آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 30 دسمبر2025 بروز منگل کو ولادت امام محمد تقی(ع) اور نئے سال2026 کے آغاز اور ولادت حضرت عیسیٰ(ع) کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کی مرکزی لائبریری کے ’’اندیشہ‘‘ ہال میں تقریب منعقد کی گئی جس میں آرگنائزیشن آف لائبریریز ،میوزیمز اور آستان قدس کے دستاویزاتی مرکز کے ماہرین اور چند ایک سربراہان نے شرکت فرمائی۔
اس تقریب کے دوران چمڑے کے 93صفحات پر بارہویں صدی عیسوی سے متعلق مقدس قلمی نسخوں کے متون سے نقاب کشائی کی گئی یہ صفحات لکڑی کی جلد میں تیار کئے گئے تھے اس کے علاوہ یہ قلمی نسخہ خوبصورت خطاطی و فنّی تزئینات سے بھی مزیّن ہے ۔
رضوی خزانے میں ابراہیمی ادیان کے قیمتی ورثے کی حفاظت
آستان قدس رضوی کے شعبہ مخطوطات کے ڈائریکٹر جناب رمضان علی ایزانلو نے اس قلمی نسخے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدس کتاب ’’امھری‘‘ زبان میں اور ’’گعزی‘‘ حروف الف باء کے ساتھ تحریر شدہ ہے ۔
واضح رہے کہ یہ کتاب اناجیل اربعہ یا عیسائیت کے دیگر اہم اور مقدس متون پر مشتمل ہے ۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ یہ اثر ارتھوڈوکس عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے ،خط گعزی قدیم حبشہ یعنی ایتھوپیا کی عوام سے متعلق ہے ،اس خط کے تین قیتمی نسخے رضوی خزانے میں موجود ہیں ۔
جناب ایزانلو نے کہا تاریخ میں مقدس کتابوں کے ساتھ دو طرح کے رویّے دیکھے گئے ہیں کچھ نے انہیں نذرِ آتش کیا اور کچھ نے انہیں محفوظ رکھا ، اور آستان قدس رضوی نے ہمیشہ دوسرا راستہ اپناتے ہوئے اسلامی اور شیعہ قیمتی نسخوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس خزانے میں دیگر ابراہیمی ادیان کی میراث کو بھی محفوظ رکھا۔
آستان قدس رضوی کے شعبہ مخطوطات کے ڈائریکٹر نے ابراہیمی ادیان کے قیمتی ورثے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رضوی خزانے میں اس وقت عیسائیت کے 603 قلمی اور سنگی طباعت کے نسخے موجود ہیں اور یہودیوں کے 178قلمی اور سنگی نسخے اس خزانے میں موجود ہیں۔
جناب ایزانلو نے اس تقریب کے دوران حضرت امام محمد تقی الجواد(ع) اور حضرت عیسیٰ(ع) کے مابین پائی جانے والی بعض مشابہتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس امام کو ’’عیسی ثانی‘‘ بھی کہا جا تا ہے ۔
رضوی لائبریری میں فنِ مرمت کی تاریخ
آستان قدس رضوی کے ثقافتی آثار کی مرمت کرنے والے شعبے کے ڈائریکٹر سید علی طباطبائی نے بھی اس تقریب کے دوران گفتگو کی اور کہا کہ رضوی لائبریری میں تعمیر و مرمت کا کام پانچ صدیوں پر محیط ہے،دستاویزات کے مطابق آثار کی مرمت کا کام صفوی دور سے جاری ہے ۔
جناب طباطبائی نے مزید یہ بتایا کہ اگرچہ یہ شعبہ پہلے فقط دستاویزات اور مخطوطات کی مرمت پر مرکوز تھا مگر انقلاب اسلامی کے بعد سے اس کے دائرہ کار میں وسعت دی گئی۔
انہوں نے حاضرین کوعیسائیت کے اس قلمی نسخے کی مرمت کےتمام عملی مراحل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی آثار کی حفاظت در اصل آئندہ نسلوں کے فکری ورثے کی حفاظت ہے ، اسی موقع پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی جس میں آستانِ قدسِ رضوی کے شعبۂ مرمت کی سرگرمیوں اور مذکورہ نسخے کی تجدید کے مراحل کو دکھایا گیا۔
قابل توجہ ہے کہ اس تقریب میں حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کے جشنوں کے انعقاد سے متعلق تاریخی دستاویزات سے بھی نقاب کشائی کی گئی اور ان کے ڈیجیٹل آرکائیو کا بھی تعارف کرایا گیا ، یہ تقریب 2026 عیسوی کے نئےسال کے آغاز کا ایک نمایاں اورروحانی باب قرار پایا۔