آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 23 دسمبر 2025 بروز منگل کو عالمی کانگریس حضرت رضا(ع) کی ساتویں پری میٹنگ بیروت میں منعقد کی گئی جس میں ابراہیمی ادیان کے دانشوروں نے شرکت فرمائی۔
معاصر اسلامی تفکر کی ماہر ڈاکٹر زینب مہنا نے ’’ادیان کے مابین گفتگو اور امام رضا(ع) کی سیرت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی اور اپنی تقریر میں مختلف سوالات اٹھانے کے بعد امام رضا(ع) کی سیرت کی روشنی میں مختلف ادیان کےمابین مناظروں پر تاکید کی۔
ڈاکٹر مہنا نے کہا کہ بسا اوقات ہم دوسروں کو ناراض نہ کرنے کے خوف سے اپنی دینی اصولوں کو بیان نہیں کرتے حالانکہ ابراہیمی ادیان کے مابین پائے جانے والے مشترکات کے ساتھ ساتھ اختلافی نکات پر بھی ادب و استدلال کے ساتھ مناظروں کی بھی ضرورت ہے ۔
انہوں نے امام رضا(ع) کا عیسائی راہنما جاثلیق کے ساتھ ہونے والے تاریخی مناظرے کو عقلانیت اور اخلاقیات کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی مناظرات مسلمانوں کے لئے دوسرے مذاہب سے گفتگو کا مثالی نمونہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حضرت امام علی رضا(ع) ہمیشہ اخلاقیات اور احترام کے ساتھ اپنے نظریے کو بیان فرماتے تھے ۔
عصرِ حاضر کے تناظر میں کرامت انسانی کی از سر نو تشریح کی ضرورت
علوم تربیتی و سیاسیات کے پروفیسر اور محقق ڈاکٹر طلال عتریس نے اس پری میٹنگ کے دوران سیرت امام رضا(ع) کی روشنی میں ’’کرامت انسانی‘‘ کے تصور کو نئے سرے سے بیان کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ عالمی کانگریس دراصل کرامت انسانی کے تحفظ سے جڑی ایک فکری تحریک ہے ۔
ڈاکٹر عتریس نے مغربی تہذیب پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’آخر انسان کی عزت و کرامت کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے کہ مغرب نے اسے صرف مادی مفہوم تک محدود کر دیا ہے ؟‘‘،انہوں نے کہا کہ امام رضا(ع) کی تعلیمات اور مغربی فکر کا موازنہ ایک نیا فکری زاویہ پیدا کر سکتا ہے ۔
مقاومت کے موضوع پر گفتگو امام رضا(ع) کے افکار سے متاثر ہے
ڈاکٹر زینب محمد کاظم نے ’’عدالت رضوی‘‘ کے موضوع پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا(ع) کا سیاسی اور فکری مکتب مزاحمت و مقاومت کی گفتگو پر گہرا اثررکھتا ہے ۔
امام رضا(ع) کی تعلیمات نے ایسے فکری دھارے اور تحریکیں پیدا کیں جنہوں ںے امام خمینی(رہ) جیسے انقلابی اور مزاحمتی راہنماؤں کے نظریات پر اثر ڈالا۔
انہوں ںے مزید یہ کہا کہ رضوی مکتب نے نہ صرف مقاومت اور مزاحمت بلکہ مختلف سیاسی اور فکری تحریکوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
عقل کا ٹوٹا ہوا ٓئینہ؛حضرت عیسی(ع) اور حضرت امام علی رضا(ع) کا کلام آج کے دور میں کیسا جانا جاتا ہے
کلام اور فلسفہ کے استاد ڈاکٹر خضر نبھا نے اس پری میٹنگ ک دوران گفتگو کرتے ہوئے شاعرانہ انداز میں انسان کو ایک ایسا آئینہ قرار دیا جوجب اپنے ہی خٰیالات کا اسیر ہو جائے تو ٹوٹ جاتا ہے ۔
ڈاکتر نبھا نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر حضرت عسیٰ یہاں ہوتے تو کیا ہم ان کی کلام کو مکمل طور پر سن پاتے یا اگر امام رضا(ع) حاضر ہوتے تو اجتماعی عقل ان کی باتون کا ادراک کرسکتا۔
انہوں نے حضرت عیسیٰ اور امام رضا(ع) کی شہادت کو آئینہ ٹوٹنے کا مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے جدید انسان نے انبیاء اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روحانی بصیرت کو سمجھنے کی صلاحیت تقریباً کھو دی ہے ۔
واضح رہے کہ یہ پری میٹنگ عالمی کانگریس حضرت امام رضا(ع) کی سائٹ gcir.razavi.ir سے براہ را ست نشر کی گئی ۔