آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ عالمی کانگریس مؤرخہ28 دسمبر2025 کو تہران میں واقع امام صادق (ع) یونیورسٹی کے شہید مطہری ہال میں منعقد کی گئی جس میں الہیات، معارف اسلامی اور ارشاد کالج کے پروفیسر ڈاکٹر محمود کریمی،معارف اسلامی، ثقافت اور کمیونیکیشن کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا برزویی اور معارف اسلامی و اقتصاد کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمانی نے شرکت فرمائی۔
اجتماعی عقل؛ باہمی تعاون کی گمشدہ کڑی
الہیات،معارف اسلامی اور ارشاد کالج کے پروفیسر ڈاکٹر محمود کریمی نے اس پری میٹنگ کے آغاز میں ’’اجتماعی عقل‘‘ کی تشکیل کی بنیادی شرط باہمی مشاورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہلبیت کی تعلیمات سے مستفید ہونا،معاشرے کے مختلف طبقات سے آراء لینا حتی ماتحت افراد ہی کیوں نہ ہوں تاکہ کم سے کم غلطیاں ہوں اور ان میں شمولیت کا احساس پیدا کرنے اور ان کی آراء کو قبول کرنا ضروری ہے اور اکیلا فیصلہ کرنا تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔
جناب کریمی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مشورت صرف کسی نظریہ تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ ایک مشترکہ سوچ تک پہنچنے کا عمل ہے ، اس لئے وہ افراد جو فیصلہ سازی میں شریک ہوتے ہیں وہ عملدرآمد کے وقت بھی متحدہ رہتے ہیں وگرنہ وہ یہ کہتے ہوئے ذمہ داری سے بچ جاتے ہیں کہ ’’ہم سے مشورہ نہیں لیا گیا‘‘۔
یونیورسٹی کے اس پروفیسر نے اس بیان کے ساتھ کہ ہر بڑی تحریک کے لئے ’’اجتماعی عقل‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے کہا کہ امام رضا(ع) اپنے والد بزرگوار امام کاظم(ع) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امام کاظم(ع) کبھی کبھار اپنے غلاموں سے مشورہ کیا کرتے تھے اور اعتراض کرنے والوں سے کہا کرتے تھے کہ کہ ’’ممکن ہے خدا کسی مسئلے کا حل ان کی زبان پر جاری کرے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اس توحیدی نظر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مشورے کا دائرہ صرف ممتاز اور قابل افراد تک محدود نہیں ہونا چاہئے ۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ روایات میں تین طرح کے لوگوں سے مشورہ لینے سے منع کیا گیا ہے : بزدل، کنجوس اور لالچی ؛ کیونکہ بزدل رکاوٹ بنتا ہے اور کنجوس انسان ہدف تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتا ہے اور لالچی انسان برائیوں کو خوبصورتی کے روپ میں دکھاتا ہے ۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ انسانی کرامت اور مواسات و ہمدردی اجتماعی تعاون کے اخلاقی اصول ہیں۔
خاموشی جب سونا بن جاتی ہے
معارف اسلامی ،ثقافت اور کمیونیکیشن کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا برزویی نے بھی اس پری میٹنگ کے دوران امام رضا(ع) کا عبد العظیم حسنی(س) کو لکھے جانے والے خط کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاموشی کا معنی انفعال نہیں ہے بلکہ ایک فعال اور مؤثر طرز ابلاغ ہے ۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا یہ خط ایک منشور ہے کمیونیکیشن کے لئے جس میں حضرت نے اپنے پیروکاروں کو بغیر ضرورت کے بحث و جدال اور بے فائدہ گفتگو سے باز رہنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔
جناب برزویی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے مطابق 67 فیصد انسانی رابطوں کا اثر غیرکلامی ہے ۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جو محبت لاتی ہے اور ہر بھلائی کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔
انہوں نے اسلامی تعلیمات اور فرامین پیغمبر اسلام(ص) اور لقمان حکیم کے اقوال کی روشنی میں کہا کہ اگر گفتگو چاندی ہو تو خاموشی سونا ہے ۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ حضرت امام علی رضا(ع) کے فرمان کی روشنی میں خاموشی تفرقے سے بچنے اور بھائی چارے کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے ۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ خاموشی بھی ایک زبان ہے بس اسے سمجھنے والی سماعت چاہئے ۔
رضوی تعلیمات پر مبنی ’’معیشتِ متعالی‘‘ کے اجزاء کی تشریح
اقتصاد اور اسلامی معارف کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمانی نے اس پری میٹنگ کے دوران امام رضا(ع) کی تعلیمات پر مبنی ’’معیشتِ متعالی‘‘ کے اجزاء کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر میں معیشت محض نفع یا آسائش کا حصول نہیں بلکہ انسانی کمال اور دینی ارتقا کا وسیلہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مادی معیشت میں انسان اقتصاد کو صرف اپنے فائدے تک محدود بناتا ہے جبکہ معیشت متعالی میں انسان کو اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری سے مقیّد کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر سلیمانی کا کہنا تھا کہ رضوی رول ماڈل میں دولت آخرت کی سیڑھی ہے مقصد نہیں ہے ۔
انہوں نے مغربی نظریات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رضوی تعلیمات پر مبنی معاشی سرگرمیوں میں کرامت انسانی کا تحفظ اور اسراف سے پرہیز اور اجتماعی ذمہ داری ایسے آلات و ابزار ہیں جو انسانی کمالات کو ارتقاء دیتے ہیں اور حیات طیبہ تک پہنچنے کا راستہ ہیں ۔
رضوی تعلیمات کی بنا پر معیشت کے پانچ ارکان
ڈاکٹر سلیمانی نے معیشت کے پانچ ارکان ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سرگرمی کو روحانی ارتقا کا ذریعہ بنانا، انسان کی مختلف جہتوں میں توازن قائم رکھنا، خود شناسی اور خودشکوفائی کے مواقع فراہم کرنا، مواسات و بھائی چارگی کو رزق کے حصول میں محور قرار دینا اور فرد کی سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو پانچ اہم ارکان قرار دیئے۔