اس سمجھوتے پر دستخط ایران کے شمال مشرقی علاقے میں ایرانی وزارت خارجہ کے نمائندے ارباب خالص اور افغانستان کے بین الاقوامی شفاخانہ حبیب یار کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز نیز مشہد کے رضوی ہسپتال کے سربراہ کی موجودگی میں ہوئے ۔
اس سمجھوتے کی بنیاد پر مشہد کا اسپیشلسٹی رضوی ہاسپیٹل ان مریضوں کا علاج کرے گا جو افغانستان کے شفاخانہ حبیب یار سے یہاں بھیجے جائيں گے اور ایسے افغان مریضوں کو طبی خدمات اور سہولیات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی
افغان مریضوں کی اسپیشل خدمات تک رسائی کے عمل میں آسانی
ڈاکٹر محسن محور نے اس سمجھوتے کی تقریب کے موقع پر مریضںوں کو اسپیشل خدمات اور علاج کے تعلق سے رضوی ہسپتال کی توانائی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون افغان مریضوں کو آسانی فراہم کرسکتی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سمجھوتے کا مقصد گردے کے مریضوں اور کڈنی کے ٹرانسپلانٹیشن کی خدمات کو فعال بنانا ہے اور یہ ساری خدمات مشہد کی میڈیکل یونیورسٹی کے زیرنگرانی انجام پائيں گي ۔
رضوی ہسپتال کے سربراہ نے کہا کہ اس توانائی کے حصول کی صورت میں دور دراز کے ملکوں کے مریضوں کے سفر میں مشکلات میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان کے درمیان علاج و معالجے کے میدان میں تعاون اور اسی طرح ہیلتھ ٹوریسم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا جاسکتاہے۔
سائنسی اور معالجاتی تعاون میں توسیع
مشہد کے رضوی ہسپتال کے سربراہ نے اسی طرح سائنسی اور معالجاتی میدانوں میں تعاون کی توسیع کی گنجائشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سے طبی عملے کے درمیان بھی تعاون کو فروغ دینے کا راستہ ہموار ہوگا ۔