتاح آستان قدس رضوی اور علمی وثقافتی تعاون کی توسیع میں شہید صدر عالمی ایوارڈ کی کمیٹیوں کی سرگرمیاں اردو زبان خواتین کے لئے حرم امام رضا(ع) میں مجلس عزاء کا انعقاد مشہد کے ہوائی اڈے پر حرم مطہر رضوی کے خدام کی طرف سے عراقی قبائلی سرداروں کا استقبال ہیلتھ پر مبنی خدمات کے بہترین قومی ایکسپورٹر کے عنوان سے رضوی اسپیشلٹی ہاسپٹل کا انتخاب عالمی سائنسی اولمپیاڈکے 60 میڈلز جیتنے والے طلبا اور قومی داخلہ ٹیسٹ کے ٹاپ رینک ہولڈرز کو حرم امام رضا(ع) میں خراج تحسین علم و ترقی کی راہ میں خدا سے رابطہ برقرار رکھیں؛ آیت اللہ احمد مروی اہلبیت(ع) کی محبت ، ایرانی اور عراقی عوام کے مابین نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے؛آیت اللہ احمد مروی ایران اور عراق کا محاذ ایک ہی ہے؛ شیخ حسن السعدی شعبہ بین الاقوامی امور میں دارالعلم کا سلسلہ علمی مرکز تک قم یونیورسٹی میں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کے اجلاس کے انعقاد کے تقاضوں کا جائزہ لیا گیا عراق کے موکب داروں نے حرم امام رضا(ع) کے رواق دارالذکر میں بھائی چارگی کا نعرہ بلند کیا ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے صلے میں عراقی موکب داروں کی تجلیل و تکریم کے لئے تقریب کا انعقاد جب دنیا کے معمار کسی صدمے کو تسکین دینے کے لئے ہم آواز بن جاتے ہیں عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی پچیسویں پری کانفرنس کا قم میں انعقاد